عورت مارچ ۔۔۔پدرسری نظام کے خلاف عورتوں کی بغاوت

0
453

تحریر:شہزاد ارشد
بروز8مارچ کو لاہور ،کراچی،اسلام آباد،پشاور،کوئٹہ اور دیگر شہروں میں ہزاروں عورتوں نے عورت مارچ میں ہم عورتیں کے بینر تلے شرکت کی۔یہ عالمی عورت دن چند سال پہلے تک ہونے ’’خواتین ڈے‘‘ سے بہت مختلف تھا۔یہاں عورتوں نے تقریروں میں ہی پدرسری نظام کی مخالفت نہیں اور حقوق کا مطالبہ نہیں کیابلکہ ان کے پلے کارڈ اور بینرزبھی طاقتور انداز میں پدرسری پر مبنی سرمایہ داری نظام کو چیلنج کررہے تھے جو کوئی بھی ان ریلیوں میں شریک ہوا وہ یہ ضرور محسوس کرسکتا ہے کہ عورتیں اپنے مطالبات کے حق میں کتنی پرجوش ہیں ۔یہ مارچ پاکستان جیسے پدرسری سماج میں جہاں عورتوں اورجنسی اقلیتوں کو روزانہ کی بنیاد پر جنسی طورپر ہراساں،ریپ ، خوف ،تشدد اور قتل کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ خلاف ایک خوبصورت اورطاقتور اظہار ہے جس میں انہوں نے اکھٹے ہو کر بغاوت اور آزادی کا اعلان کیا۔آج کے عہد میں عالمی سرمایہ داری نظام کی پیش رفت اور اس میں آنی والی تبدیلیوں کی وجہ سے عورتیں جس تیزی سے ورک فورس کا حصہ بن رہی ہیں اس طرح ان کے مسائل میں اضافہ بھی ہورہا ہے اوروہ خاندان اور اس کی طے شدہ روایت سے ٹکراؤ میں بھی آرہی ہیں اور خاص کر یہ شہروں میں بہت واضح ہے ۔اس لیے ہمیں بڑے شہروں میں ایسے پلے کارڈ اور نعرے نظر آئے جو بظاہر بہت بولڈ نظر آتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہ نعرے اس نظام کے مسائل سے سامنے آئے ہیں جس کا آج عورتوں کو اپنی زندگی میں سامنا ہے۔
عورت مارچ دائیں بازو کے حدف کا تو نشانہ ہے ہی اور وہ انہیں اخلاق باختہ عورتیں کہہ کرمسترد کررہا ہے جبکہ لیفٹ میں بہت سارے اسے طبقاتی بنیادوں پر رد کررہے ہیں اور دونوں کے لیے ’’میرا جسم میری مرضی‘‘یا’’ ڈِک پکچرز اپنے پاس رکھو‘‘اوردیگر نعرے ایک صدمہ ہیں جو پدرشاہی نظام سے عورتوں پر رحم یا بہتر سلوک کی بات نہیں کرتے بلکہ پدر شاہی نظام کو مسترد کرتے ہیں یوں یہ واضح ہے کہ پدرشاہی رویے کس حد تک سوشلسٹوں اور مزدور تحریک میں طاقتور ہے اول ذکرتو اسے مشرقی اور اسلامی تہذیب کے خلاف سازش کے روپ میں دیکھتے ہیں جبکہ لیفٹ طبقاتی استحصال تک محدود ہوکر عورت پر جبر کو مسترد کرتا ہے یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ کیسے خواتین پر جبر سرمایہ کے منافع میں اضافہ اور مفاد میں جاتا ہے۔
عورت مارچ کے پلے کارڈ پر نظر آنے والے مطالبات کو صرف ایلیٹ یا اپر مڈل کلاس کی عورتوں کے مسائل کے طور پر پیش کیا جارہا ہے ۔لیکن درحقیقت یہ آج محنت کش طبقہ کی عورت کے مسائل ہیں کیا عورتیں سمارٹ فون استعمال نہیں کرتی ہیں؟ کیا ان کو جنسی طور پر سوشل میڈیا پر ہراساں نہیں کیاجاتا یاان کو گندے میسجز کا سامنا نہیں کرنا پرتا ؟اور پھر جب وہ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر یا فیکٹریوں میں کام کرتی ہیں تو تب بھی انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے ۔ یوں یہ مسائل تو محنت کش طبقہ کی عورتوں کے لیے زیادہ شدید تر ہیں۔ایسے ہی میرا جسم میری مرضی والا پلے کارڈ حقیقت میں اسقاط حمل کے مسئلہ کو سامنے لاتاہے جس میں عورت کا فیصلہ بنیادی ہونا چاہیے لیکن قوانین کی عدم موجودگی کی وجہ سے یہ محنت کش طبقہ کی عورت کے لیے کہیں شدید ہوجاتا ہے جبکہ ایلیٹ اور اپر مڈل کلاس کی عورتوں کو تو دولت اور سماجی تعلقات کی وجہ ان مسائل کا اُس شدت سے سامنا نہیں کرنا پرتا ہے اور ان کی لیے بہتر نجی اور بیرونی ممالک سہولیات موجود ہیں۔
