تحریک انصاف کی جیت ،نیولبرل سرمایہ داری اور محنت کش طبقہ کا لائحہ عمل

0
82

تحریک انصاف کی حکومت اور حکمران طبقہ
تحریک انصاف کی حکومت کو قائم ہوئے تین ہفتے بیت چکے ہیں یہ ابھی اس حکومت کے ابتدائی دن ہیں۔ اس حکومت کا قیام ایک ایسے عہد میں ہوا ہے جہاں ایک طرف حکمران طبقہ کی لڑائی عروج پر ہے دوسری طرف معیشت شدید بحران کا شکار ہے اور یہی تحریک انصاف کے اقتدار کی وجہ ہے حکمران طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ عمران خان کی مقبولیت اور کرپشن کے خلاف نعرہ بازی کے تحت وہ سرمایہ کے منافع اور لوٹ مار کے لیے قومی معیشت کے نام پر حکمت عملی تشکیل دئے سکے گاجن مقاصد میں نواز شریف کی حکومت ناکام ہوگئی تھی اب تحریک انصاف اس کے تکمیل میں معاون ہوگی۔
تحریک انصاف کے اقتدار کے ابتدائی دنوں میں سادگی اور اخرجات میں کٹوتیوں کے بلند وباغ دعوے کیا جائے رہے اور اس سلسلے میں ہر روز ایک نئی سادگی کا اظہار ہوتا جیسے ابھی ایک ٹویٹ کے ذریعے یہ بیان دیا گیا کہ وزیراعظم ہاوس کی بھینسیں بھی سرکاری گاڑیوں کی طرح بیچ دی جائیں گئیں۔ریسٹ ہاوسس و دیگر عمارتوں کو فروخت یا ان کو یونیورسٹیوں اور ہوٹلوں میں تبدیل کردیا جائے گا۔یہ درست ہے کہ حکمران طبقہ کے اعللوں تللوں پر بے تحاشہ خرچ ہوتا ہے اور اسے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔مگر اس وقت اس سادگی کا مقصد محنت کشوں سے’’ قومی معیشت ‘‘کے لیے قربانی کا مطالبہ ہے ۔
قومی معیشت
موجود حکومت جونے ایک کروڑ نوکریوں اور 50لاکھ نئے گھروں کاتعمیر کا وعدہ کیاہے لیکن معیشت کی حالت ایک دوسری تصویر دیکھاتی ہے اس وقت پاکستان کی معیشت شدید دباؤ میں ہے اور زر مبادلہ کے ذخائر صرف ایک ماہ کی درآمدات کے رہ گئے ہیں یعنی اگر فوری طور پر قرضوں کا بندوبست نہ ہوا توبنیادی ضروریات کی درآمدات بند ہوسکتی ہیں جس سے بحرانی صورتحال جنم لے سکتی ہے اور اس کے ساتھ بڑے پیمانے پر قرضوں کی ادائیگی کا مسئلہ اپنی جگہ موجود ہے۔ان حالات میں ڈالر کی قیمت میں ایک بارپھر آضافہ ہوسکتا ہے اور اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ یہ 145سے150تک پہنچ جائے یہ صورتحال جہاں محنت کشوں اور غریب عوام کی زندگی اجیرن بنادے گی اس کے ساتھ چھوٹا تاجر طبقہ بھی اس سے بری طرح متاثر ہوگا۔اس وقت اصل سوال یہی ہے کہ معیشت کو سرمایہ دار طبقہ کے لیے بہتر بنایا جائے اور اُن مسائل پر قابو پایاجس سے سرمایہ داروں کا منافع اور لوٹ مار برقرار رہے۔اس سلسلے میں قرضے لینے کے علاوہ حکومت کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔لیکن آئی ایم ایف سے قرضے کا مطلب مزید سخت شرائط ہیں۔ان شرائط کا مطلب ویسے تو یہ بتایا جاتا ہے کہ اس سے معیشت میں بہتری آئے اور عوام کے حالات زندگی بہتر ہوگئی لیکن حقیقت یہ ہے اس سے سرمایہ دار اور بالادست طبقات کے سرمایہ اور دولت میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ غریب اور محنت کش اس کی قیمت ادا کرتے ہیں اور ایسے ہی بحران کے عہد میں ہوتا ہے کہ حکمران طبقہ جس کی پالیسیوں اور لالچ کی وجہ سے بحران جنم لیتا ہے وہ اس کا بوجھ محنت کشوں اور غریبوں پر ڈالا دیتا ہے اور ایسا قومی معیشت کے نام پر ہوتا ہے کہ اس سے عوام کی زندگی میں بہتری آئے گئی۔لیکن ایسا کبھی نہیں ہوتا اور سرمایہ کا منافع اور لوٹ مار جاری رہتی ہے۔
