کیا سوشلزم انسانی فطرت کے خلاف ہے؟

0
234

تحریر:شہزاد ارشد
جو لوگوں سماجی تبدیلی کی جدوجہد میں متحرک ہیں،ان کو ایک سوال کا ہمیشہ ہی سامنا رہتا ہے کہ سوشلزم ممکن نہیں،یہ کہتے ہیں کہ آپ کی سرمایہ داری پر تنقید اچھی ہے اور آپ ایک بہتر معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔یہ اچھی بات ہے لیکن خیالی ہے کیونکہ انسانی فطرت کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہے، انسان بہت خود غرض اور لالچی ہے،لڑنا انسانی فطرت ہے،نسل پرستی کے حوالے سے کہتے ہیں کے ایہ انسانی فطرت کا حصہ ہے،اس لیے ہم دوسرے ممالک کے لوگوں،ان کی تہذیب اورمذہب سے نفرت کرتے ہیں،خواتین کو سماج میں جن پابندیوں اور جبر کا سامنا ہوتا ہے،اس کے لیے مختلف سماجوں میں مختلف وجوہات بیان کی جاتی ہے،لیکن ایک بات مشترکہ ہوتی ہے کہ یہ مختلف ہیں اور مرد کے برابر نہیں ہیں۔یہ کہتے ہیں کہ مالکان کے بغیر کام ممکن نہیں ہے لوگوں خود کام نہیں کرسکتے بلکہ ان سے کام لینے والے مالکان ہونے چاہیں۔ان دلیلوں کے ذریعے سوشلسٹ سماج کے قیام کا راستہ روکنے کی کوشش کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ سرمایہ داری ہمیشہ سے تھی اور ہمیشہ رہے گئی کوئی متبادل ممکن نہیں ہے۔اس لیے کہا جاتا ہے کہ انسانی فطرت نہ صرف منفی ہے بلکہ جامد بھی،یعنی دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں،ایک اچھے اور دوسرے برے اور آپ انسانی فطرت کو تبدیل نہیں کرسکتے۔
مارکس نے کہا تھا کسی عہد میں بالادست نظریات اس عہد کے حکمران طبقہ کے نظریات ہوتے ہیں۔حکمران طبقہ کا موقف ہے کہ انسان کی فطرت جامد ہوتی اور اس میں تبدیلی ممکن نہیں ہے یہ بات سرمایہ دارنہ نظام کے حق میں جاتی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ لالچ،تشدد،خود غرضی انسانی فطرت کا حصہ ہے اور چونکہ سرمایہ داری نظام میں لالچ اور تشدد اہم ہے اس لیے یہ سب بہتر معاشی نظام ہے۔ان نظریات کے مطابق کچھ لوگ باصلاحیت ہوتے ہیں اس لیے وہ ترقی کرتے اور آگے بڑھتے ہیں،جبکہ کاہل اور نااہل لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں۔
لیکن سوشلسٹوں کا موقف اس کے برعکس ہوتا ہے ان کے مطابق انسانی فطرت جامد نہیں ہے بلکہ یہ تبدیل ہوتی رہتی ہے اور مختلف مواقوں پر مختلف رویہ ظاہر کرتی ہیں۔ہمارا کوئی فیصلہ یا قدم ہمارے سماجی حالات سے مطابقت رکھتا ہے۔ایک ہی شخص اگر ایک موقع پر لالچی ہوگا تو دوسرے موقع پر سخاوت کا بھی مظاہرہ کرتا ہے،یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ کسی شخص کی پیدائیشی بناوٹ نہیں ہے بلکہ یہ حالات ہوتے ہیں جن کے مطابق انسان فیصلہ کرتا ہے،مارکس کہتا ہے کہ انسانی فطرت سماجی تعلقات کے مجموعے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ہمارا یہ موقف ہے کہ انسانی فطرت،ارتقاء کے عمل کے دوران تبدیلی کے مراحلہ سے بارہا گزارتی ہے،انسان مسلسل محنت کے ذریعے نہ صرف اپنے حالات میں تبدیلی لاتا ہے،بلکہ نئے سماجی حالات بناتا ہے اور ان سے مطابقت میں آتا ہے۔یوں اگر انسان مختلف معاشی نظام بنا سکتا ہے جن کے مطابق وہ خود کوڈھال لیتا ہے تو پھر وہ سوشلزم بھی قائم کرسکتا ہے۔
