جاگو گے نہیں سوچو گے نہیں بولو گے نہیں تو باری تمہاری بھی آئے گی

0
238

تحریر:کامریڈ ثناء

جنسی تشدد کے آئے روز ہونے والے واقعات بھیانک سے بھیانک ترین ہوتے جارہے ہیں۔جن پر چند دن چند ہفتے یا پھر چند مہینے سوگ منایا جاتا ہے نعرے بازی ہوتی ہے احتجاج کیے جاتے ہیں کبھی کبھار مجرموں کو پکڑ بھی لیا جاتا ہے اور سزا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے یہ ایسا معاشرہ ہے جس میں سزائیں بھی ایسی ہیں جو جرم کو روکتی نہیں بلکہ جرائم کو کھل کے کرنے کا حوصلہ بخشتی ہیں۔
مجھے سمجھ نہیں آتی ایسی کون سی شر م وحیاہ ہے جو ہم لوگوں کو اس مسئلے کا حل نکالنے سے روکتی ہے.ہم ہر روز کئی کئی معصوموں کی لاشیں اٹھا سکتے ہیں ہم ہر گلی,محلے,بازار،گاؤں اور شہروں میں ایک ہی لمحے میں ہونے والے سینکڑوں واقعات کو برداشت کر سکتے ہیں مگر جیسے ہی اس کے حل کا سوچیں گے تو یہ بے حیائی کے زمرے میں آئے گا۔
عقل کے اندھو! کیا یہ بے حیائی نہیں ہے جو تم لوگ معصوم بچوں کے ساتھ کرتے ہو؟؟؟اس پدر سری نظام نے عورت کا جو تماشہ بنا رکھا ہے کیا وہ بے حیائی نہیں ہے؟ یہ مرد جب چاہے جتنے چاہے جس سے چاہے جنسی تعلقات قائم کرے وہ ان کا ”پیدائشی اور فطری“حق ہے اور جیسے ہی انہی مردوں کو پتا چلے کسی عورت کے جنسی تعلق کا تو اس پر بے حیائی فحاشی اور بد کرداری کے الزام شروع کر دیے جاتے ہیں۔تعفن زدہ درندو! جس کے ساتھ تم تعلق بناتے ہو وہ کوئی خلائی مخلوق ہے کیا؟ وہ بھی عورت ہی ہے اور تم ہی ہو جس نے تعلق بنایا پھر تم پاکباز اور وہ بد کردار کیسے ہے؟؟؟؟ اس معاشرے میں عورت نے پھر بھی اپنے اس فطری جزبے کو دبانا سیکھ لیا ہے۔کیا کبھی یہ بھی سنا ہے کہ کسی عورت نے اپنی جنسی بھوک مٹانے کے لیے کسی کے ساتھ ایسا درندوں والا سلوک کیا ہے؟؟ یہ تم مرد ہی ہو جو درندے بنے پھرتے ہو۔جنسی ہوس کے سوا کچھ نظر نہیں آتا اس معاشرے کے مردوں کو پھر بچی ہو بچہ ہو لڑکی ہو یا بوڑھی عورت کوئی بھی اس ہوس کی بھینٹ چڑھ سکتا ہے اور پھر بھی کہتے ہو عورت بد کردار عورت فحاشہ عورت بد چلن کبھی عورت کا لباس تمھیں للکارتا ہے تو کبھی عورت کی بے پردگی۔تمہارا پردہ کدھر ہے؟ تمہاری حیاہ کہاں گھاس چرنے گئی ہے؟؟
کبھی فرشتہ اور کبھی زینب کبھی فریحہ تو کبھی عالیہ کبھی عمر تو کبھی عاصم کبھی 6 ماہ کی معصوم بچی تو کبھی دوسال کا معصوم بچہ بس یہی کچھ بچتا ہے اس گھٹن ذدہ پدرسری سماج میں۔
کس کس کے دکھ میں روئیں کس کس کو انصاف دلوانے کے لیے احتجاج کریں؟؟ کسی ایک گاؤں کسی ایک شہر یا کسی ایک علاقے کی نہیں یہ گھر گھر کی کہانی ہے۔
جب تک اس معاشرے میں جنسی برابری قائم نہیں ہو گی جب تک اس معاشرے میں جنسی تعلیم عام نہیں ہو گی اور جب تک یہ معاشرہ جنسی گھٹن کا شکار رہے گا, فرسودہ رسم و رواج اور مذہبی انتہا پسندی قائم رہے گی تب تک ایسے واقعات کبھی ختم نہیں ہوں گے۔لیکن تاریخ گواہ ہے کہ یہ سب کسی بھی سماج میں لڑائی کے بغیر ممکن نہیں ہوا تو ہمیں بھی پدر سری نظام کو بدلنے اور جنسی تشدد کے خلاف اپنے محنت کش ساتھیوں کے ساتھ مل کرتحریک چلانی ہوگی یوں عورت کی آزادی کی تحریک طبقاتی نظام کے خلاف جدوجہد سے منسلک ہے۔
مطالبات
پدر سری نظام کے خلاف اور اس تعفن ذدہ معاشرتی سوچ جو(جنسی گھٹن پیدا کرتی ہے) کے خلاف تحریک منظم کی جائے.
عورتوں کی تنظیموں کی مشاورت سے خواتین کے حق میں قانون سازی کی جائے۔
جنسی تعلیم دی جائے اور اس پر باقاعدہ ریسرچ سے پالیسی بنائی جائے.
اغواء ریپ،گمشدگی کی رپورٹ فوراََ درج کی جائے اس میں کسی قسم غفلت یا کوتاہی کو سنگین جرم قرار دیا جائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here