آئی ایم ایف کا عوام دشمن بجٹ

0
219

تحریر۔شہزاد ارشد

تحریک انصاف کی حکومت نے آئی ایم ایف کا عوام دشمن بجٹ 11جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیا۔وفاقی بجٹ کاکل حجم7036ارب ہے جس میں 3151ارب کا خسارہ ہے۔آئندہ مالی سال میں آمدنی کا تخمینہ 6716ارب ہے جبکہ جاری اخراجات6192ارب کے ہوں گے اور محصولات کا ہدف5500ارب رکھا گیا ہے۔
معاشی تباہی
اکنامک سروے نے تحریک انصاف کی حکومت کی معاشی پالیسیوں کی ناکامی کو پوری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔اس کے مطابق مالی سال کے دوران 20 میں 15 اہداف نہ صرف پورے نہیں ہوئے بلکہ ان میں شدید ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ معاشی ترقی کی شرح 6.2 فیصد کے مقابلے میں 3.3 فیصد رہی ہے۔ زراعت کے شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں محض 0.8 فیصد رہی ہے۔ صنعت کا ہدف 7.6 فیصد تھا جو کہ محض 1.4 فیصد کی شرح سے ترقی کر پائی ہے۔ بڑے پیمانے کی مینو فیکچرنگ میں بھی بڑی گراوٹ دیکھنے کو ملی ہے اور ترقی کی شرح منفی میں رہی ہے۔اسی طرح سروسز کے شعبے میں بھی مقرر کیے گئے ہدف سے کم ترقی ہوئی ہے۔ صنعتوں اور خاص طور پر مینو فیکچرنگ کے شعبے میں بد ترین گراوٹ دیکھنے کو ملی ہے۔ گزشتہ ایک سال سے پاکستانی معیشت سکڑی ہے۔
محنت کش عوام پرٹیکسوں کا ملبہ
وفاقی حکومت کی کل آمدن ہدف6716ارب رکھا گیا ہے جس میں سے 5550ارب روپے کے ٹیکس ایف بی آر اکٹھی کرے گا۔ یہ رقم ایف بی آر کے مالی سال 19-2018ء کے ہدف(4400ارب روپے) سے 1150ارب روپے زیادہ ہے جبکہ حکومت پچھلے مالیاتی سال میں یہ ہدف بھی حاصل نہیں کرپائی اور وصولی3600۱رب روپے ہوئی۔ یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 39فیصد اضافہ ہے،یہ اضافہ امراء اور ٹیکس چوروں کو پکڑنے سے نہیں ہوگا بلکہ اس کا بوجھ محنت کش عوام پر ڈالا گیا ہے۔ اس مقصد کے لئے حکومت نے اس بجٹ میں 516ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد کئے ہی۔لیکن اگر ہدف کے مطابق وصولی نہ ہوسکی تو مالیاتی خسارہ7.2سے 9فیصد تک جاسکتا ہے جس سے معاشی عدم استحکام میں شدید اضافہ ہوگا۔محنت کش عوام جو پہلے ہی روپے کی قدر میں 45فیصد کمی کا عضب جھیل رہے ہیں اور اس کے ساتھ سود کی شرح میں 6فیصد ہوا ہے۔ان کے لیے یہ صورتحال تباہ کن ہوگی۔تنخواہ دار اور چھوٹے کاروباریوں کو گزشتہ سال کے بجٹ میں ملنے والی انکم ٹیکس کی چھوٹ کو ختم کرتے ہوئے اس میں اضافہ کردیا گیا ہے۔یہ اور اس کے علاوہ دیگر رجعتی ٹیکسوں کی وجہ سے ملک کے اہم ماہر معیشت دانوں کے مطابق 30000سے50000تک تنخواہ وصول کرنے والوں کی دو تنخواہیں ٹیکسوں کی مدمیں چلی جائیں گئیں۔ لیکن کارپوریٹ ٹیکس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا بلکہ اس کو پچھلے سال کی سطح(29فیصد) پر ہی رکھا گیا ہے جبکہ2015میں یہ 33فیصد تھا۔ سٹاک ایکسچینج پر بھی کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ امرا کے اثاثہ جات پر عائد ہونے والے ویلتھ ٹیکس کوبھی نافذ نہیں کیا گیا۔
