سرمایہ کی ہڑتال میں محنت کش طبقہ کیا کرئے؟

0
138

تحریر:شہزادارشد

پاکستان کی معیشت کا بحران شدت اختیار کرگیا ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل کا مقصدجہاں قرضوں اور سود کی ادائیگی وہاں اس بحران کی قیمت محنت کش،شہری ودیہی غریب اور لوئر مڈل کلاس ادا کررہے ہیں لیکن اس کی زد میں تاجر اور دوکاندار بھی آرہے ہیں اور اس صورتحال سے درمیانے اور کچھ شعبوں میں بڑے سرمایہ دار بھی متاثر ہورہے ہیں حالانکہ حکومت نے بجٹ میں بھرپور کوشش کی ہے کہ بڑی کمپنیوں اور برآمد کنندگان کو نوزا جائے لیکن نظام کا بحران اتنا شدید ہے کہ اس کے اثرات ہر طرف ہیں۔لیکن اس صورتحال میں سب سے بری طرح محنت کش طبقہ،شہری و دیہی غریب اور لوئر مڈل کلاس متاثر ہورہے ہیں۔
حکومت جس ٹیکس نظام کو متعارف کروانے کی کوشش کررہی ہے اس کے خلاف سب سے زیادہ مزاحمت درمیانے اور چھوٹے صنعت کارکررہے ہیں اور ٹیکسٹائیل،ایمبرائیڈری اور ماربل کی انڈسٹری نے کی تالا بندی کردی ہے۔اسی طرح ٹریکٹر سازی کی صنعت میں بھی فروخت کی کمی وجہ سے تین بڑی کمپنیاں بحران کا شکارہیں۔سیمنٹ کی صنعت میں 5فیصد اورسٹیل کی صنعت میں 11فیصد کمی ہوئی ہے جبکہ تمباکو اور پروسس فوڈ کی صنعت میں 4.7فیصد کمی ہوئی ہے نیز فارما سوٹیکل کی صنعت میں 8.4فیصد کی کمی آئی ہے۔ موجودہ بجٹ میں ایف ای ڈی کی نئی شرح کے ساتھ ایڈونس کسٹم ڈیوٹی میں بھی 5فیصد اضافہ کیا ہے اور دیگر پالیسیوں کی وجہ سے پچھلے عرصہ میں کاروں کی فروخت میں 50سے60فیصد کمی ہوئی ہے جس کی وجہ سے ہنڈا اٹلس نے دس دن کے لیے پلانٹس بند کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ انڈس موٹرز جو پاکستان میں مقبول گاڑی ٹیوٹا بناتی ہے اس نے ہر ہفتہ دو دن کے لیے کار کی پیدوار میں کمی کا اعلان کیا ہے۔جبکہ سوزوکی کمپنی نے جو1000CCتک کی مقامی مارکیٹ کو مکمل طور پر کنٹرول کرتی ہے جو درمیانہ طبقہ سب سے زیادہ خریدتا ہے اس نے اعلان کیا ہے پچھلے مالی سال کے آخری چھ ماہ میں اسے1.53بلین روپے کا نقصان ہوا ہے اور اس نے بھی اگلے دنوں میں اس حوالے سے لائحہ عمل ترتیب دینے کا اعلان کیا ہے۔ابھی تک ان کمپنیوں نے سینکڑوں کی تعداد میں محنت کشوں کو نوکریوں سے نکال دیا ہے اورسپیئر پارٹس ٹرپل ایس ڈیلر شپ رکھنے والے بھی محنت کشوں کو نوکریوں سے نکال رہے ہیں۔آٹو موبائیل سیکٹر میں 40سے60فیصد کمی متوقع ہے جس کی وجہ سے اس صنعت سے150,000نوکریاں ختم ہوسکتیں ہیں۔ویسے یہ عمل صرف اس صنعت میں ہی نہیں ہے بلکہ دیگربحران کا شکار صنعتوں میں بھی جاری ہے جس کی وجہ سے لاکھوں محنت کش بے روزگار ہوچکے ہیں۔
اس صورتحال کے خلاف تاجروں اور دوکانداروں نے بھی 13جولائی کو ہڑتال کی ہے۔یہ ہڑتال پورے ملک میں ہوئی اور حتیٰ کہ اس کے اثرات چھوٹے شہروں میں دیکھے جاسکتے تھے خاص کر اس کی شدت خیبر پختون خواہ میں کافی زیادہ تھی۔تاجروں کی بڑی تعداد کسی ٹیکس نظام میں نہیں ہیں اور کوئی براہ راست ٹیکس نہیں دیتے ہیں اور موجود صورتحال میں یہ سمجھتے ہیں کہ اگر یہ ٹیکس نیٹ میں آئے تو ان سے دولت،سٹاک اور پراپرٹی کا حساب مانگا جائے گا جو وہ موجودہ غیر یقینی اور برباد معاشی صورتحال میں دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
