بر ما میں روہنگیا مسلمانوں کا قتلِ عام نامنظور

0
164

25اگست سے اب تک 370000روہنگیامسلمان بنگلہ دیش نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں جبکہ دیگر ہزاروں افراد میانمار اور بنگلہ دیش کی سرحد پر موجود ہیں۔روہنگیا مسلمان سمندری راستے سے بنگلہ دیش جارہے ہیں اور اس دوران اکثر کشتیاں سمندر میں ڈوب جاتی ہیں اس کے علاوہ میانمار کی فوج نے بنگلہ دیش کی سرحد پر لینڈ مائینز لگا رکھیں جس کی وجہ سے پہلے سے صوبعتوں کے شکار روہنگیا کو مزیدوحشت اور موت کا سامنا کرنا پررہا ہے۔بنگلہ دیش کے مہاجر کیمپوں میں اس وقت لاکھوں روہنگیا مہاجرین موجود ہیں ان کیمپوں کی صورتحال بہت ابتر ہے۔یہاں خوراک،پینے کے پانی،ادویات کی شدید کمی ہے۔مہاجرین کی مزید آمد سے اِن کیمپوں کے حالات مزید خراب ہورہے ہیں۔
میانمارکے صوبے رخائن میں25اگست کوپولیس کی 30 پوسٹوں پر حملے کئے گے،ارکان روہنگیا سلویشن آرمی نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔اس تنظیم کے مطابق ان حملوں کی وجہ شمالی روہنگیا کے علاقے یوتھیدانگ کا دوہفتے سے جاری محاصرہ تھا جس کی وجہ سے یہاں لوگ بھوک کی وجہ سے موت کے منہ میں جارہے تھے اوروہ منگڈاؤ میں بھی ایسے ہی محاصرے کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔ان حملوں کا بنیادی مقصدبرما کی قابض فورسز کو پیچھے دھکیلنا تھا۔
میانمار کے آرمی چیف کے مطابق سیکورٹی فورسز اور روہنگیا مسلمانوں کے درمیان مختلف جھڑپوں میں 400ہلاکتیں ہوئیں ہیں۔یہ ابتدائی اعلامیہ کے مقابلہ میں ایک بڑا اضافہ ہے جن کے مطابق ان جھڑپوں میں 100ہلاکتیں ہوئیں تھیں ۔ان 400میں سے371روہنگیا کے جنگجو ہیں جن کو میانمار کی حکومت اور فوج دہشت گرد قرار دیتی ہے۔لیکن درحقیقت میانمار کی فوج عام لوگوں کو مار رہی ہے، ان کو زندہ جلایا جارہا ہے اور خواتین پر جنسی حملے کئے جارہے ہیں۔
یہ گوریلا حملے روہنگیا کی مسلم آبادی پر خوفناک استحصال اور جبر کا نتیجہ ہیں ،اقوام متحدہ کا روہنگیاکی مسلم اقلیت کے بارے میں کہنا ہے کہ یہ’’دنیا کی سب سے زیادہ مظلوم اقلیت ہے‘‘۔روہنگیا کی 20لاکھ مسلم نسلی اقلیت کو میانمار کی حکومت کی طرف سے کئی دہائیوں سے منظم جبر اور تشدد کا سامنا ہے۔ان کی اکثریت رخائن صوبے میں رہتی ہے ۔روہنگیا کی مسلم آبادی میانمار کی برطانیہ سے آزادی کے بعد سے خودمختاری یا آزادی کا مطالبہ کررہی ہے۔
میانمار ایک کثیرالقومی ریاست ہے جس میں 135مختلف نسلی گروہ ہیں جن کو حکومت تسلیم کرتی ہے لیکن ایسے گروہ بھی ہیں جن کی علیحدہ شناخت کو حکومت نہیں مانتی ہے۔میانمار میں بڑے نسلی گروپ شان،کیرن،مون اور روہنگیا مسلم ہیں۔میانمار میں ہمیشہ سرمایہ دارانہ حکومت رہی ہے حالانکہ ماضی کی حکومت سوشلسٹ ہونے کی دعویدار تھی لیکن حقیقت میں ان کی پالیسیاں بھی انتہا پسند برما قوم پرستی پر مشتمل تھیں جن کے تحت دیگر نسلی گروپوں کی طرف ان کا رویہ انتہائی معتصب تھا۔
