۔8مارچ محنت کش طبقہ کی عورت کے جدوجہد کا دن

0
51

تحریر:شازیہ آفتاب
آٹھ مارچ دنیا بھر میں عالمی یوم عورت کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ لیکن آج بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس دن کا آغاز محنت کش طبقہ کی عورتوں نے کیا تھا اور یہ کوئی این جی اوز کا دن نہیں ہے۔جیسے کہ بہت سارے لوگ آج سمجھتے ہیں درحقیقت اس کی بنیادیں محنت کش عورتوں کی تحریک میں ہیں 1908میں انٹرنیشنل لیڈیز گارمنٹس ورکرز یونین کی طرف سے ہڑتال کی گئی۔ اگلے سال ہڑتال کی یاد میں سوشلسٹ پارٹی نے نیویارک میں ایک میٹنگ منظم کی جبکہ کوپن ہیگن میں دوسری انٹرنیشنل کی طرف سے منعقد کی جانے والی انٹرنیشنل ویمن کانگریس میں محنت کش عورتوں کے عالمی دن کا تصور پیش کیاگیا تھا اور معروف انقلابی خاتون کلارا زیٹکن نے اس کی تائید کی۔ اس کانگرس میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی100 سے زائد خواتین مندوبین موجود تھیں اورتمام نے اس تجویز کی حمایت کی۔ اس کا ایجنڈا کام کرنے کی جگہوں پر عورتوں کے لیے بہتر حالات کے حصول کی جدوجہد کو سرمایہ داری کے خاتمے کی جدوجہد سے منسلک کرتے ہوئے ہر طرح کے جنسی امتیاز کو مسترد کرنا تھا۔ اس کانگریس میں منظور کی گئی قرارداد کی روشنی میں 1911 میں محنت کش عورتوں نے روس میں پہلی دفعہ فروری کے آخر میں عورتوں کا عالمی دن منایا ۔ امریکہ میں عام طور پر فروری کی آخری اتوار کو یہ دن منایا جاتا تھا۔ اس عہد میں مزدور تحریک بہت منظم تھی اور عورتیں بھی اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کررہیں تھیں۔ 1913 میں پہلی دفعہ 8 مارچ کو یہ دن منایا گیااس کے بعد 8 مارچ کو ہی محنت کش عورتوں کا عالمی دن قرار دے دیا گیا۔ 1917کے روس میں برپا ہونے والے فروری انقلاب کا آغاز بھی عورتوں کے عالمی دن سے ہی ہوا تھا۔ پیٹرو گراڈ میں عورتوں نے عالمی جنگ اور اس کے نتیجے میں ہونے والے غذائی قلت کے بحران کے خلاف احتجاج کیا۔ ٹیکسٹائل کے مزدوروں نے ان عورتوں سے یکجہتی کے لیے اپنے نمائندے بھیجے اور اعلان کیا کہ وہ ہڑتال کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اسی سے عوامی ہڑتال کا جنم ہوا جس نے انقلاب روس کی بنیاد رکھی۔ اکتوبر میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد بالشویکوں نے عورتوں کے عالمی دن کے موقع پر سرکاری چھٹی کا اعلان کیا۔ سوشلسٹ تحریک نے ہمیشہ عورتوں کے حقوق کی جدوجہد کواپنے مطالبات میں اہم مقام دیا ہے۔ 
عالمی سطح پر عورتوں کی ابھرتی ہوئی نئی تحریک
