پلوامہ حملہ اور کشمیر میں قومی آزادی کی تحریک

0
42

تحریر:شہزاد ارشد
۔ 14 فروری کو ہندوستانی نیم فوجی دستے(سی آرپی ایف) پر پلوامہ میں ہونے والے حملہ میں49فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔اس کے بعد سے جموں کشمیر اور ہندوستان کے دیگر علاقوں میں انتہا پسند ہندو تنظیمیں سرگرم ہوگئیں۔جموں میں کشمیری مسلمانوں پر حملہ ہوئے اور ان کی املاک کو جلایا گیا اور بہت سارے کشمیری خاندانوں کو مسجدوں میں پناہ حاصل کرنا پڑی۔دوسری طرف ہندوستان کی دیگر ریاستوں میں کشمیری طلباء پر حملہ کیئے جارہے ہیں ان کو تعلیمی اداروں سے نکلنے کے لیے انتہاپسند ہندو تنظیمیں کالجوں اور یونیورسٹیز کی انتظامیہ پر دباؤ ڈال رہی ہیں اور ابھی تک مختلف اطلاعت کے مطابق ایک کالج نے اگلے سال کشمیری طلباء کو داخلہ دینے سے انکار کیا ہے جبکہ 7کشمیری طلباء کو اترکھنڈ یونیورسٹی نے معطل کردیا ہے۔

شہلا رشید جو طلباء راہنماء ہیں ان کی ایک ٹویٹ پر ان کے خلاف مقدمہ درج کردیا گیا ہے جس کے مطابق’’ 15سے20کشمیری خواتین طلباء کی ہوسٹل سے بیدخلی کے لیے انتہاپسند ہندو مظاهرین نے ہوسٹل کو گھیرا ہواہے ‘‘جبکہ دوسری طرف انتہاپسند ہندووں کو کھلی چھٹی دی جارہی ہے کہ وہ کشمیریوں کوخوف زدہ کریں ان پر تشدد کریں اور ان کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کروائیں۔
اس حملے کے بعد ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ بات چیت کا وقت ختم ہوچکا ہے اور انہوں نے فوج کوکھلی کاروائی کرنے کی اجازات دی ہے۔جبکہ ہندوستانی فوج کے کشمیر میں کمانڈر جنرل کے ایس ڈھلوں نے کہا ہے کہ کشمیری مائیں اپنے بچوں کو ہتھیارڈالنے پر مجبور کریں کیونکہ ہتھیار نہ ڈالنے والوں کا انجام موت ہوگا۔اس وقت ہندوستان بھر میں فوجیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے پروگرام ہورہے ہیں اور تمام ہندوستانی حزب اختلاف حکومت اور فوج کا ساتھ دے رہی ہے۔اس کے ساتھ انڈیا نے نہ صرف پاکستان کے ساتھ بس سروس بند کردی ہے بلکہ ہر قسم کی تجارت کو بھی بند کردیا گیا اور راجھستان سے پاکستانیوں کو 48گھنٹے میں نکل جانے کا حکم دیا ہے۔پاکستان نے جہاں اس حملے کی مذمت کی ہے اوروزیر اعظم عمران خان نے تحقیقات میں ہر ممکن تعاون کی بھی بات کی ۔لیکن اس کے ساتھ دھمکی بھی دے دی ہے ۔ان حالات میں کوئی ایک واقع جلتی پر تیل کاکام کرسکتا ہے اور دونوں ایٹمی قوتیںآمنے سامنے آگئیں ہیں۔