میانمار کی 1948میں برطانیہ سے آزادی کے بعدشہریت کا قانون پاس ہوا،جس میں وضاحت کی گئی تھی کہ کن نسلی گروپوں کو شہریت کا حق حاصل ہے۔انٹرنیشنل ہیومن رائٹس کلینک کی 2015میں پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق روہنگیا مسلم اس میں شامل نہیں تھے۔لیکن اس ایکٹ کے تحت وہ لوگ شناختی کارڈ کے اپلائی کرسکتے تھے جن کے خاندان دو نسلوں سے برما میں رہائش پذیر تھے اور کچھ کو میانمار کی شہریت بھی حاصل تھی۔
لیکن 1962میں فوجی آمریت کے قیام کے بعد حالات میں ڈرامائی تبدیلیاں آئیں اور تمام شہریوں کے لیے یہ لازمی تھا کہ ان کے پاس نیشنل رجسٹرریشن کارڈ ہو،تاہم روہنگیا کو غیر ملکی کارڈ دیئے گئے جس کی وجہ سے ان کے لیے نوکریوں اورتعلیمی مواقع نہایت کم ہوگے۔
1982میں برمی فوجی آمریت کے شہریت کے نئے قانون نے روہنگیا کوبرما کی شہریت دینے سے انکار کردیا،جس کی وجہ سے یونیورسٹیوں میں ان کے داخلے اور پبلک سیکٹر کی نوکریوں کا ان کے لیے خاتمہ ہوگیا۔اس کے علاوہ ان کے سفر،شادیوں،مذہبی آزادیوں اورعلاج کی سہولتوں پر مختلف پابندیاں عائد کردی گئیں۔
1970سے روہنگیا مسلم کے خلاف مختلف کریک ڈؤان میں لاکھوں روہنگیا مسلم بنگلہ دیش ،تھائی لینڈ،ملیشیاء اور دیگر ساوتھ ایسٹ ایشیاء کے ممالک میں نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ایسے ہر کریک ڈؤان کے دوران روہنگیا مسلمانوں کو شدیدجبر و تشدد،قتلِ عام اورجنسی حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔روہنگیا مسلم منظم حکومتی جبر اور مختلف پابندیوں کی وجہ سے نہایت برے حالات میں زندگی بسر کررہے ہیں اور60فیصدروہنگیاکے پاس کاشت کاری کے لیے کوئی زمین نہیں ہے۔روہنگیا کے1000میں سے224بچے پیدائش کے وقت ہی مرجاتے ہیں کیونکہ ان کے علاج کی سہولتوں پر پابندیاں عائد ہیں ۔یہ اموات برما کی دیگر نسلی گروپوں کے مقابلہ میں 4گنا زیادہ ہے۔روہنگیا آبادی کے محاصر،خوفناک جبروتشدد،قتلِ عام اور جنسی حملوں جیسی وحشت اور بربریت کی وجہ سے برما میں روہنگیا آبادی کم ہو کر اب1.3ملین رہ گئی ہے۔لیکن اب بھی یہ رخائن صوبے کی 90فیصد آبادی ہے۔
پاکستان میں تو اسے صرف مسلم کشی کے مسئلہ کے طور پر پیش کیا جارہا ہے ،جس میں حقیقت بھی ہے لیکن اس کے پس منظر میں اہم اقتصادی وجوہات ہیں،جیسے برطانوی نوآبادیات عہد میں انڈیا سے بڑی تعداد میں لوگوں کام کی غرض سے برما لایا گیا جنہوں نے اس عہد میں معیشت میں اہم مقام حاصل کیا جس کی وجہ سے برما کے قوم پرست اور خاص کر کاروباری طبقہ میں ان کی طرف نفرت اور غصہ بہت واضح تھااور اسی عناد کی وجہ سے انہیں جبر و تشدد کا سامنا رہا ہے۔لیکن روہنگیا کی مسلم آبادی یہاں 15صدی سے موجود ہے۔گارجین میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق اس سارے قتلِ عام میں نسلی اور مذہبی پس منظر کے علاوہ اہم معاشی مفادات بھی شامل ہیں۔اس کے مطابق ’’گزشتہ دو دہائیوں میں کان کنی، لکڑی، زراعت اور پانی کے لئے زمین کے کارپوریٹ حصول میں عالمی سطح پر بڑے پیمانے میں اضافہ ہوا ہے. میانمار میں فوج نے1990 کے دہائی سے چھوٹے مالکان کی زمین بغیر معاوضے کے ہتھیائی ہے لیکن جب انہوں نے اس کی مزاحمت کی تو جبرکے ذریعے اس کو کچلا گیا۔. دہائیوں سے زمین پر قبضہ ہورہے ہیں لیکن گزشتہ چند سالوں میں اس میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے. 2012 جب روہنگیاکے مسلمانوں پر حملے کیئے گے اس وقت بڑے پروجیکٹس کے لیے مختص زمین میں 170فیصد اضافہ ہوا،حالیہ قانون سازی کے ذریعے میں زمین کے متعلق قانون میں تبدیلی لائی گئی ہے وہ کارپوریشنز کے مفاد میں ہے۔
