پشتون قتل عام،طالبان اور جدوجہد کا تناظر

0
128

وانا میں علی وزیر اورپی ٹی ایم کے کارکنان پر فائرنگ کی وجہ سے 40سے زائد پشتون زخمی ہوئے اور 5شہید ہوئے جن میں 2 بچے بھی شامل ہیں۔یہ ایک نہایت ہی خطرناک حملہ ہے اور اس کے ذریعے طالبان پشتون تحفظ موومنٹ کو پیچھے دھکیلنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنا کنٹرول بحال کراسکیں اور اس عمل میں انہیں ریاست کی پس پردہ حمایت حاصل ہے ۔ پشتون تحفظ موومنٹ کو پشتون قوم میں وسیع پیمانے پر حمایت مل رہی ہے ۔ اس تحریک کے ابھار کی بنیادی وجہ دہشت مخالف جنگ،ماروائے عدالت قتل،جبری گمشدگی،چیک پوسٹ پرپشتونوں کی تذلیل،بڑے پیمانے پر بے دخلی اور نسل پرستی ہے۔اس صورتحال کا آغاز دودہائیوں قبل دہشت مخالف جنگ سے ہوا جس نے پشتون سماج کو برباد کردیا اور ان کو طالبان اور شدت پسند کے طور پر پیش کیا جاتاہے لیکن پشتون تحفظ موومنٹ نے اس حقیقت کو واضح کیا کہ طالبان اور دہشت گردی کا پشتون قوم سے کوئی تعلق نہیں ہے اور پشتون امن پسند قوم ہے۔
ریاست کی طرف سے طالبان کی حمایت یہ واضح کرتی ہے کہ وہ کس قدر طالبان کے خلاف آپریشن میں سنجیدہ ہے اور لیفٹ اور لبرلز میں جو یہ سمجھتے تھے کہ فوج ہی طالبان کے خلاف لڑسکتی ہے اور لبرل اور جمہوری آزادیوں کا دفاع کرسکتی ہے۔موجود صورتحال یہ واضح کرنے کے لیے کافی ہے کہ عوام اور اس کی تحریکیوں میں یہ صلاحیت موجود ہوتی ہے کہ وہ ہر قسم کے جبر اور ظلم کو شکست دئے سکیں اور پشتون تحریک اس کی واضح مثال ہے اور آج ایک بار پھر جس طرح پشتون تحریک نے مسلح طالبان کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا ہے یہ واضح کرتا ہے کہ طاقت کہاں ہے۔ ریاست کے لیے طالبان نہیں عوامی تحریک ہی خطرناک ہے اور وہ اس کے مقابلے میں طالبان کی ہی حمایت کررہے ہیں۔اس سے یہ بھی واضح ہے کہ جو موجود فریم ورک میں حل دیکھتے ہیں وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ریاست اور حالات کی نوعیت کیا ہے ۔
عالمی سرمایہ داری کا بحران اور خطے میں سامراج کی بڑھتی ہوئی کشمکش کی وجہ سے اس وقت پرامن حل ممکن نہیں ہے اور تضادات کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے اور ریاست کا غالب حصہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کا حل جبرو تشددمیں ہی ہے اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہوتو خانہ جنگی سے موجود حالت کو کنٹرول کیا جائے کیونکہ اس وقت پرانے طریقہ سے بدلتے ہوئے حالات میں اس کے لیے حکومت کرنا ممکن نہیں ہورہا خاص کر اس لیے بھی محنت کش اور مظلوم اقوام پرانے طریقہ سے رہنا نہیں چاہتے وہ سرمایہ کے جبر،تشدد،جنگ ،استحصال اور نسل پرستی سے تنگ ہیں اس نے ان کی زندگی اجیرن بنارکھی ہے۔اس لیے ہر جگہ وبال ہے پھر چاہیے یہ پشتون ،گلگت بلتستان،سندھ،ہزارہ یا بلوچستان ہو۔ان حالات میں یہ ضروری ہے جہاں جمہوری سیاسی تحریک کو جاری رکھا جائے اور اس دہشت گردی کے خلاف احتجاج کیا جائے وہاں یہ بہت ضروری ہے کہ ہر جگہ پر احتجاج کرنے والے جتنی جلدی ممکن ہو تحریک کی تنظیم سازی کرئیں تاکہ جمہوری طور پر فیصلے ہوں اور فیصلہ سازی میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو شامل کیا جاسکے۔اس کے ساتھ ان تمام تحریکیوں میں یکجہتی پیدا کی جائے اس طرح ریاست کا مقابلہ کرنے کی طاقت میں اضافہ ہوگا۔اس قتل عام کے خلاف احتجاج کے ساتھ پشتون تحفظ موومنٹ کو ایک عام ہڑتال کی کال دینے کی ضرورت ہے اس ساری صورتحال میں مزدور تحریک اور خاص کر پنجاب کی مزدور تحریک کے لیے یہ اہم ہے کہ وہ جبر کے خلاف مظلوم اقوام کا ساتھ دیں ،یوں ہی طبقاتی یکجہتی حقیقی معنوں میں سامنے آسکتی ہے جس سے مل کر سامراج اور ریاست کا مقابلہ ممکن ہے۔ایک عام ہڑتال جہاں سماج کو جام کردیتی ہے وہاں یہ اس سوال کو بھی سامنے لاتی ہے کہ سماج میں طاقت کا اصل مرکز کہاں ہے اور حکمران کون ہوگا اور یہ ہڑتال جہاں حکمران طبقہ کو تقسیم کرتی ہے وہاں یہ تحریک کی طاقت میں بھی شاندار اضافہ کرتی ہے۔
عرب انقلاب اور ردانقلاب یہ ظاہرکرتا ہے کہ کس طرح سامراج اور ریاست کی مداخلت تحریکیوں کو برباد کردیتی ہے ۔اس لیے جمہوری تحریک اور انقلابات کے لیے سیلف ڈیفنس کا سوال نہایت اہمیت کا حامل ہے۔پچھلے عرصہ میں ریاست نے جس طرح پشتون تحفظ موومنٹ کے ساتھیوں پر تشدداور گرفتار کیا ہے اور کراچی میں سندھی گمشدہ افراد کے لیے قائم کیمپ پر حملہ کیا گیا اور اب وانا میں قتل عام حالات کی سنگینی کو ظاہر کررہے ہیں ۔ان حالات میں جبروتشدد کے خلاف عوامی تحریکیوں کے لیے اپنا دفاع نہایت اہم ہے ۔
اس وقت جب الیکشن بھی ہورہے ہیں اور پشتون تحفظ موومنٹ کے کچھ راہنماء الیکشن میں حصہ بھی لے رہے ہیں تو دیگر مطالبات کے ساتھ ایک نئی آئین ساز اسمبلی کے مطالبہ کو سامنے لایا جائے۔کیونکہ موجود آئین کو سرمایہ داری نظام کے مفاد میں تشکیل دیا گیا تھا جس میں محنت کشوں اور مظلوم اقوام کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔اس لیے نئی آئین ساز اسمبلی ایک ایسی جگہ ہوسکتی ہے جہاں محنت کش اور مظلوم اقوام اپنے مفادات کے لیے جدوجہد کرسکتے ہیں اور یوں ہی سامراج ،ریاست اور سرمایہ کے استحصال کے خلاف جدوجہد آگے بڑھ سکتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here