اسد عمر کا استعفیٰ،محنت کشوں پر بڑے حملے کی تیاری اور آمریت کے بڑھتے ہوئے خطرات

0
70

تحریر:شہزاد ارشد
وفاقی کابینہ میں ہونے والی تبدیلیوں میں سب سے اہم اسدعمر کا استعفی اوربریگیڈیراعجاز شاہ کو وزیرداخلہ بنانا ہے۔اسد عمر تحریک انصاف کے نئے پاکستان کے پوسٹر بوائے تھے اس کو سیاست میں نئی ہوا کا جھونکا اور عمران خان پاکستان کے معاشی مسئلہ کا حل بتاتے تھے۔تحریک انصاف کی حکومت کے قیام سے پہلے اسے شیڈو وزیر خزانہ کہا جارہا تھا۔اب شیخ حفیظ کو مشیر خزانہ بنایا گیا ہے جو مشرف دور میں نجکاری اور زرداری حکومت میں وزیر خزانہ رہ چکے ہیں۔
کرپشن کا خاتمہ اور گڈ گورنس:
عمران خان پاکستان کے تمام مسائل کا حل کرپشن کے خاتمے اورگڈگورنس کو قراد یتے ہیں اوران کے مطابق ان کے پاس ایسے باصلاحیت لوگوں کی ٹیم ہے جس سے وہ پاکستان تمام مسائل خاص طور پر معاشی مسائل کو حل کردئے گی۔اس میں اسد عمر تو نئے پاکستان کا قابل فخر چہرہ تھے جومعیشت میں ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں کے دعوے دار تھے۔اس کے علاوہ بھی بہت سارے بلند آہنگ نعرے تھے۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ تمام تر غیر یقینی صورتحال کہ باوجود حکومت سنبھالنے اور وزیر خزانہ بننے سے پہلے ہی اسد عمر نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا اعلان کردیا تھا ۔تحریک انصاف کی حکومت کے قیام کے بعد جس طرح وزیر اعظم عمران خان سادگی اور قربانی کی بات کررہے تھے یہ واضح تھا کہ حکمران طبقہ اس نظام کے بحران کا تمام تر بوجھ محنت کش طبقہ پر ڈالنا چاہتا ہے۔
مہنگائی،بیروزگاری اور نجکاری : 
عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد قومی معیشت کے مفاد کے نام پر عوام پر مہنگائی اوربے روزگاری کے بدترین حملے کئے گئے،روپیہ کی قدر میں 35فیصد کمی کی گئی اور سرمایہ داروں کو اربوں روپے کی ٹیکس چھوٹ دی گئی اور ترقیاتی بجٹ میں بڑے پیمانے پر کٹوتی کی گئی۔نجکاری کو ویلتھ فنڈ کا نام دیا گیاجس کے تحت دوسو سے زائداداروں کی نجکاری کا فیصلہ کیا گیااورلاکھوں محنت کشوں کی نوکریاں ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور ڈیلی ویجزپر کام کرنے والوں کو نوکریوں سے برطرفی کے احکامات بھی جاری کردئے گئے لیکن محنت کشوں کی مزاحمت کی وجہ سے حکومت اس میں کامیاب نہ ہوسکی۔یوٹیلیٹی سٹور کے ہزاروں محنت کشوں کی برطرفی اور نجکاری کے خلاف ہونے والی محنت کشوں شاندار جدوجہد کی وجہ سے حکمران طبقہ پیچھے ہٹنے پر مجبورہوگیا۔
آئی ایم ایف کا پروگرام اورسامراجی تضادات:
تحریک انصاف کی حکومت کے قیام سے پہلے آئی ایم ایف کو مسترد کرنے اور خود کشی کے اعلان کے باوجود اسد عمر اور تحریک انصاف کی حکومت آئی ایم ایف کے پاس جانے پر مجبور ہوئی اور اس کی تمام پالیسیوں پر عمل پیرا ہے اس کے باوجود اس کو جس ذلت کا سامنا کرنا پڑا اس کی وجہ امریکہ اور چین میں بڑھتی ہوئی سامراجی کشمکش ہے جس میں پاکستان تیزی سے امریکہ کے اثر سے نکل رہا تھا اور چین کی بالادستی بڑھتی جارہی ہے یوں پاکستان کے محنت کش اور غریب عالمی سرمایہ داری کے بحران اور تضادات کی قیمت چکا رہے ہیں۔
کرپشن نہیں عالمی سرمایہ داری کا بحران:
