معاشی بحران اور جمہوری آزادیوں پر حملے

0
99

تحریر:شہزاد ارشد
پاکستان کے معاشی بحران کا تمام بوجھ آئی ایم ایف کے حکم پر محنت کش عوام اور مڈل کلاس پر ڈال دیا گیا ہے جس کی وجہ سے تحریک انصاف کی حکومت عوام میں تیزی سے غیر مقبول ہورہی ہے۔جیسے مہنگائی،بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہورہا ہے ویسے ہی کرپشن کا شور بڑھ رہا ہے اور حکمران طبقہ کے مختلف حصوں کے ٹکراؤ میں اضافہ ہورہا ہے۔لیکن حقیقت میں پاکستان کی معیشت کا بحران صرف حکمران طبقہ کی کرپشن اور نااہلی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس کی بنیاد عالمی سرمایہ داری کے گہرے ہوتے ہوئے بحران،بڑھتے ہوئے سامراجی تضادات اور پاکستان کی نیم نوآبادیاتی پوزیشن میں ہے جس کی وجہ سے پاکستان دوالیہ کے قریب پہنچ چکا ہے۔آئی ایم ایف کے مطابق موجود مالی سال میں اس کی شرح نمو2.4تک گرجائے گئی،جبکہ اس سال دس لاکھ لوگ بے روزگار ہوئے ہیں اور چالیس لاکھ لوگ غربت کی لیکر سے نیچے چلے گئے ہیں۔
اس وقت ملکی مفادات اور کرپشن کے سائے تلے ہر مخالف آواز کودبا یا جارہا ہے حکمران طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ معیشت کابحران اس قدرشدید ہے کہ اسے آمرانہ طریقہ سے ہی حل کیا جاسکتاہے جس کی وجہ ریاست کی استبدادیت میں اضافہ ہورہا ہے۔یہ اظہار رائے کی آزادی کومکمل طور کچل دینا چاہتے ہیں تاکہ محنت کش عوام،مڈل کلاس اور تاجر اس بحران کی قیمت ادا کریں اورعالمی و گماشتہ سرمایہ داروں کے لیے سازگار ماحول بنایا جاسکے۔اسی لیے بڑے سرمایہ داروں کو ٹیکس چھوٹ اور دیگر نواشات دی جارہی ہیں۔
میڈیا پر پابندیاں اس وقت عروج پر ہیں پہلے ہی مختلف طریقوں سے میڈیا پر دباؤ ڈالا جارہا تھا جس کی وجہ سے بہت سارے صحافی بے روزگار ہوچکے ہیں۔پاکستان میں میڈیاپر سنسر بڑھتا جا رہا ہے پہلے جن اداروں کے بارے میں لکھنا ممنوع تھا پھر اُن کے حکم پر سی پیک پر بات کرنا بھی مشکل ہو گیا اور اب آئی ایم ایف سے معاہدے سے پہلے ایک محفل میں گفتگو کرتے ہوئے قیصر بنگالی نے کہا کہ آئی ایم ایف سے متوقع ڈیل پر لکھنے پر سنسر کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ کیا لکھا جاسکتا ہے اور کیا نہیں۔
لیکن پچھلے کچھ ہفتوں اور دنوں میں صورتحال شدید ابتر ہوتی جارہی ہے اور اظہار رائے کی آزادی پر شدید حملے کیئے جارہے ہیں اس کا انداز اس بات سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ جبر اور بربریت کے خلاف مظاہرہ تو کیا پریس کانفرنس بھی ممکن نہیں رہی۔پچھلے عرصہ میں جس طرح زرداری کا انٹرویو جیو نیٹ ورک پر روکا گیا اور مریم نواز کے جلسے کی کوریج پر تین چینلوں کو کیبل پر پابندی کا سامنا ہے اور مختلف صحافیوں اور سیاسی و سماجی کارکنان کوہرساں کیا جارہا ہے اس میں اضافہ حیران کن ہے۔
ریاست ہر مخالفت کو کچل دینا چاہتی ہے تاکہ نظام برقرار رہے اور عالمی و مقامی سرمایہ کے مفادات کو پورا کیا جاسکے۔پی ٹی ایم کے خلاف جھوٹ اور نفرت انگیزی پر مبنی کمپین کے بعد پرامن مظاہرین پر فائرنگ کی گئی جس میں 13 مظاہرین شہید ہوئے اور مختلف رپورٹس کے مطابق25سے 45تک زخمی ہیں۔علی وزیر اور محسن داوڑ سمیت کئی افراد زیر حراست ہیں اور پی ٹی ایم پر ایک خوفناک کریک ڈاؤن جاری ہے۔منتخب ایم این ایز کے ساتھ اس طرح کا رویہ اور سپیکر اسمبلی کا یہ کہنا کہ ان کے پروڈکشن آڈر جاری کرنا اُس کے اختیار میں نہیں ہے اس جمہوریت کی حقیقت واضح کرنے کے لیے کافی ہے
تحریک انصاف کی حکومت نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں سزا یافتہ یا مقدمات میں ملوث افرادکے ذرائع ابلاغ کے استعمال پر پابندی عائد کردی گی ہے۔یہ حکومت کے ہاتھ میں ایک ایسا ہتھیار آگیا ہے جس سے وہ اپنے مخالفین کو چھوٹے مقدمات ڈال کر اُن سے بولنے کا حق بھی چھین سکتے ہیں۔پاکستان جیسے ملک میں جہاں حکومت اور ریاستی ادارے اپنے مفادات کے لیے ہر حربہ استعمال کرتے ہیں وہاں یہ صورتحال بہت خطرناک ہوگئی ہے خاص کر اس لیے بھی کہ عدلیہ کا آزادانہ کردار اس کے ماضی اور حال کو دیکھتے ہوئے مشکوک ہے۔
حکمران طبقہ کے تضادات اورٹکراؤ میں اضافہ ہورہا ہے اور اس وقت تما م بورژواء اپوزیشن اپنے مفادات کی جنگ لڑرہی ہے اور وہ اس مشکل صورتحال سے فائدہ اُٹھا نا چاہتے ہیں اور خود کو ایک متبادل کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کا حل کوئی مختلف نہیں ہے۔
اس لیے محنت کش،شہری ودیہی غریب،کسان اور مظلوم اقوام کے لیے جمہوری آزادیوں کی جدوجہد بہت اہم ہے اور حقیقت میں یہی ریاست کی استبدادیت کے خلاف لڑسکتے ہیں اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ محنت کش عوام معاشی حملوں کے خلاف لڑائی کو جمہوری آزادیوں کی جدوجہد سے باہم منسلک کریں تاکہ جمہوری آزادیوں پر حملے اور عوام دشمن بجٹ کا مقابلہ کیا جاسکے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here