ایک تنقید یہ بھی ہے کہ یہ مارچ مغرب کی نقالی ہیں اور مشرقی تہذیب کے خلاف ہیں اور ہماری عورت ایسی نہیں ہے۔مغرب کی نقالی والی دلیل بہت بھونڈی ہے اور غلط ہے یہ عالمی عورت دن ہے اور ہم ریڈیکل عورتوں کی طرف سے عورت مارچ کی مکمل حمایت اور اس کو خوش آمدید کہتے ہیں اور ان کے اس حق کو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ دیگر ممالک میں جنم لینے والی تحریکوں کے ساتھ مضبوط تعلق بنائیں اور وہ اپنے تجربات اور خیالات کو ایک دوسرے کے ساتھ شئیر کریں۔اس بات سے انکار انہیں بدترین پدرشاہی نظام کو مشرقی تہذیب کے نام پر قبول کرنے کو کہتا ہے جسے ہم مسترد کرتے ہیں۔ یہ دلیل بنیادی طور پر سرمایہ داری نظام کی گلوبلائزیشن اور اس کی پیشرفت کو سمجھنے سے قاصر ہے جو تیزی سے دنیا کو مشترک بھی کررہی ہے لیکن ناہموریت بھی شدید تر ہے جس کی وجہ سے بہت کچھ مختلف بھی ہے۔لیکن حقیقت میں جو اشتراک ہے اس وجہ سے ہمارے مسائل سانجھے اور اس کے خلاف جدوجہد بھی سانجھی ہورہی ہے ۔اس لیے یہ تحریکیں صرف یورپ اور امریکہ میں ہی نہیں ہیں بلکہ برازیل،ترکی،فلسطین اور انڈیا میں بھی ہیں اوران کی شدت اور نعرے یہاں کہیں زیادہ ریڈیکل ہیں۔
عورت مارچ کوایلیٹ اور اپر مڈل کلاس کی ریلیاں کہہ کرمسترد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس کی ہیت مڈل کلاس ہے لیکن اس تحریک کو منظم کرنے میں بہت سی ر یڈیکل عورتوں نے حصہ لیا ہے جو طبقاتی سوال سے متفق ہیں اور سرمایہ دارانہ استحصال اور جبر کے خلاف سرگرم بھی ہیں یوں اسے صرف لبرل،ایلیٹ اور این جی اوز کا مارچ کہنا غلط ہے۔بلکہ یہ عورتوں کا سماجی جبر کے خلاف جرات مندانہ اظہار ہے جو سرمایہ داری کے خلاف ہے ۔عورت مارچ اور تحریک میں این جی اوز اور اپر مڈل کلاس کے اثرات نمایاں ہیں۔لیکن ایسا تو ہر تحریک میں ہوتا ہے کیا ٹریڈ یونین کی تحریک اور قومی جبر کے خلاف تحریکوں میں این جی اوز ،اپر مڈل کلاس کے نظریات کی بالادستی نہیں ہوتی،لیکن اس بنیاد پر تو ہم ان تحریکوں کی مخالفت نہیں کرتے تو پھر عورت مارچ کی مخالفت کیا معنی رکھتی ہے۔یہ درست ہے کہ ہمیں عورتوں میں انقلابی سوشلسٹ نظریات کے لیے جدوجہد کی ضرورت ہے لیکن یہ تب ہی ممکن ہے کہ اگر ہم ان ریڈیکل عورتوں کی تحریک کا حصہ بنیں اور جدوجہد میں ان کا ساتھ دیں۔ویسے بھی لاہور اور اسلام آباد میں بھی محنت کش طبقے اور لوئر مڈل کلاس کی عورتیں موجودتھی جبکہ کراچی میں بھی بڑی تعداد میں محنت کش عورتیں شریک ہوئیں ،حیدرآباد میں ہونے والی ریلی میں محنت کش عورتوں کی اکثریت تھی اس لیے وہاں مطالبات میں کام کی جگہ پر ان کے مسائل اور مطالبات زیادہ شدت کے ساتھ سامنے بھی آئے جبکہ پشاور میں ہونے والی ریلی میں جہاں دیگر ریلیوں کی طرز کے مطالبات تھے وہاں بڑے پیمانے پرمسنگ پرسنز اور جنگ مخالف نعرے بھی تھے جن کا پشتون عورت کوسب سے زیادہ سامنا ہے ۔لیکن ایک بات بہت واضح ہے ہر ریلی میں عورتوں کے معاشی مطالبات لازمی طور پر سامنے آئے لیکن ان کی ہیت سرمایہ دارای کی اپنی پیش رفت ،اس کے تضادات اور جنگ کی وجہ سے مختلف تھی۔
عورت مارچ کے مطالبات نہایت اہم ہیں اور ہر انقلابی سوشلسٹ کو ان کی حمایت کرنی چاہیے کیونکہ اس سے جہاں پدرشاہی نظام کی مخالفت ممکن ہے اور عورت اکھٹی اور منظم ہورہی
ہے اور وہ اپنے بہت سارے مطالبات کو منوا سکے گئی ۔اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ عورت کے مطالبات کی کامیابی سرمایہ دارانہ نظام کو بھی زک پہنچائے گی لیکن یہ بھی درست ہے کہ عورت کی مکمل آزادی طبقاتی طور پر منظم ہونے اور سرمایہ دارانہ نظام کو چیلنج کرنے میں ہے جواس کے دوہرے استحصال اور جبر کا ذمہ دار ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here