آزاد انسان سرمایہ کا غلام

0
186

تحریر:اظہر علی
انسان آزاد پیدا ہوا ہے۔روسو کی یہ بات درست ہے لیکن سرمایہ کی آہنی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے اس کا اندازہ آپ دنیا کی موجود صورت حال سے لگا سکتے ہیں۔انسان چاند اور سمندروں کی تہہ تک تو پہنچ گیا لیکن انسان نہیں بن سکا۔اس کرہ ارض کو قتل گاہ بنادیا گیا ہے۔کیا وحشت اور بربریت انسان کی فطرت ہے اور کیا سوشل ڈارون ازم کا نظریہ درست ہے کیا کشمیر،برما،فلسطین،شام،عرق،یمن اور پاکستان کی مظلوم اقوام کے علاقوں میں جاری بربریت انسانی فطرت ہے اورانسان کاروپ اتنا بھیانک ہے۔انٹرنیشنل ہیومن راٹس کے مطابق یمن،صومالیہ اور ایتھوپیا میں بھوک سے بلکتے ہوے لوگ ہڈیوں کا ڈھانچا بن گے ہیں اور خوراک کو سمندر برد کردیا جاتاہے تاکہ منافع برقرار رہ سکے۔اسی وجہ سے آٹھ امیر ترین لوگوں کے پاس دنیا کی آدھی سے زائد ددلت ہے اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے بجٹ کئی ریاستوں سے زیادہ ہیں۔ان کی منافع کی ہوس دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے اورمنافع کا لالچ کراہ ارض کو تباہ کررہا ہے اور فضاء اور پانی کے آلودہ ہونے کی وجہ سے کئی ناقابل علاج بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ انسان تباہی کے دھانے پر ہے۔لیکن اگر بغور دیکھیں تو یہ انسان کی فطرت نہیں بلکہ سرمایہ کی منطق ہے اور سرمایہ کا راج اور اس کی بربریت ہے۔ اگر پاکستان کی صورتحال دیکھی جائے تو حالات بدسے بدتر ہورہے ہیں۔ پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں انسان اور جانور ایک ہی ندی سے پانی پی رہے ہوتے ہیں اور گندے پانی کی وجہ بڑے شہروں میں محنت کش عوام مختلف بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔صحت کی صورتحال بدتر ہے اور بڑی تعداد میں لوگوں کو سائنٹفک علاج میسر نہیں ہے،اس کے باوجود حکومت صحت کی نجکاری کررہی ہے جس سے مزدور،غریب اور حتی کہ لوئر مڈل کلاس کے لوگوں کے لیے علاج کروانا مشکل ہوگیا ہے۔پاکستان میں کروڑ ہا بچے تعلیم سے محروم ہیں ہمارے طلباء جو سماج کا مستقبل ہیں ان کے تعلیمی بجٹ میں کٹوتیاں کی جارہی ہیں۔ہرسال نئے15سے 20 لاکھ نوجوان نوکریوں کی خاک چھانتے ہیں لیکن نوکری ندرت ہے اور اب مختلف ماہرین معیشت بتا رہے ہیں کہ موجود معاشی صورتحال میں لاکھوں نوکریاں ختم ہوجائیں گئیں۔پاکستان کے بڑے شہروں کا جائزہ لیا جائے تو ایک بڑی آبادی کچی آبادیوں،کرایہ کے مکانوں اور حتی ٰ کہ فٹ پاتھوں پر بھی رہنے پر مجبور ہیں حالانکہ بے شمار نجی ہاوسنگ سوسائٹیز خالی پڑیں ہیں اور بڑے بڑے بنگلے خالی پڑے ہیں۔یہ اپاہج نظام عوام کی بنیادی ضروریات بھی پوری کرنے سے قاصر ہے اور اس صورتحال میں لوگ مختلف جرائم پیشہ افراد کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔پاکستان میں پہلے ہی کروڑ ہا افراد غربت کی چکی میں پس رہے ہیں اب آئی ایم ایف کی ڈیل مزید دسیوں لاکھ لوگوں کو بے روزگار اور غربت میں دھکیل رہی ہے۔غربت،بے روزگاری اور جرائم میں روزبہ روز اضافہ ہو رہا ہے۔اس کی وجہ سرمایہ داری نظام اور حکمران طبقہ ہے جو ان مسائل سے بے نیاز ایک علیحدہ دنیا میں زندہ رہتے ہیں جس کا عام لوگوں سے کوئی تعلق استحصال اور جبر کا ہے۔منافع کے لالچ نے انسان کو وحشی بنا دیا ہے اور وہ سرمایہ کا بے دام غلام ہے۔جو کچھ کشمیر،برما،پشتون یا بلوچ علاقوں میں ہو رہا ہے اُس کی وجہ ان علاقوں کے وسائل ہیں جن پر سامراج اور اس کے پٹھو نظر لگے بیٹھے ہیں۔یہ وسائل سرمایہ کے لیے انسانی زندگی سے کہیں زیادہ اہم ہے۔اس لیے ان علاقوں میں زندہ رہنے والے اور عزت کے ساتھ جینے کا حق چھین لیا گیا ہے۔آج دنیا کے اکثر خطوں میں وحشت اور بربریت آگے بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے نسل پرستی اور قتل عام میں اضافہ ہورہا ہے۔ایک طرف انسانی محنت اور تکنیک نے دنیا کو ایک گاؤں بنا دیا ہے اور انسان سیاروں پر رہنے کا سوچ رہا ہے۔دوسری طرف جبر،بربریت،بے روزگاری اور غربت ہے اس نظام کا خاتمہ کا تب ہی ممکن ہے جب محنت کش طبقہ اور مظلوم وہبے بس لوگ متحدہ ہوکر سامراجی نظام اس کے استحصال اور جبر کے خلاف جدوجہد کریں گئیں اور سرمایہ داری نظام کا خاتمہ کردیں گئیں اور اس دنیا میں محنت کشوں کا راج ہو۔تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی محنت کش اور محروم طبقات نے نظام کے خلاف متحدہ ہوکر انقلابی بنیادوں پر جدوجہد کی تو بڑے بڑے شہنشاہوں اور جبر ترین آمروں کو بھی شکست دی ہے۔روس کا انقلاب اس کی واضح مثال ہے جہاں پہلی دفعہ ایک بڑی ریاست پر قبضہ کرکے محنت کشوں نے سرمایہ داری نظام کا خاتمہ کردیاتھا۔
قتیل اس سا منافق نہیں دنیامیں کوئی
جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here