عورت کی آزادی کا سوال اور دائیں اور بائیں بازو کی رجعتی تنقید

0
258

تحریر: ہبّہ جعفری

عورت مارچ ہو یا خواتین کی تحریک سے جڑا کوئی اور سوال، پاکستان کا پدرشاہی سماج ہر جانب سے حملہ آور ہو جاتا ہے۔ دائیں بازو فیمنسٹ تحریک کو ہی مغربی ٹھہرا دیتا ہے تو بائیں بازو میں موجود چند عناصر بھی اس تحریک کو رد کرتے پائے جاتے ہیں جیسا کہ عوامی ورکرز پارٹی بلوچستان کے حال ہی میں جاری کردہ بیان سے ظاہر ہے۔اس کے علاوہ بھی فیس بک پر بائیں بازو کی کچھ تنظیموں کے ارکین عورت مارچ پر تنقید کررہے ہیں۔
اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ عورت سے جڑے ہر مسئلے کو مسترد کرنے کے لیے جو دلیل عام طور پر مستعمل ہے،وہ کچھ یوں ہے: ہماری عورت ایسی نہیں، وہ معاشرے میں اپنے مقام سے مطمئن ہے اور جو عورتیں آج کل اس مقام کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں وہ مغربی تہذیب سے متاثر ہیں۔ گو کہ عورت کی ہر آواز کو دبانے کے لیے سب سے موثر اور آزمودہ حربہ یہ ہے کہ اس آواز کو ہی مغربی ٹھہرا دیا جائے۔ بظاہر یہ دلیل نہایت بھونڈی معلوم ہوتی ہے مگر اس میں نہپاں منطق کچھ یوں ہے کہ مشرقی عورت اگر اپنی آزادی کے لیے آواز اٹھا رہی ہے تو یقیناً بیرونی قوتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے کیونکہ وہ ذاتی طور پر آزادی کا خواب دیکھنے سے قاصر ہے۔ اس منطق کے مطابق آزادی کا تصور ایک مغربی خواب تک محدود کر دیا جاتا ہے۔اس کے برعکس اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ مشرقی عورت کی تاریخ آزادی کی جد وجہد کے حوالے سے مغربی عورت کی تاریخ سے منفرد نہیں۔ دنیا کے ہر حصہ میں اور ہر دور میں عورت نے پدرشاہی کے خلاف اپنی لڑائی لڑی ہے، خواہ وہ مغرب میں ووٹ ڈالنے کے حق کی جد وجہد ہو یا ایران جیسے مشرقی ملک میں جبری حجاب کے خلاف جنگ ہو۔ پھر ایک اہم پہلو یہ ہے کہ دنیا کے کسے بھی حصہ میں ہونے والے جبر کے خلاف جدوجہدکی حمایت دیگر جبر کا شکار مظلوم اور محنت کش کرتے ہیں۔ لندن کے طلباء کی فلسطین کی آزادی کے حق میں نعرہ بازی ہو یا بلوچ ایکٹوسٹوں کی کرد جد وجہد کی حمایت، ایک پسے ہوئے گروہ کی دوسرے مظلوم گروہ کی حمایت کرنا انوکھی بات نہیں۔ تو دنیا کے ایک حصے کی مظلوم عورت دوسرے حصے کی عورت کی حمایت کیوں نہ کرے؟ مشرق و مغرب کی عورتیں ایک دوسرے کی جد وجہد سے نہ صرف متاثر ہونے کا حق رکھتی ہیں بلکہ ایک دوسرے کی تحریکوں سے سیکھتی بھی ہیں، بالکل اسی طرح جس طرح دنیا کے کسی ایک حصّہ کا مزدور طبقہ کسی دوسرے حصے کے مزدور طبقہ کی تحریک سے سیکھتا ہے۔ اس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اکثر مغربی سامراج نے مشرقی عورت کی مظلومیت کو حربہ کے طور پر استعمال کیا ہے، مثلاً افغانستان میں ہونے والی جنگ کا جواز عورت کو طالبان سے محفوظ کرنا تھا۔ مگر اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مغرب کے سوشلسٹوں اور فیمنسٹوں نے اس جنگ کی مخالفت کی تھی۔ دنیا بھر کے مظلوموں کی جنگ ظلم کے خلاف ہے۔ لہذا اس جنگ میں ایک دوسرے کی حمایت کرنا نہ صرف کوئی معیوب عمل نہیں، بلکہ درحقیقت ایک لازم عمل ہے۔