تحریک انصاف کا یہ بجٹ اسمبلی میں پیش کرنے سے پہلے آئی ایم ایف سے منظور ہوا ہے اور اس کا مقصد جہاں قرضوں اور سود کی ادائیگی ہے وہاں اس بات کا خیال بھی رکھا گیا ہے کہ کیسے عالمی و مقامی سرمایہ داروں کے منافع کو برقرار رکھا جاسکے یہ بجٹ سرمایہ داروں کو”قومی معیشت اور برآمدات“کے نام پر چھوٹ دیتا ہے تاکہ وہ زیادہ منافع حاصل کرسکیں اورایک اندازے کے مطابق پاکستان کے سرمایہ دار طبقے کو حکومت سے حاصل ہونے والی ٹیکس مراعات اور سبسڈیوں کی وجہ سے قومی خزانے کو سالانہ تقریباً1,000ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے اوراس کے ساتھ نجی سرمایہ کو یقین دلاتا ہے کہ وہ ان کے سرمایہ اور منافع کا ہر قیمت پر تحفظ کرئے گا اس کے لیے ایک مثال ہی کافی ہے جیسے گردشی قرضہ کو ختم کرنے کاخوش کن دعویٰ ہے۔ لیکن پیدوار پر کپیسٹی ٹیکس نہیں لگایا گیا اور کارپوریٹ ٹیکس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا بلکہ اس کو پچھلے سال کی سطح(29فیصد) پر ہی رکھا گیا ہے حالانکہ2015میں یہ 33فیصد تھا۔ سٹاک ایکسچینج پر بھی کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیااور امرا کے اثاثہ جات پر عائد ہونے والے ویلتھ ٹیکس کوبھی نافذ نہیں کیا گیا۔
تاجروں کی ہڑتال سے پہلے بھی بڑے سرمایہ داروں سے مذاکرات ہو رہے تھے اور ان کی خوشنودی(منافعوں) کو ”قومی معیشت“کے نام پر برقرار رکھے جانے کی پوری کوشش ہورہی ہے۔برآمد کنندگان کو پرانے بقایاجات کے علاوہ نئی برآمدات پر فوراََ ادائیگیوں کے انتظامات کردیئے گے ہیں۔اس کے علاوہ ہڑتال کے فوراََ بعد مشینری کی برآمدت کے نام پر سرمایہ داروں کے لیے سود کی شرح کو 6فیصد کردیا گیا ہے اوراس کے علاوہ جلد ہی دیگر اقدامات بھی متوقع ہیں۔اس سب کے لیے وزیراعظم،وزارت خزانہ اور ایف بی آر سرمایہ داروں سے مذاکرات کررہے ہیں اور اُن کے مفادات کا خیال رکھا جارہاہے لیکن پیدواری عمل میں بنیادی کردار ادا کرنے والے محنت کش جو دولت پیدا کرتے ہیں ان سے کوئی بات نہیں کی جاتی بلکہ اُن پر مہنگائی کا عذاب مسلط کردیا جاتا ہے۔اسی طرح اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں کٹوتی کی گئی ہے جبکہ دوسری طرف اسٹاک مارکیٹ میں 20ارب ڈالے گئے ہیں۔ وزیراعظم ہاوس کو یونیورسٹی بننے کا دعویٰ کرنے والوں نے وزیراعظم ہاوس کے اخرجات میں 18فیصد اضافہ کردیا ہے یہ سب حکمران طبقہ کی ترجیحات کو ظاہر کررہا ہے۔محنت کشوں کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ درحقیقت انکم ٹیکس اور دیگر ٹیکسوں اور مہنگائی میں اضافہ کی وجہ سے درحقیقت کم از کم 40فیصد کٹوتی ہے،جبکہ 17500کم از کم تنخواہ محنت کشوں کو زندہ درگور کرنے کے لیے ہے لیکن یہ بھی اکثریت کو نصیب نہیں ہے۔
