جیئند بلوچ اور دیگر بلوچ اسیران کو رہا کرو

0
85

جیئند بلوچ اور کے چھوٹے بھائی اور پاب کاریاستی اداروں کی طرف سے گرفتاری اور خواتین اور بزرگوں پر تشدد قابل مذمت ہے۔جیئند بلوچ بہاولدین زکریہ یونیورسٹی میں جیولوجی کے سٹوڈنٹس ہیں اور سٹوڈنٹس ایکٹوسٹ ہیں لیکن وہ طلباء مسئلہ کے علاوہ بلوچ قوم کو درپیش مسئلہ کے حوالے سے بھی متحرک ہیں اور

حال میں کوئٹہ میں ہونے والے بی ایس او کے کونسل سیشن میں جائنٹ سیکرٹری منتخب ہوئے ہیں۔
بی ایس او بلوچ طلباء کی تنظیم ہے جو بورژواء سیاسی پارٹیوں سے آزادانہ طور پر طلباء حقوق پر جدوجہد کا علمٰ بلند کررہی ہے جس نے ایک دن پہلے ہی تمام موقع پرستی کو مستردکرتے ہوئے پرامن جدوجہد کا اعلان کیا ہے۔اس کے اہم ممبر کی گرفتاری ریاست کی بوکھلاہٹ اور بحران کو ظاہر کرہا ہے جس میں ریاست کسی قسم کی جمہوری آزادیوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔یہ پاکستانی سرمایہ کے بڑھتے ہوئے بحران،ریاستی تضادات اور پاکستان میں چین اور امریکہ کی کشمکش کو ظاہر کرہے ہیں۔پاکستان کا حکمران طبقہ اور ریاست ان حالات میں زیادہ سے زیادہ جابر ہوتی جارہی ہے۔
ابھی چند دن پہلے ہی بہاو الدین زکریہ یونیورسٹی میں بلوچ اور پشتون طلباء نے مشترکہ طور پر یونیورسٹی انتآامیہ کے نسل پرست رویہ اور اپنے مطالبات کے حق میں یونیورسٹی میں دھرنا دیا۔لیکن یہ واقعہ کسی ایک یونیورسٹی اور کالج کا نہیں پنجاب میں ان اداروں کی انتظامیہ بلوچ اور پشتون طلباء کی طرف نسل پرست رویہ رکھتے ہیں اور جمعیت کی حمایت کرکے ان طلباء پر نسل پرستانہ حملے کرائے جاتے ہیں خاص کر پنجاب یونیورسٹی تو اس حوالے سے بدنام ہے جہاں جمعیت کو غندہ گردی کی کھولی چھٹی دی گئی ہے۔
موجود حالات میں جہاں بلوچستان میں پہلے ہی مسنگ پرسنز کے حوالے سے کوئٹہ میں احتجاجی کیمپ جاری ہے اس میں جیئند بلوچ کی گمشدگی حالات کو مزید گمبھیر بنارہی ہے ۔
ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ جیئند بلوچ اور دیگر اسیران کو فوری طور پر بازیاب کیا۔طلباء اور دیگر اسیران کو مکمل حق ہونے چاہیے کہ وہ اپنے جمہوری حقوق کو استعمال کرتے ہیں بلوچ قوم اور محروم طبقات کی سیاست جاری رکھیں۔پی ٹی ایم کے ممبران کی طرف سے جیئند بلوچ کی رہائی کی اپیل اور اپنے حمایتوں سے اس حوالے سے ہونے والے مظاہروں میں شرکت کی اپیل ایک اہم قدم ہے پاکستان میں مظلوم اقوام اور محنت کش طبقہ کے اتحاد کے لیے ہم پاکستان بھر میں طلباء تنظیموں،ٹریڈیونیبوں اور لیفٹ کے گروپوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جیئند بلوچ اور دیگر اسیران کے حوالے سے ایک مشترکہ جدوجہد کا آغاز کریں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here