ہائر ایجوکیشن کے بجٹ میں 50فیصد کمی کا اعلان

0
41

تحریر:ثناوار فرید آزاد
حکومت کا ہائرایجوکیشن کے بجٹ کو 50فیصد کم کرنے کے فیصلے کے بعد ہائرایجوکیشن کمیشن آف پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ ملک کی تمام یونیورسٹیوں میں سے سکالرشپ کو ختم،نئے داخلوں کی فیسوں میں اضافہ،اداروں کے تعمیری کاموں کو روکا دیاجائے گا اور ریسرچ کے بجٹ کو بھی کم کیا جائے گا۔ ساتھ ہی ساتھ تعلیمی اداروں کو چندے کی رقم سے چلانے کا کہا جارہا ہے۔ اس ساری صورتحال کے بعد ملک کے اندر تعلیم مزید مہنگی ہو جائے گی اورجس سے نہ صرف محنت کش طبقہ بلکہ لوئر مڈل کلاس کے طلباء کے لیے تعلیم کوجاری رکھنا مشکل ہوجائے بلکہ اس سے وہ اور ان کا خاندان شدید معاشی دباؤ میں آجائیں گئیں۔
پاکستان میں تعلیم پہلے ہی بہت مہنگی اور غیر معیاری ہے اور تعلیم کو عام عوام کی پہنچ سے پہلے ہی دور رکھا گیا ہے۔ تعلیم جو کہ کسی بھی ملک یا معاشرے کی ترقی کیلئے بہت ضروری ہوتے ہے اس کو چندے کے ذریعے چلانا اور ایک غریب ملک جس کے عوام کو جینے کے لیے بنیادی ضروریات اور سہولتیں بھی میسر نہیں ہیں وہاں حکومت روس سے 1350 ارب کے جنگی ہتھیار خریدے گی اور فوجی بجٹ میں 18فیصد اضافہ بھی کیا جارہا ہے۔ ہماراحکمران طبقہ عوام کی سماجی بہبود کی بجائے ملک وخطے میں قومی و عالمی سرمایہ کے مفاد کے لیے اسلحہ خریدتا ہے۔ ملک کو مسلسل جنگی صورتحال میں رکھ کر اور اپنے قریبی ہمسایہ سے مسلسل جنگی دشمنی کو بڑھاوا دے کر دفاع کے نام پر ہر سال عوام کی بنیادی ضروریات پہ خرچ ہونے والے بجٹ سے کٹوتیاں کی جاتی ہیں۔پاکستان کی اشرافیہ سامراج کی خوشنودی کے لیے کچھ بھی کرنے کے لیے تیار ہے۔تاکہ ان کی دولت اورعیاشیاں برقرار رہ سکیں۔
سرمایہ دار،جاگیر دار اورصنعت کاروں اور فوجی وسول نوکرشاہی کے لیے اس صورتحال میں بھی مواقعے ہوتے ہیں۔وہ ملک میں نجی سطح پر یابیرون ملک معیاری تعلیم اور بہتر علاج کیلئے جا سکتے ہیں۔ اس تمام صورتحال سے محنت کش طبقہ شدید متاثر ہوتاہے اور وہ اُن حقوق سے محروم ہوجاتا ہے جس کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے لحاظ اس پر قرضے کا بوجھ بڑھ جاتا ہے۔حکمران طبقہ نظام کے بحران کا بوجھ محنت کش عوام اور طلباء پر ڈالا رہا ہے اور دوسری طرف بڑے سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچایا جارہا ہے اور ان کو اربوں روپے کی ادائیگی کے منصوبے بنائے جارہے ہیں۔
محنت کش عوام کے حالات زندگی دن بہ دن خراب ہورہے ہیں اور ان کے لیے دو وقت کی روٹی مشکل ہوتی جارہی ہے اور دوسری طرف ہم پراکسی وار کا حصہ بن اپنی عوام سے منہ کانوالہ چھین کر دفاع اور جنگی ہتھیاروں پر خرچ کررہے ہیں۔
اس صورتحال کاحل خطے میں عوام کا آپس میں رابطے کا فروغ ہے جس سے جنگی جنون اور نفرت کاخاتمہ ہو،دنیا کی ایک چوتھائی آبادی اس خطے میں رہتی ہے اور یہاں بے تحاشہ وسائل اور امکانات کے،لیکن اس کے ساتھ یہاں دنیا کے سب سے زیادہ غریب آبادی بھی مرکوز ہے۔لیکن حکمران اشرافیہ اپنے مفادات اور استحصال کے لیے یہاں بالادستی کی جدوجہد کررہے ہیں جس کی قیمت یہاں محنت کش عوام اور غریب ادا کررہے ہیں۔اس لیے اس خطے کے محنت کش عوام ہی یہاں ایک انقلاب کے ذریعے ہی سامراجی مداخلت اور حکمران طبقہ کی بالادستی کی جدوجہد ختم کرکے سرمایہ داری نظام کو جڑ سے اُکھڑ سکتے ہے۔تاکہ یہ وسائل اور امکانات ایک محدود اشرافیہ کو فائدہ پہنچانے کی بجائے وسیع تر اکثریت کے لیے ہوں۔
ہم اپنے جی ڈی پی کے لحاظ سے خطے اور دنیا میں دفاع پر زیادہ خرچ کرنے والے ممالک میں سے ہیں اسی طرح دنیا میں صحت اور تعلیم پر کم خرچ والے ممالک میں بھی شامل ہیں۔اس کی تاویل حکمران اشرافیہ پاکستان کو اندرونی اور بیرونی خطرات کی صورت میں پیش کرتے ہیں یوں پاکستان ایک سیکورٹی سٹیٹ بن جاتا ہے جس کو خود اس کے اندرونی تضادات کی وجہ سے خطرات ہیں۔جس طرح ہم نے افغانستان جنگ میں امریکہ کے اتحادی کا کردار ادا کیا اس نے پشتون سماج کو برباد کردیا۔اس صورتحال کے خلاف ایک شہری حقوق کی طاقتور تحریک موجود ہے جیسے حکمران طبقہ تمام تر دباو،تشدد اور قتل عام کے باوجود روکنے میں ناکام ہے۔اس تحریک میں یہ صلاحیت موجود ہے یہ پاکستان میں مظلوم اقوام،جمہوری حقوق میں سنگ میل ثابت ہوسکتی ہے۔لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ اپنے جمہوری مقاصد سے آگے جائے اور ملکی اور عالمی سطح پر محنت کش طبقہ سے یکجہتی قائم کرئے تاکہ ملکر سرمایہ دارای نظام کو چیلنج کرئے جس کی جنگ نے انہیں برباد کررکھا ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام کو ختم کرکے اور ریاست پر قبضہ کرکے ہی محنت کش طبقہ اس بات کو یقینی بنا سکتا ہے کہ ہم عالمی سامراج کی پراکسی جنگوں اور دیگر کی پالیسیوں کا حصہ نہ بن کراپنے
محنت کش طبقہ کے کنٹرول میں جمہوری طور پر منصوبہ بند معیشت تعمیر کرئیں۔جہاں پیدوار کا مقصد منافع کی بجائے عوام کی ضروریات کو پورا کرنا ہو تاکہ محنت کش عوام اپنی زندگی کا خود فیصلہ کرسکیں اور ہم ایک ایسا دنیا تعمیر کریں جہاں سب کے لیے معیاری تعلیم،صحت،روزگار،تحفظ اور مکان دستیاب ہو ایسا صرف سوشلزم میں ہی ہوسکتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here