نیولبرل سادگی ،مہنگائی اور نجکاری
عمران خان کی سادگی کے مظاہرے جو ہیلی کپٹر کے استعمال سے سامنے آرہے ہیں وہاں قومی ملکیت میں موجود زمینوں کو بیچنے کی باتیں ہورہیں جو سرمایہ داروں کے منافع میں اضافہ کا باعث ہوں گی اس کے ساتھ ترقیاتی بجٹ میں400ارب کی کٹوتی اورفنانس ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے 125ارب کے نئے ٹیکس لگائے جارہے ہیں،اس کے کے علاوہ درآمد اشیاء پر بھی مزید ٹیکس لگائے جارہے ہیں۔بجلی کی قیمت میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ گیس کی قیمت میں اضافہ بھی متوقع ہے جو فی الاوقت حکومت ٹیکنیل بنیادوں پر نہیں کرپارہی(حالانکہ پہلے حکومت نے اس کا اعلان کردیا تھا)
۔ ٹول ٹیکس 10 فیصد بڑھا دیا گیا ہے، کھاد کی قیمتوں میں 200 سے 800 روپے تک کا اضافہ ہے، ایل پی جی فی کلو 70 روپے مہنگی کر دی گئی ہے، شناختی کارڈ فیس میں بھی ایک ہزار روپے اضافے کی خبرہے اور اس کے ساتھ انکم ٹیکس12لاکھ سالانہ آمدن سے کم کرکے8لاکھکیا جارہا ہے۔ یہ سب مہنگائی میں ہوشربا اضافہ کردے گا جس سے محنت کش اور شہری ودیہی غریب کی زندگی اجیرن ہوجائے گئی،اس کی تفصیلات آئی ایم ایف کو دی جارہی ہیں تاکہ اس سے قرضے حاصل کئے جائیں۔دو سو اداروں کی نجکاری کا اعلان تو اسد عمر نے تحریک انصاف کی حکومت کے قائم ہونے سے پہلے ہی کر دیا تھا۔ یوٹیلیٹی سٹورز کا منصوبہ بھی بند کیا جا رہا ہے جس سے نہ صرف غریب صارفین متاثر ہوں گے بلکہ ہزاروں افراد بیروزگار ہو جائیں گے۔ محکمہ صحت اور دیگر اداروں کے ہزاروں ڈیلی ویجز ملازمین کو فارغ کیا جا رہا ہے۔یہ تمام اقدامات محنت کش اور شہری و دیہی غریبوں کو اذیت ناک مستقبل کی طرف دھکیل رہے ہیں اور سرمایہ دار طبقہ،معیشت دان اور میڈیا میں یہی شور ڈالا جارہا ہے کہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں سخت فیصلوں کی ضرورت ہے جتنا جلدی ہو ان پر عمل درآمد کرلیا جائے کیونکہ اس وقت عوام حکومت کو وقت دیں گئیں اگر یہ وقت گزار گیا تو پھر ان پر عمل درآمد مشکل ہوجائے گااور کوئی متبادل نہیں ہے۔
مزدور طبقہ
آج پاکستان میں ٹریڈ یونین تحریک بہت کمزور ہے اور یہ چھوٹے چھوٹے دھڑوں میں تقسیم ہے،اس وقت تقریباََ 8000کے قریب یونینز،28فیڈریشنز اور تین کنفیڈریشن ہیں۔یہ محنت کشوں کی کی مشترکہ تحریک کی تعمیر کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہیں اوراس وجہ محنت کش طبقہ کی قیادت کافقدان شدید تر ہے۔اس کے باوجود حالیہ برسوں میں پاکستان میں محنت کش طبقہ کی شاندار تحریکیں بدلتے ہوئے عہد کی غماز ہیں لیبر قومی موومنٹ کی جفاکشی،لیڈی ہیلتھ ورکرز،ینگ ڈاکٹرز اورنرسزکی جدوجہد اور پی آئی اے کے محنت کشوں کی شاندار ہڑتال یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ انتہائی نامساعد حالات میں بھی عزم و ہمت سے مزاحمت کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔واپڈکے محنت کشوں کی نجکاری کے خلاف جدوجہدمستقبل میں مزدور تحریک کے لیے نہایت اہم ہے۔یہ دلیرانہ تحریکیں ظاہر کرتی ہیں کہ محنت کش ہی آج کے عہد میں تحریک انصاف کی نیولبرل حکومت کا مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔
