این ایس ایف کے ساتھیوں کو لال سلام اور کامیاب سنٹرل کنونشن پر مبارک باد

0
136

کراچی میں این ایس ایف کی سنٹرل کونسل کا اجلاس تنظیم سازی کے لیے ایک اہم قدم ہے جس میں پورے پاکستان سے طلباء شریک ہوئے اورا نہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان میں ترقی پسند طلباء تنظیم تعمیر کریں گئیں اور طلباء کے ایشوازء کے گردتحریکیوں کو منظم کرئیں گئیں۔یہ عہد ترقی پسند طلباء کی سیاست کے لیے انتہائی اہم ہے جب طلباء ایشوازپرء پچھلے عرصے میں اہم اتحریکیں بھریں ہیں۔اس ساتھ پاکستان میں جہاں تیزی کے ساتھ ریاست جمہوری حقوق پر حملہ آور ہے وہاں ہر طرف اس کے خلاف مزاحمت بھی جنم لے رہی ہے ،اس کا ایک اظہارپشتون تحفظ موومنٹ ہے اور ابھی سندھی طلباء میں بھی گمشدہ افرادکے حوالے سے ایک اہم تحریک جنم لے رہی ہے۔اس کا مطلب ہے کہ اگلے عرصہ میں جہاں این ایس ایف کو طلباء ایشوازء کے اردگرد کام کرنے کی ضرورت ہے اسی طرح اسے ان تحریکیوں سے بھی جڑنے کی ضرورت ہے اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ ان تحریکیوں میں بڑی تعداد میں مظلوم اقوام کے طلباء شامل ہورہے ہیں۔لیکن ان تحریکیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ان میں سوشلسٹ متبادل پیش کرنے کے لیے ضروری ہے کہ این ایس ایف کو انقلابی سوشلسٹ نظریات پر منظم کیا جائے۔یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ موجود صورتحال میں جہاں این ایس ایف کے طلباء پر یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ طلباء سیاست کو منظم کرئے اس کے ساتھ اسے مزدور تحریک کے ساتھ جڑنے اور اسے جوان جذبہ سے تعمیر کرنے کی ضرورت ہے کیوں یہ طبقاتی جڑت ہی ہے جو طلباء کے مسائل کے حل میں کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے اور یوں ہی این ایس ایف ایک بنیادی کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان میں انقلابی سیاست میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے لیکن ان اہم فرائض سے عہدبراہ ہونے کے لیے اسے ایک وسیع تر سوشلسٹ طلباء تنظیم کی تعمیر کی ضرورت ہے جو سرمایہ داری کے خاتمہ اور سوشلسٹ انقلاب پر یقین رکھتی ہو۔ایسی تنظیم جو یہ ذمہ داری ادا کرنا چاہتی ہے۔اس کا تنظیمی ڈھانچہ جمہوری مرکزیت پر مبنی ہونا چاہیے ہے جہاں طلباء کو اپنے مسائل اور اس کے حل پروگرام اور قیادت کو منتخب کرنے کی حقیقی آزادی اور مکمل جمہوریت ہونی چاہیے۔یہ بہت اہم ہے اس سے این ایس ایف کے ممبران جہاں ایک طرف نظریاتی طور پر پختہ ہوں گے اور آنے والے چیلنجز کے لیے تیار ہوں گے وہاں وہ این ایس ایف کوایک ایسی تنظیم کے طور پر نہیں لیں گئیں جہاں فیصلے طلباء کی بجائے کوئی اور ’’پارٹی،گروپ یا اشخاص‘‘ کرتے ہیں۔یہ ضرور ہوسکتا ہے کہ این ایس ایف نظریاتی طور پر کسی گروپ کے قریب ہو یہ اس کے نظریات کو قبول کرتی ہو لیکن اس کو ایک تنظیم کے طور پر آزادانہ طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ طلباء اپنے تجربات کے ذریعے درست فیصلوں اور نتائیج تک پہنچ سکیں اور اگر اس وجہ سے طلباء کچھ غلطیاں بھی کرتے ہیں تو اس میں کچھ غلط نہیں ہے یہ ان کی سیاسی تربیت کا ایک ذریعہ ہوگا ۔
ہم ایک دفعہ پھر این ایس ایف کی قیادت اور ممبران کو کامیاب کنونشن منعقد کرنے پر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔انہوں نے یہ کنونشن نہایت ہی مشکل حالات میں کامیابی سے منعقد کیا ہے یہ کنونشن پاکستان میں انقلابی طلباء کی تحریک کے لیے نہایت اہم ہے اور ان پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان میں انقلابی سوشلسٹ نظریات کو پروان چڑھایں۔یہ اس لیے بھی اہم ہے کہ آج جب سامراج کی کشمکش اورتضادات دنیا کو ایک ایسے عہد کی طرف دھکیل رہے ہیں،جہاں تحریکیں،انقلابات،ردانقلاب،رجعت اور حتی کے فاشزم کی قوتیں سامنے آرہیں۔ان حالات میں طلباء سیاست اور خاص کر ترقی پسند طلباء کی سیاست بہت مختلف اور اہم سوالات لیے ہوگی جن میں سرگرم مداخلت اور متبادل پیش کرتے ہوئے ہی این ایس ایف پاکستان میں طلباء کی سیاست میں قائدانہ کردار ادا کرسکتی ہے۔لیکن جیسا کہ ہم نے پہلے کہا اس کے لیے این ایس ایف پروگرام کو انقلابی سوشلسٹ نظریات پر مبنی ہونا چاہیے اور اس پروگرام میں اس کے ممبران کی تربیت ہونی چاہیے اور این ایس ایف کی موجود صورتحال میں جہاں اسے نئے طلباء کو ساتھ منسلک کرنے کی ضرورت ہے لیکن یہ جڑٹ صرف قومی بنیادوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے اسے عالمی سطح پر سٹوڈنٹس اور مزدور تحریک سے جڑنے کی ضرورت ہے یہ اس لیے نہایت اہم ہے کہ سرمایہ داری نظام ایک عالمی نظام ہے اور اس کے خلاف جدوجہد بھی عالمی سطح پر ہی ممکن ہے ۔جہاں نئے ممبران کو این ایس ایف کے پروگرام پر جیتنا ضروری ہے وہاں ان کی انقلابی بنیادوں پر تربیت کی ضرورت ہے یوں ہی نہ صرف پاکستان میں سوشلسٹ طلباء تحریک آگے بڑھ سکتی ہے بلکہ یہ سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ این ایس ایف کی سنٹرل کمیٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس تیزی سے بدلتے ہوئے عہد کے تقاضوں کے مطابق اپنی ذمہ داری نبھائیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here