یہ واضح رہے کہ روہنگیا (اور دیگر اقلیتی گروپوں)پر ظلم وجبر میں نسلی و مذہبی مسائل کے علاوہ اہم اقتصادی مفادات ہیں۔اگر روہنگیا ان علاقوں سے بے دخل ہوجاتے ہیں تو یہ مستقبل میں بلادست طبقہ کے لیے ایک فائدہ کا سودا ہوگا۔2012میں حکومت نے آفیشل طور اس مقصد کے لیے17,000ایکڑ مختص کی تھی ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی میانمار کی حکومت نے3,100,000ایکڑ زمین کارپوریٹ رولر ڈویلپمنٹ کے نام پر مختص کی ہے۔یہ ظاہر کررہا ہے کہ زمین کو ہتھیانے کی مقدار میں کس قدر اضافہ ہوا ہے‘‘۔
یہ بات بھی مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے یہ منظم وحشیانہ جبر صرف فوج ہی نہیں کررہی ہے بلکہ اس کو آنگ سان سوچی کی مجرمانہ حمایت حاصل ہے جوحقیقت میں 2016سے برما کی حکومت چلا رہی ہے،جس کو عالمی سطح جمہوری راہنما کے طور پر کافی پذیرائی حاصل ہے۔
اقوام متحدہ نے حالانکہ روہنگیا مسلمانوں پر ان انسانیت سوز مظالم کی مذمت کی ہے ۔لیکن حقیقت میں یہ لفاظی ہی ہے اور خاص کراس لیے بھی کہ امریکی اور چینی سامراج کے درمیان میانمار میں اثرورسوخ کے لیے کشمکش جاری ہے۔
انقلابی سوشلسٹ موومنٹ روہنگیا کے مسلمانوں پر جبر اور انسانیت سوز سلوک کی مذمت کرتی ہے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ میانمار میں روہنگیا اور دیگر اقلیتوں کو مکمل شہریت کے حقوق دیئے جائیں اورانہیں مکمل حق خوداختیاری حاصل ہونا چاہیے کہ وہ میانمار میں رہیں یاآزاد مملکت قائم کرئیں ۔اس فیصلہ کا اختیار روہنگیا کے لوگوں کو ہونا چاہیے اور ہر مظلوم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے اوپر ہونے والے جبر وتشدد اور قتلِ عام کی مزاحمت کرئے۔اس لیے روہنگیا کے مسلمانوں کی مسلح مزاحمت کی حمایت کرنی چاہیے۔
لیکن ہم ان کے رجعتی نظریات کو مسترد کرتے ہیں جس کے تحت ارکان روہنگیا سلویشن آرمی اور1948سے اب تک اس کی پیشرو تنظیمیں سرگرم عمل تھیں۔لیکن اس کے باوجود روہنگیا کے مسلمانوں کی جدوجہد جائز اور برحق ہے اور ہر سوشلسٹ اور جمہوریت پسند کو اس کی حمایت کرنی چاہیے۔
تاریخ یہ واضح کرتی ہے کہ سرمایہ دارنہ جبر ووحشت کے خلاف جدوجہد تب ہی حقیقی معنوں میں کامیاب ہوسکتی ہے اگر اس کے نتیجے میں محنت کشوں کی ریاست قائم ہو جو اس نظام کو چلاتے ہیں اور کوئی بھی صورت ایک بار پھرمحنت کشوں،کسانوں اور غریب عوام پرایک اقلیت کی حکمرانی قائم کردیتے ہیں اور اس سرمایہ دارانہ نظام میں سامراجی مد د سے ان پر استحصال اور جبر قائم رہتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here