یہ دلائل اہم ہیں اگر ہم حکمران طبقہ کے نظریات کو تسلیم کرلیں تو پھر تبدیلی کی جدوجہد ہی بیکار ہوجاتی ہے،یعنی اگر لالچ انسانی فطرت ہے تو پھر انسانی فلاح و بہبود کی کوئی بھی کوشش بیکار ہوجائے گی جبکہ ہم دنیا میں اس کے برعکس دیکھتے ہیں کہ لوگ کیسے ایک دوسرے کے کام آتے ہیں،ہاں یہ بھی صیح ہے کہ سرمایہ داری نظام لوگوں کو لالچی بناتا ہے ان کو پتہ ہے اگر ان کے پاس دولت اور وسائل نہ ہوئے تو ان کی زندگی میں شدید مشکلات آسکتی ہیں لیکن انسانوں نے تاریخ میں ایسے سماج بھی دیکھے ہیں جب لوگ اپنی ضرورت سے زیادہ کھانا یا وسائل دوسرے لوگوں کو دے دیتے تھے جو ان سے محروم ہوتے تھے،حالانکہ ان کو اس بات کا کوئی انداز نہیں ہوتا تھا کہ جند گھنٹوں میں ان کی ضروریات کیسے پوری ہوگئیں۔
آج طبقاتی نظام کا دفاع بھی اسی انسانی فطرت کے نام پر کیا جاتا ہے جس کے مطابق کچھ لوگ اہل اور محنت کرتے ہیں اور وہ امیر ہوجاتے ہیں۔جبکہ دیگر فضول خرچ اور کاہل ہوتے ہیں اور ایسا فطری طور پر ہوتاہے۔اس سب کے ذریعے حکمران سرمایہ دارنہ استحصال کا دفاع کرتے ہیں اور اس حقیقت سے صرف نظر کرتے ہیں کہ امیر اور غریب ہونے کی وجہ محنت،اہلیت سے زیادہ کچھ ہے۔آج لوگوں کی بڑی تعداد محنت کرتی ہے جس کی وجہ سے یہ نظام چل رہے ہے۔لیکن اکثریت کے لیے زندگی بسر کرنا مشکل ہوتا ہے لیکن ایک اقلیت جو کچھ زیادہ نہیں کرتی آرام اور آسائیش کی زندگی بسر کرتی ہے۔
نسل انسانی نے ایک طویل مسافت طے کی ہے اور اس دوران بڑی تہذیبی اور تمدنی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوئیں ہیں،لیکن انسانوں کی کچھ خاص ضروریات میں کوئی بنیادی تبدیلیاں نہیں آئیں ہیں،زندہ رہنے کے لیے اسے خوراک،پانی،ہوا اور چھت کی ضرورت ہے،اسے خودکو درپیش خطرات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے،اس کے علاوہ بچوں کو والدین کی ضرورت ہے،کام کرنے کے لیے آرام اور نیند کے علاوہ،اس کی کچھ جنسی اور جذباتی ضروریات بھی ہیں۔زندگی گزارنے کے لیے انسان کو سماجی تعلقات،محبت اور آزادی کی ضرورت ہوتی ہے۔سوشلزم ان میں سے کسی صورت کی نفی نہیں کرتا،بلکہ سوشلسٹ سماج میں ضروریات کو زیادہ احسن طریقہ سے پورا کیا جاتا ہے۔
مارکس کہتا ہے کہ یہ صرف اردگرد کے حالات نہیں ہوتے جن کی تبدیلی سے لوگ بدلتے ہیں بلکہ یہ لوگ ہوتے ہیں جو تبدیلی کے عمل کے دوران اپنے حالات بدلتے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ کیسے لوگ جدوجہد کے دوران بدلتے ہیں اس سے پہلے وہ لوگ جو نظام کو قبول کرکے بیٹھتے ہیں جب وہ مشترکہ مقاصد کے لیے جدوجہد میں آتے ہیں تو یہ عمل ان کو خود بھی تبدیل کردیتے ہیں۔پہلے جو ذاتی زندگی سے آگے نہیں سوچ پاتے تھے اب مشترکہ مفاد کے لیے جدوجہد میں ہر طرح کی قربانی کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔
مارکس کے مطابق، انقلاب ضروری ہے نہ صرف اس لیے کہ حکمران طبقہ سے کسی اور طریقہ سے چھٹکار احاصل نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس لیے بھی کہ جو طبقہ اسے اکھاڑ پھینکے لگے گا وہ ہی اس عمل کے دوران اپنے پر مسلط صدیوں کی غلاظت سے نجات پائے گا اور یوں مزدور طبقہ ایک نئے سماج کے لیے تیار ہوسکتا ہے۔
سوشلزم نہ صرف ایک نئے سماج کو قائم کرے گا،بلکہ یہ نیاشعور تشکیل دے گا جوسرمایہ داری نظام کے شکنجے سے آزاد ہوگااور یوں ایک نیا انسان تشکیل پائے گا جو ہر قسم کے جبر سے پاک ہوگا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here