اوکاڑہ مزارعین کی جدوجہد اور ریاستی جبر

0
79

تحریر:شہزاد ارشد
اوکاڑہ کے مزارعین کی مالکی یا موت کی جدوجہدکی کامیابی پر فوج اور انتظامیہ کی طرف سے ہمیشہ ہی حملے کیے جاتے ہیں،لیکن یہ تحریک ایک تسلسل سے اپنے مفادات کا دفاع کررہی ہے ،کسانوں نے اپنی زمین کا دفاع خون دے کرکیا ہے۔یہ جدوجہدایک دہائی سے زیادہ عرصہ پر محیط ہے اور تمام تر جبروتشدد،گھیراؤ اور گرفتاریوں کے باوجود جاری ہے۔
اس دفعہ تو ریاستی جبر کی ایک نئی مثال قائم کرتے ہوئے بڑی تعداد میں مزارعین کو گرفتار کیا گیا ،جس میں مہر عبدالستار اور دیگر قیادت شامل ہے۔ان پر بے تحاشہ تشدد کیا جارہاہے۔ان کے دیہات کی بجلی بند کردی جاتی ہے اور اگر کوئی کسان شہر میں جائے تو اسے تنگ اور گرفتار کرلیا جاتا ہے۔
نیشنل ایکشن پروگرام کا حقیقی چہرہ یہی ہے کہ یہ جنگ مخالفت کے نام پر فوج کی بالادستی میں اضافہ اور آپریشن کو پورے ملک میں پھیلانے کا باعث بن رہا ہے۔ا س کا ایک اظہار اوکاڑہ میں کسانوں کے حق ملکیت کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو راکا ایجنٹ قرار دیا جارہا ہے۔ایسے پمفلٹ اوکاڑہ کے دیہاتوں میں تقسیم کئے گے ہیں جوجو مہر عبدالستار اور انجمن مزارعین کی حق ملکیت کی جدوجہد کی بجائے ان پر انڈین ایجنٹ ہونے کا الزام لگا رہے ہیں۔
عوامی ورکرز پارٹی کے جنرل سیکرٹری فاروق طارق کے مطابق ’’آج میں انسداد دہشت گردی کی عدالت لاہور میں موجود تھا ۔میں اس وقت سکتے میں رہ گیا جب مہر عبدالستار جنرل سیکرٹری انجمن مزارعین پنجاب کو کمرہ عدالت میں دیکھا ۔ اس کو سخت حفاظتی انتظامات رکھنے والی ساہیوال جیل سے اس طرح لایا گیا کہ اس کا چہرہ سیاہ نقاب سے ڈھکا ہوا تھا ۔ 
ہماری طرف سے وکیل فاروق باوجوہ نے اعتراض کیا کہ وہ کمرہ عدالت میں بھی نقاب ڈال کر لایا گیا ہے جیسے کہ وہ کوئی سزا یافتہ دہشت گرد ہو۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج محمد الیاس کے حکم پہ چہرے سے نقاب اٹھادیا گیا تو ہم نے دیکھا کہ اس کا چہرہ زرد پڑگیا تھا ، شیو بڑھی ہوئی تھی اور ٹارچر کے آثار بھی نظر آرہے تھے ۔
مہر عبدالستار نے جج کو بتایا کہ اس جیل میں وہ واحد قیدی ہے جو سزا یافتہ نہیں ہے جبکہ وہاں پہ باقی سب سزا یافتہ مذہبی دہشت گرد بند ہیں ۔
اس نے جج کو بتایا کہ وہ کبھی بھی دہشت گردی یا ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث نہیں رہا اور وہ تو اوکاڑا ملٹری فارمز میں زمینوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کررہا تھا ۔
جج نے احاطہ عدالت میں اسے اپنی بیوی اور دو بچوں سے ملنے کے لیے دو منٹ عنایت کرڈالے‘‘۔
اس عرصہ میں مختلف دیہات میں پولیس مسلسل حملہ کررہی ہے،تاکہ باقی ماند قیادت کو گرفتارکرکے تحریک کا خاتمہ کیا جاسکے،لیکن کسان ان حملوں کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں۔فاروق طارق کے مطابق اس وقت انتظامیہ انجمن مزارعین کے چیرمین کی گرفتاری کے چھپے ماررہی ہے۔
اس صورتحال جہاں دیہاتوں میں کسان ریاستی جبر اور زمین کے حق کے لیے جدوجہد کررہے ہیں،وہاں لاہور اور اسلام آباد میں ہونے والے احتجاجات میں انجمن مزارعین کی خواتین کی بڑی تعداد شریک ہورہی ہے۔
ان حالات میں اوکاڑہ کے دیہات میں کسانوں کو کمیٹیوں میں منظم ہوکر جہاں اپنے مطالبات کے حق کی جدوجہد کو مزید مضبوط بنانا ہوگا وہاں شہروں کے اندار ٹریڈ یونین تحریک اور مظلوم اقوام کی جدوجہد سے مزارعین کی جدوجہد کو منسلک کرنے کی ضرورت ہے۔یوں ہی ہم اس ریاست کے جبر،آپریشنوں اور گرفتاریوں کے خلاف ایک متحدہ تحریک تعمیر کرسکتے ہیں۔یہ یکجہتی یوں بھی ضروری ہے کہ اس کے ذریعے مزدوروں اور کسانوں میں مظلوم اقوام کے خلاف نسل پرستی کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے اورمظلوم اقوام میں کے ساتھ طبقاتی جرٹ میں اضافہ کا باعث بن سکتی ہے۔اس طرح یہ بات واضح ہے کہ مظلوم اقوام،کسانوں ،مزدوروں کی جدوجہد میں یکجہتی ہی۴ ریاست اور سامراج کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرسکتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here