عالمی سطح پرحالیہ برسوں میں عورتوں کی نئی تحریک دنیا بھر میں ابھررہی ہے۔اس سال بھی عورتوں وسیع پیمانے پر 8مارچ کو دنیا بھر میں جلسے اور ریلیاں منعقد کریں گئیں۔سپین میں پچھلے سال 60لاکھ سے زائد عورتیں نے عورتوں کی تنظیموں اور فیمنسٹوں کی اپیل پر ہرتال کی جس کی عام ٹریڈ یونین ورکرز نے حمایت کی اوراس میں شمولت اختیار کی جس کی وجہ سے ٹرید یونین قیادت کو بھی اس کی حمایت کرنی پڑئی۔اس ہرتال کو منظم کرنے کا مقصد جہاں کام کی جگہ پر عورتوں کے حالات کو سامنے لانا تھا وہاں اس کا ایک مقصد گھر میں عورت کی بغیر اجرت کی محنت کو سامنے لاناتھا۔عالمی عورت ہرتال ایک اہم قدم ہے ۔ سوشلسٹوں اور حتی کہ تمام مزدور تحریک اور مظلوموں کو اس کی حمایت کرنی چاہیئے تاکہ یہ ہرتال حقیقت میں ایک کامیابی بن سکے۔اس وقت امریکہ،لاطینی امریکہ،یورپ اور ایشیا ہر جگہ ہی عورتوں کی تحریکیں جنم لے رہیں ہیں،جو عورتوں پر تشدد ،جنسی طور پر ہرساں کرنے،برابر کام کی برابر تنخواہ،اسقاط حمل کے حق اور عورتوں کے خلاف رجعتی قوانین کے خلاف سرگرم ہیں۔
عورتوں کی یہ نئی تحریکیں بنیادی طور پر سرمایہ داری میں آنے والی تبدیلیوں اورخاص کر2007-08کے سرمایہ دارانہ بحران کا نتیجہ ہیں۔جس نے بڑے پیمانے پر عورتوں کی زندگیوں کو بدل دیا ہے۔نیم نوآبادیاتی ممالک میں لاکھوں کی تعداد میں عورتیں اجرتی مزدوروں میں تبدیل ہوئیں ہیں جس کی وجہ سے انہیں نہ صرف دوہرے استحصال کا سامنا ہے بلکہ ہر دو جگہ پر انہیں ہرساں بھی کیا جاتا ہے۔عورت کو مرد کے مقابلے میں کم تنخواہ ملتی ہے اور انہیں کم تنخواہ والے کام دئیے جاتے ہیں۔نیولبرل ازم نے مزدور اور خواتین تحریک کی جدوجہد سے حاصل ہونے والی بہت سی مراعات اور سہولیات کا خاتمہ کردیا ہے جس کی وجہ سے ان کے بغیر اجرت کے گھریلو کام میں اضافہ ہوا ہے اور دوسری طرف یہ حالات ان کو کام کی جگہ پر کم معاوضہ پر کام کرنے پر مجبور کررہے ہیں۔سرمایہ دارانہ نظام کے بحران اور سامراجی تضادات کی وجہ سے خواتین کو جنگ،بے گھری اور جمہوری آزادیوں پر پابندیوں کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے۔لیکن یہ سب صرف محنت کش طبقہ کی عورتوں تک محدود نہیں ہے بلکہ مڈل کلاس اور پروفیشنل عورتیں بھی اس کی زد میں آرہیں ہیں۔ اس صورتحال کے خلاف ایک کے بعد دوسرے ملک میں جدوجہد جنم لے رہی ہے جیسے باہم منسلک کرنے اور اسے مزدور تحریک سے جوڑنے کی ضرورت ہے یوں ہی ایک متحدہ جدوجہد سرمایہ دارانہ نظام کے بحران،استحصال اور جبر کا مقابلہ کرسکتی ہے۔
پاکستانی عورتوں اور سماجی برابری کی جدوجہد:
پاکستان میں عورت کے حالات زندگی نہایت مشکل ہیں اور عام طور پر کام کرنے والی عورت کو اچھا نہیں سمجھا جاتا اور عورتوں کو امتیازی سلوک اور رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔2014میں ورلڈ بنک کی رپورٹ کے مطابق عورتیں افرادی قوت کا 28فیصد ہے۔لیکن مستقل روزگار صرف2فیصد عورتوں کو ہی حاصل ہے۔ایک اندازے کے مطابق شہروں میں20لاکھ عورتیں گھروں میں کام کرتی ہیں اور دیہات میں 70فیصد سے زائد عورتیں کھیتوں میں کا م کرتی ہیں۔پاکستان کا عورتوں کے حوالے سے دنیا میں 143وں نمبر ہے،پاکستان میں عورتوں کی شرح خواندگی مردوں کی شرح خواندگی 69.5کے مقابلے میں45.8فیصد ہے۔