ایک بحران ذدہ معیشت میں سرمایہ کے مختلف حصوں کے تضادات میں اضافہ ہوتاہے اورسرمایہ کا ایک حصہ دوسرے کی قیمت پر اپنے بحران کو حل کرنا چاہتا ہے تو اس صورتحال میں بہت سے کاروبار برباد ہوتے ہیں اوراس سے بڑا سرمایہ ہی فائدہ اُٹھاتا ہے اسی طرح تاجروں یا دوکاندار نے جو ہڑتال کی ہے اس سے بڑے دوکاندار اور سرمایہ دار ہی فائدہ اُٹھائیں گئیں۔جبکہ اس کا زیادہ تر بوجھ محنت کشوں،شہری ودیہی غریبوں اور لوئر مڈل کلاس پر ہی پڑے گا۔تاجروں کے پاس اور زیادہ تر صنعتوں میں کام کرنے والے ورکرز کو کسی قسم کی سہولیات حاصل نہیں ہیں اور وہ10سے12گھنٹے کام انتہائی کم اجرت پر کرتے ہیں اور انہیں نوکری کا کوئی تحفظ حاصل نہیں ہے اور اکثر صورتوں میں چائلڈ لیبر کا استعمال عام ہے۔ان حالات میں لیفٹ کی تنظیموں کو سنجیدگی سے تجزیہ کی ضرورت ہے اور تاجروں یا مالکان کے ساتھ کھڑے ہونے یا صرف معیشت کے بحران کا واویلا کرنے کی بجائے آزادانہ طور پر محنت کشوں کو منظم کرنےاوراحتجاج کی اپیل کرنی چاہیے خاص کر اس لیے بھی کہ بہت ساری صنعتوں میں جہاں ٹریڈ یونین شعور بھی موجود نہیں ہے وہاں محنت کش مالکان کے ساتھ ملکر اُن کے مفاد میں ہڑتال اور احتجاج کا حصہ بن رہے ہیں لیکن محنت کشوں کی کچھ تنظیمیں بھی مالکان کے ساتھ ملکر احتجاج کررہیں جبکہ اُن کو تالابندی اور نوکریوں کے خاتمے کے خلاف احتجاج کرنا چاہیے ہے لیکن ایسا نہیں ہورہا اس وجہ سے محنت کش طبقہ کو نہ صرف کام نہ ہونے کی وجہ سے اجرت نہیں مل رہی بلکہ ان کی نوکریاں بھی ختم ہورہی ہیں۔
عالمی مالیاتی اداروں کے قرضے ادا کرنے سے انکار کیا جائے اور آئی ایم یف کے پروگرام کو مسترد کردیا جائے۔یہ معیشت کی متوازن ترقی کے لیے بنیادی شرط ہے لیکن یہ کام سرمایہ داری نظام پر یقین رکھنے والی حکومت نہیں کرسکتی،اس کے لیے محنت کشوں کی تنظیموں پر مبنی حکومت ہونی چاہیے جو موجود تباہ کن صورتحال میں محنت کش عوام کے اجتماعی مفاد کا دفاع کرئے۔
ہر طرح کے کاروبارکی رجسٹریشن کی جائے اور وہاں پر محنت کشوں کی تنخواہوں اور سہولیات کا مکمل خیال رکھا جائے۔
سیلز ٹیکس اور دیگر بالواسطہ ٹیکسوں کو ختم کیا جائے اور مالکان کے منافع پر ٹیکس لیا جائے تاکہ اس کا اثر محنت کشوں،غریبوں اور چھوٹے دوکانداروں پر نہ پڑے۔ ٹیکس کو محنت کشوں کی کمیٹیوں کی نگرانی میں اکھٹاکیا جائے اور اس ٹیکس کا مقصد آئی ایم ایف کی ادائیگی یا بڑے سرمایہ داروں کو سبسڈیز دینے کی بجائے تعلیم،صحت اورسماجی سہولیات میں اضافہ کیا جائے۔
کارپوریٹ ٹیکس میں اضافہ کیا جائے اور تمام سرمایہ داروں پر ویلتھ ٹیکس لگایا جائے۔
تالابندی کو قبول کرنے کی بجائے محنت کشوں کو ورکرز کمیٹی کے ذریعے اکاونٹس بکس کو کھولنے کا مطالبہ کرنا چاہیے تاکہ دیکھے جاسکے پچھلے سالوں میں انہوں نے کتنا منافع کمایا اور کیا ٹیکس ادا کی اور اب کی کیا صورتحال ہے اور اگر وہ کاروبار کو نہیں چلاسکتے یا نوکریوں کو ختم کررہے ہیں تو ایسی صنعت کو ریاست ضبط کرکے محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دئے۔
نوکریوں کو ختم کرنے کی بجائے کام کے گھنٹوں میں کمی کی جائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here