کشمیر کی آزادی کی تحریک1947سے ہی جاری ہے اس میں 60کی دہائی کے آخر میں شدت آئی تھی۔اس دوران 90دہائی میں مسلح جدوجہدسامنے آئی جس میں کشمیری قوم نے بے انتہاقربنایاں دئیں۔لیکن بدلتے ہوئے عالمی حالات اورپاکستان کے حکمران طبقہ کی بدلتی ہوئی ترجیحات میں یہ جدوجہد کامیاب نہ ہوسکی۔ 2010سے ایک نئی تحریک نے جنم لیا ہے جس میں نئی نسل سیاسی طور پر سڑکوں پر انڈین فوج کو چیلنج کررہی ہے ۔2016-17میں کشمیری طالبات کی شمولیت نے اسے ایک نئی طاقت بخشی جس کو کنٹرول کرنا انڈین فوج کے لیے ناممکن ہوگیا اس تحریک کو عالمی سطح پر اور خود انڈیا میں طلباء کی طرف سے حمایت مل رہی ہے۔ جس وجہ سے انڈین فوج نے وحشیانہ جبر کی انتہا کردی۔اس تحریک میں شمولیت کے نتیجے میں ہزاروں کشمیری نوجوان قیدوبند کی سزائیں بھگت رہے ہیں جبکہ اس تحریک میں شامل سینکڑوں کو پیلٹ گن کی فائرنگ نے بینائی سے محروم کردیا۔لیکن اس تحریک کے نتیجہ خیز نہ ہونے کی وجہ سے ایک بار پھر کشمیری نوجوان مسلح جدوجہد کی طرف راغب ہورہے ہیں اورپلوامہ کا حملہ اس کا ہی ایک اظہار ہے۔
ہندوستان اور پاکستان کا حکمران طبقہ پچھلے 70سالوں سے کشمیر کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کررہے ہیں اور جنگجو قوم پرستی کو بڑھا کر حقیقی مسائل کو پس پشت ڈال رہے ہیں اور طبقاتی جدوجہد کو تقسیم کرتے ہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ جہاں ہندوستانی حکمران طبقہ نے 70سالوں میں کشمیری قوم پر بے انتہاجبرو تشدکیا اور اب تک لاکھوں کشمیریوں کو شہید اور ہزاروں کشمیری خواتین کی بے حرمتی کی گئی ہے جبکہ پیلٹ گنوں سے بڑے پیمانے پر کشمیری نوجوانوں،بچوں اور عورتوں کو نشانہ بناکران کو زندگی بڑھ کے لیے معذور کردیا گیاہے اور دوسری پاکستان کا حکمران طبقہ بھی کشمیر اور ہندوستان کی دشمنی کے نام پر نہ صرف ہر طرح کی جمہوری تحریکوں کو کچلتاہے بلکہ اسی بنیاد پر انہوں نے پاکستان کو ایک سیکورٹی سٹیٹ بنا رکھا ہے ۔اس کے ساتھ نام نہاد آزاد کشمیر کے عوام بھی مکمل طور پر جمہوری حقوق سے محروم ہیں اور ان کے وسائل کو جبری طور پر لوٹا جارہا ہے اور کشمیر کی آزادی کی حمایت کے نام پرمذہبی انتہاپسندی کو مضبوط کیاگیا ہے جس سے کشمیری قوم کی آزادی کی تحریک تقسیم ہی ہوئی ہے۔پاکستان کا حکمران طبقہ حل سے زیادہ اس مسئلہ کے برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے تاکہ ایک طرف ان کی مراعات اور دوسری طرف خطے میں ان کے مفادات برقرار رہ سکیں۔
انقلابی سوشلسٹ انفرادی دہشت گردی کی مخالفت کرتے ہیں ۔ لیکن پلوامہ حملہ بنیادی طور پرانڈین ریاست کے جبر وظلم اور خون ریزی کا ردعمل ہے جو اس نے کشمیر میں برپا کررکھاہے۔انڈین ریاست اس واقع کو جواز بنا کر کشمیر میں مزید ظلم و ستم کررہی ہے اور خود کو مظلوم بنا کرپیش کررہی ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ انڈیا کی ریاست اور فوج ہی دہشت گرد ہے اور انہوں نے یہ جنگ کشمیر پر مسلط کررکھی ہے ۔اس لیے کشمیرکی قومی آزادی کی تحریک کویہ مکمل حق ہے کہ وہ قبضے کے خلاف سیاسی اور مسلح جدوجہد کرے ۔