سوشلسٹ عورتوں کی آزادی کے حامی ہیں،ان کے دوہرے استحصال کی وجہ طبقاتی نظام ہے۔سرمایہ داری میں عورتیں پر گھرکے کام ،بچوں کی پرورش اور دیگر کاموں کا بوجھ ہوتاہے۔ان سب فرائض سے چھٹکارا حاصل کرنا اس نظام میں ان کے لیے ممکن نہیں ہے اس لیے وہ بڑی حد تک ان مواقعوں سے بھی محروم ہیں جن کو سرمایہ داری میں بھی قانونی تحفظ حاصل ہے،ان کے ساتھ ملکیت جیسا رویہ رکھا جاتا ہے۔سوشلسٹوں نے ہمیشہ عورتوں کی آزادی کے نعرے کو بلند کیا ہے۔ہم عورتوں کے رہن سہن اور عقیدے کے معاملات میں تمام تر آزادیوں کا دفاع کرتے ہیں۔
ہم عورتوں پر گھریلو تشدد، حملوں اور انہیں جنسی طور پرہرساں کرنے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔اس حوالے سے موجود قوانین کو بہتر بنایا جائے اور ان پر موثر انداز میں عمل درآمد کیا جائے اورقانون سازی اور ان پر عملدآمد کے حوالے سے عورتوں کے گروپوں سے مشاورت کی جائے۔ہم عورتوں کے جسم پران کے حق کو تسلیم کرتے ہیں اور جنسی بنیادوں پر امتیازی قوانین،عزت کے نام پر قتل ،جہیز اور زبردستی کی شادیوں کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
ہم عورتوں کو گھروں میں مقیدکرنے کے خلاف ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کوسماجی زندگی کا مکمل حصہ ہونا چاہیے۔اس لیے بچوں کی پرورش کے اداروں کو تعمیر کرکے سماجی کنٹرول میں دینا چاہیئے اور ان کی پرورش کی کو سماج کی ذمہ داری سمجھتے ہیں نہ صرف گھر میں عورتوں کی ذمہ داری،خاندان کے گھریلو کام تما م سماج کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ہم حکومت سے سماجی باورچی خانوں اور لانڈری کے کام کے لیے بجٹ مختص کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں،تاکہ کھانا پکانا اور کپڑے دھونا صرف گھروں میں ہی نہ ہو۔ایک جیسے کام کے لیے عورتوں اور مردوں کی تنخواہ برابر ہونی چاہیئے۔ان مطالبات کے گرد ایک بڑی تحریک کی تعمیر کی ضرورت ہے ۔جنسی امتیاز نہ صرف سماج میں بڑے پیمانے پر موجود ہے،بلکہ یہ محنت کشوں کی تحریک میں بھی موجود ہے اس لیے خواتین کی علیحدہ تنظیم سازی کی ضرورت ہے،تاکہ اس امتیاز کے خلاف سماج،خاندان اور مزدور تحریک میں جدوجہد کی جاسکے۔ہم خواتین کے اپنے مسائل کے حل ،ان پر ہونے والے مظالم اور جنسی امتیاز پر بحث کو مردوں سے علیحدہ طور پر کرنے کے حق کا دفاع کرتے ہیں۔خواتین کو یہ حق ٹریڈ یونینز اور سیاسی تنظیموں میں بھی ہونا چاہیے۔اس لیے ہم خواتین کے علیحدہ تنظیم سازی اور میٹنگ کے حق کو تسلیم کرتے ہیں تاکہ خواتین اور مرد محنت کش ملکر اس طبقاتی نظام کے خلاف جدوجہد کرسکیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here