حکمران طبقہ کے اب تک کے اقدامات اور مقبولیت ظاہر کررہی ہے کہ تحریک انصاف کی حکو مت نواز شریف اور زرداری کی حکومت کی نسبت زیادہ جبرکی صلاحیت رکھتی ہے اور محنت کش طبقہ کے لیے ایک بدترین عہد کا آغاز ہوچکا ہے ۔حالانکہ اس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ محنت کش طبقہ اور غریب عوام اسے آسانی سے قبول نہیں کریں گئیں لیکن نئے پاکستان، سادگی ،کرپشن کے خاتمے اور قومی معیشت کے نام پر مہنگائی میں اضافہ ،نوکریوں کا خاتمہ اور بڑے پیمانے پر نجکاری کی کوشش کی جائے گئی جس کا حکومت پہلے ہی اعلان کرچکی ہے اور اس پر بڑی حد تک اس وقت حکمران طبقہ میں اتفاق ہے۔
لیفٹ اور مزدور تحریک کے لیے اہم ہے کہ وہ اس حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دئیں اور جدوجہد کے لیے اداروں اور محلوں میں کمیٹیاں بنائیں جائیں جہاں حکومت کی جانب سے ہونے والے حملوں کو زیر بحث لایا اورمتبادل پروگرام پیش کرئے کہ موجود صورتحال میں معیشت کے لیے ہمارا کیا پروگرام ہے،اس سلسلے میں بیرونی قرضوں کی ادائیگی سے انکار،بڑے سرمایہ داروں پر ٹیکس میں اضافہ اور فیکٹریوں اور دیگر کارباروں کی اکاونٹس بک کو کھولا جائے تاکہ اس میں کام کرنے والے محنت کش یہ فیصلہ کرسکیں کہ ان کی تنخواہ کیا ہو اور یہ ادارے کس قدر مزید ٹیکس دئے سکتے اور اس کے علاوہ زرعی زمین کی کسانوں میں تقسیم ۔لیکن ایسی تحریک کو وسیع تر جمہوری آزادیوں کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے ان میں مسنگ پرسنز کے مسئلہ کو بھی اُٹھانے کی ضرورت ہے اور ایسی کوئی تحریک مظلوم اقوام کے ساتھ یکجہتی اور ان کی جدوجہد کے جڑنے اور نسل پر ستی کے خلاف لڑئے بغیر ممکن نہیں ہے۔اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ طبقاتی جدوجہد،عوامی ورکرز پارٹی،برابری پارٹی ،دیگر لیفٹ گروپس اور ٹریڈ یونینزاس حوالے سے ایک مشترکہ میٹنگ کال کریں۔یہ بہت اچھا ہے کہ لیفٹ میں اور مزدور تحریک میں عمومی طور پر موجود حکومت کے حوالے سے کوئی خوش فہمی نہیں ہے اور وہ ایک بہتر تجزیہ بھی پیش کررہے ہیں لیکن اصل سوال ابھی سے اس حکومت کے حملوں کے مقابلے کا ہے کیونکہ اگر اسے وقت دیا گیا تو اس سے سوائے حالات میں ابتری کے سوا کچھ نہیں ہوا لحاظ اس سوچ کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ابھی تو یہ حکومت قائم ہوئی ہے اسے وقت دیا جائے حقیقت میں ہمیں تیاری کرنی چاہیے اور محنت کش عوام کو اس خطرہ سے آگاہ کرنا چاہیے۔
لیکن پاکستان میں محنت کش طبقہ کی کوئی پارٹی موجود نہیں ہے اور یہ بنیادی مسئلہ ہے اور اس لیے محنت کش طبقہ کی پارٹی کی تعمیر نہایت اہم ہے۔تحریک انصاف کی حکومت کے حملوں کا مقابلہ محنت کش طبقہ کی انقلابی پارٹی ہی کرسکتی ہے جو تمام بورژواء پارٹیوں سے آزاد ہوں اور یہ سمجھتی ہو کہ وہ اس حکومت کی ہی نہیں بلکہ نظام کی اپوزیشن ہے اور موجود بحران کا واحد حل سرمایہ دار ی نظام کے خاتمے اور سوشلسٹ انقلاب میں ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here