اس کے علاوہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کس طرح مغربی سامراجی قوتوں میں دائیں بازو کا رجحان مشرقی دائیں بازو کی سیاست سے مطابقت رکھتا ہے۔ مغربی ممالک میں اگر عورت کسی حد تک آزاد ہے تو وہ اس لئے نہیں کہ ان ممالک نے ایک دن سوچا کہ اب عورت کو آزادیاں دے دی جائیں۔ درحقیقت عورت نے وہاں بھی کچھ ایسی ہی جد وجہد کی جیسی کہ آج ہم پاکستان میں دیکھ رہے ہیں۔ حقوق نسواں کی تحریک کو مغربی گرداننے والے خود کو مغرب سے بیزار بنا کر پیش کرتے ہیں جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ تمام لوگ دراصل مغرب کے دائیں بازو کی ہوبہو عکاسی کرتے ہیں کیونکہ آج بھی دنیا کے ہر حصے کا دائیں بازو عورت کی آزادی کے خلاف کھڑا نظر آتا ہے۔ یہ یاد رکھنا اہم ہے کہ مغرب میں عورت نے جو بھی حقوق اب تک حاصل کئے ہیں وہ کسی ریاست نے پلیٹ پر سجا کر نہیں دیے بلکہ عورتوں کی اپنی جد وجہد کا ثمر ہیں۔ چونکہ خواتین نے مغرب میں اپنی جد وجہد کے صلے میں کافی حقوق حاصل کر لئے ہیں، لہذا اب انہی حقوق کی بنیاد پر ایک طرف مغربی ریاستیں خود کو روشن خیال بنا کر پیش کرتی ہیں اور مشرقی ممالک میں دخل اندازی کا جواز بنا لیتی ہیں تو دوسری جانب وہاں کا دائیں بازو آج بھی عورت سے اسقاط حمل جیسے بنیادی حقوق چھیننے کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے۔ پاکستان کے رجعتی کوشش کرتے ہیں کہ فیمنسٹوں کو مغربی قرار دے کر وہ خود کو سامراج سے لڑنے والی قوت بنا کر پیش کریں۔ جبکہ درحقیقت وہ سامراج کے دائیں بازو کی سیاست کی ہوبہو عکاسی کر رہے ہوتے ہیں۔
عورت کو حقوق اور آزادی نہ مغرب دے سکتا ہے نہ مشرق۔ آج تک عورت نے یہ تمام کامیابیاں اپنے بل بوتے پر سیاسی جد وجہد کے تحت حاصل کی ہیں اور دنیا کے دیگر حصوں میں پائی جانے والی تمام حقوقِ نسواں کی تحریکوں کی حمایت کی ہے۔ چونکہ عورت کا استحصال ایک بین الاقوامی حقیقت ہے، اس لیے عورت کی جد وجہد کا بین الاقوامی سطح پر جڑنا کوئی حیران کن عمل نہیں ہے۔ لہذا سوشلسٹوں اور فیمنسٹوں کو رجعتی طبقہ کی تنقید کو اپنی جد وجہد کی راہ میں رکاوٹ بننے نہیں دینا چاہئے۔
ایک طرف دائیں بازو حقوقِ نسواں کی تحریک کے خلاف منظم ہے تو دوسری جانب ہم دیکھتے ہیں کہ عوامی ورکرز پارٹی بلوچستان کی جانب سے ایک بیان جاری کیا جاتا ہے جس میں 8 مارچ کو ہونے والی عورت مارچ کی مذمت کی جاتی ہے۔ مزید یہ لکھا جاتا ہے کہ عورت مارچ میں بلند کیے گئے نعروں کا محنت کش طبقہ کی عورت یا جد وجہد سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ بیان نہ صرف پارٹی میں موجود تضادات کی ایک اور دلیل ہے بلکہ بلوچستان پارٹی کے رجعتی رجحان کو بھی نمایاں کر رہا ہے۔ عوامی ورکرز پارٹی کے مرکزی راہنما فاروق طارق نے کہا کہ بلوچستان پارٹی نے جو بیان دیا ہے اس کا عوامی ورکرز پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ خوش آئند بات ہے ۔لیکن پارٹی کے اندر اس موضوع کو زیر بحث لانا چاہیئے تاکہ اس تضاد کوختم کیا جاسکے۔ تاریخ کے اس اہم موڑ پر کہ جب پاکستان میں خواتین کی تحریک زور پکڑ رہی ہے سوشلسٹ اور ترقی پسندتنظیموں پر لازم ہے کہ وہ طے کریں کہ وہ کس کے ساتھ
کھڑے ہیں۔ بائیں بازو کا اصولی موقف حقوقِ نسواں کی تحریک کی حمایت میں ہونا چاہیے نہ کہ رجعتی دائیں بازو کے پدرشاہی رجحان کی حمایت میں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here