ہندوستان اور پاکستان کی محنت کش طبقہ کی تحریک کا یہ فرض ہے کہ وہ کشمیری قوم کی آزادی کی تحریک کی مکمل حمایت کریں اور ان کے خلاف نسل پرستی اور جاری حملوں کی مخالفت کریں۔انڈیا میں جہاں اس وقت کشمیریوں کے خلاف نسل پرستی اور جنگ کے جذبات عروج پر ہیں اور کشمیری طلباء اور تاجروں پر حملہ کیئے جارہے ہیں۔لیکن وہاں بہت سارے لوگ کشمیریوں کا دفاع بھی کررہے ہیں اور ان کو اپنے گھروں میں پناہ دے رہے ہیں۔اس وقت اسی جذبہ کے تحت انڈیا میں کشمیریوں پرنسل پرستی کے خلاف جدوجہد منظم کرنے کی ضرورت ہے۔
امریکہ و چینی سامراج اورسعودی عرب کی ریاست کسی طور کشمیر کی قومی آزادی کی تحریک کی مددگار نہیں ہوسکتی ہیں ۔یہ سب اس لیے مداخلت کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اس میں ان کے اپنے مفادات پنہاں ہیں۔سامراج اور اس کی کٹھ پتلی ریاستوں کے مفادات نے پہلے ہی کشمیری قوم کو تقسیم کررکھا ہے اور یہ ان پر جنگ مسلط کرنے والوں کے ساتھ گہرے تعلقات رکھتے ہیں۔کشمیر کی قومی آزادی کی تحریک کی قیادت کی ان ممالک سے امید حقیقت میں کشمیر کی آزادی کی تحریک کو دھوکا دیناہے اور اقوام متحدہ نے بھی کشمیر کے مسئلہ کوحل نہیں کیا بلکہ پچھلے 70سالوں میں انہوں نے کشمیر کی تحریک آزادی کو کچلنے میں ہندوستان اور پاکستان کے حکمران طبقہ کو مدد ہی فراہم کی ہے۔ اس ساتھ ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ کشمیری حریت پسندوں کا یہ حق ہے کہ وہ انڈین قبضے کے خلاف لڑنے کے لیے جہاں سے ممکن ہو ہر طرح کی مدد لیں ۔لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ ایسا کرتے ہوئے سامراج اور دیگر ریاستوں کی پراکسی کا کردار ادانہ کریں۔
کشمیر کے مسئلہ کا واحد حل خود کشمیری قوم کی جدوجہد میں ہے جو اس وقت کشمیر میں جاری ہے جس میں نوجوان اور طلباء اہم کردار ادا کررہے ہیں ۔کشمیر میں مسلح جدوجہد کو جاری سیاسی جدوجہد کے ماتحت آنا ہوگا۔جس کے لیے کشمیر کے سکولوں،کالجوں،علاقوں اور کام کی جگہ پر کمیٹیاں تشکیل دینی ہوں گی جو اس جدوجہد کو قیادت فراہم کرسکیں۔کشمیر کی قومی آزادی کی تحریک کو پاکستان اور انڈیا کے محنت کش طبقے کے ساتھ تعلق بنانا ہوگا جو ان کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں،انڈیا اور پاکستانی سوشلسٹوں کو کشمیری قوم کی حق خود اردیت کی حمایت انٹرنیشنلسٹ بنیادوں پر کرنی ہوگی ،یوں ہی کشمیر یوں پر جنگ کا خاتمہ اور قتلِ عام کو روکا جاسکتا ہے۔کشمیری قوم کی حقیقی آزادی جنوبی ایشیا کی سوشلسٹ فیڈریشن کی تعمیرسے منسلک ہے جس سے کشمیر اور خطے میں موجود دیگر مظلوم اقوام اور محنت کش طبقہ کی حقیقی آزادی ممکن ہوسکتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here