پاکستان کی معیشت کا بحران صرف حکمران طبقہ کی نالائقی اور کرپشن میں نہیں ہے بلکہ اس کی بنیادیں عالمی سرمایہ داری کے گہرے ہوتے ہوئے بحران اور پاکستان کی نیم نوآبادیاتی پوزیشن کی وجہ سے ہے جس کی وجہ سے پاکستان دوالیہ کے قریب پہنچ چکا ہے۔آئی ایم ایف کے مطابق اگلے سال اس کی شرح نمو2.4تک گرجائے گئی،جبکہ اس سال دس لاکھ لوگ بے روزگار ہوئے ہیں اور چالیس لاکھ لوگ غربت کی لیکر سے نیچے چلے گئے ہیں۔
سرمایہ دارانہ بحران کا حل آمرانہ طرز حکومت:
تحریک انصاف کی حکومت عوام میں تیزی غیر مقبول ہورہی ہے اور اس کے ساتھ سرمایہ دار طبقہ میں بھی معاشی اور سیاسی فیصلوں پر تضادات بڑھتے جارہے ہیں ۔اس صورتحال میں اسد عمر کا استعفیٰ جہاں نظام کے گہرے ہوتے ہوئے بحران کو ظاہرکررہا ہے وہاں حفیظ شیخ کا مشیر خزانہ اور اعجاز شاہ کا وزیر داخلہ بننا حقیقت میں ریاست کی طرف سے مداخلت ہے جوموجود صورتحال میں مزید سخت اقدامات کی حامی ہے۔غیر منتخب مشیروں اور ٹیکنوکریٹس کی کابینہ میں شمولیت صدارتی نظام کی طرف بڑھتے ہوئے اقدامات ہیں جس میں صدر جس کو چاہے وزیر یا مشیر مقررہ کردے یعنی حکمران طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ معیشت کابحران اس قدرشدید ہے کہ اسے آمرانہ طریقہ سے ہی حل کیا جاسکتاہے۔حفیظ شیخ کا فری ہینڈ کا مطالبہ اس بات کو ہی واضح کررہا ہے کہ حکمران جو حل مسلط کرنا چاہتا ہے وہ اس سے کہیں شدیدتر ہوگا جس کی ابتداء تحریک انصاف کی حکومت کرچکی ہے لیکن جس کی تکمیل کے طریقہ کار پر اس میں کشمکش تھی۔
آئی ایم ایف کاحل:
یہ وہ حل ہے جو آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک پچھلے تین دہائیوں سے تجویز کررہے ہیںیعنی نیو لبرل ازم جس پر ایک تسلسل سے عمل بھی ہورہا ہے۔اس حل کا مقصد عالمی سرمایہ داری کے استحصال اور اس کے وسائل کی لوٹ مار کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنا جس سے مقامی اشرافیہ بھی مستفید ہوتی ہے لیکن اس سے پاکستان کی معیشت بحران سے نکلنے کی بجائے اس میں مزید دھنستی جارہی ہے۔پچھلی تین دہائیوں سے یہی کھیل کھلاڑی بڑے طریقہ سے کھیل رہے ہیں ہر چند سال بعد اس کے کھیل کا دوبارہ آغاز قومی معیشت کے نام کیا جاتا ہے اور اس کا بوجھ محنت کشوں،شہری اور دیہی غریبوں پر ڈالا دیا جاتاہے۔یوں اعداوشمار چاہے کچھ بھی ہوجائیں محنت کش عوام کے لیے کچھ بھی نہیں بدالتا سوائے اس کے کہ ان کی زندگی مزید دشوار ہوجاتی ہے۔
نیولبرل حملوں کے خلاف جدوجہد کرو:
تحریک انصاف کی بورژواء پاپولسٹ حکومت کوشش کرئے گئی کہ اس غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ کرئے اس سے مراد یہ ہے کہ حکمران طبقہ اپنے تضادات پر قابو پا کر محنت کشوں اور جمہوری حقوق پر بڑے حملے کرئے گا۔اس لیے لیفٹ اور محنت کشوں کو جہاں حفیظ شیخ کی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت کا لائحہ عمل بنانا ہوگا اس کے ساتھ جمہوری حقوق کی جدوجہد سے بھی جڑنا اور اس کے لیے جدوجہد کرنا ہوگئی تاکہ آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کیا جاسکے یعنی عالمی سامراج کی کشمکش اور پاکستانی سرمایہ داری کو درپیش مسائل اوراس کے خلاف مزاحمت کو محنت کش طبقہ کی مہنگائی ،بے روزگاری اور نجکاری کے خلاف جدوجہد سے منسلک کرنا ہوگا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here