اسی وجہ سے حکومت نے گھی، چینی، خوردنی تیل، گھریلو سامان، گوشت، مچھلی، مرغی کی سیمی پروسسیسڈ اشیاء، بنیادی الیکٹرانکس اشیا پر جی ایس ٹی کے رعایتی ریٹس کو ختم کرتے ہوئے17 فیصد سٹینڈرڈ جنرل سیلز ٹیکس نافذ کر دیاہے۔ اسی طرح چھوٹی کاروں، موٹر سائیکلوں، سیمنٹ اور خوردنی تیل سمیت بے شمار اشیا پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بھی عائد کر دی گئی ہے۔ یہ صورتحال اشیائے صرف کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا باعث ہوگی جس سے عوام کے معیار زندگی بری طرح گرجائے گا۔
طبقاتی بجٹ
وزیراعظم عمران خان عوام سے مشکل حالات کا سامنا کرنے اور قربانی کا مطالبہ کررہے ہیں۔نظام کا بحران اتنا شدید ہے کہ بجٹ سے پہلے ہی ”تاریخی بیانات“ آنا شروع ہوگے کہ فوجی بجٹ میں اضافہ نہیں ہوگا،بجٹ تقریر میں انکشاف بھی کیا گیا کہ وفاقی کابینہ نے حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے اپنی تنخواہوں میں 10فیصد کمی کا اعلان کردیا ہے۔اعداوشمار کے اس گورگھ دھند سے ہٹ کر یہ ایک بحران ذدہ دوالیہ معیشت کا بجٹ ہے جس میں انہوں نے سرمایہ دارانہ بحران کا تمام تر بوجھ محنت کش طبقہ،عورتوں،طلباء لوئر مڈل کلاس اور مظلوم اقوام پر ڈال دیا ہے۔ تاکہ عالمی و گماشتہ سرمایہ داروں کی لوٹ مار کو برقرار رکھا جاسکے۔یہ بجٹ جہاں ایک طرف سرمایہ داروں کو”قومی معیشت اور برآمدات“کے نام پر چھوٹ دیتا ہے تاکہ وہ زیادہ منافع حاصل کرسکیں اورایک اندازے کے مطابق پاکستان کے سرمایہ دار طبقے کو حکومت سے حاصل ہونے والی ٹیکس مراعات اور سبسڈیوں کی وجہ سے قومی خزانے کو سالانہ تقریباً1000ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے اوراس کے ساتھ نجی سرمایہ کو یقین دلاتا ہے کہ وہ ان کے سرمایہ اور منافع کا ہر قیمت پر تحفظ کرئے گا اس کے لیے ایک مثال سے ہی کافی ہے جیسے گردشی قرضہ کو ختم کرنے کاخوش کن دعوی، لیکن یہ نہیں بتاتے کہ یہ گردشی قرضے بجلی کی کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ معاہدوں کا نتیجہ ہیں اور نہ ہی تبدیلی کے نعرے کے تحت برسراقتدار آنے والی حکومت کی یہ جرات ہے کہ وہ ان سے اس حوالے مذاکرات کرئے یا ان کو قومی تحویل میں لے یہ اس کی بجائے بجلی مہنگی کرکے اس کا بوجھ محنت کشوں اور لوئر مڈل کلاس پر ڈال رہے ہیں۔سرمایہ داروں سے ابھی مذاکرات ہوں گے اور ان کی خوشنودی کو ”قومی معیشت“کے نام پر برقرار رکھا جانے کی پوری کوشش ہوگی۔ ایک طرف اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں کٹوتی کی گئی ہے جبکہ دوسری طرف اسٹاک مارکیٹ میں 20ارب ڈالے گے ہیں جبکہ وزیراعظم ہاوس کو یونیورسٹی بننے کا دعوی کرنے والوں نے وزیراعظم ہاوس کے اخرجات میں 18فیصد اضافہ کردیا ہے یہ سب حکمران طبقہ کی ترجیحات کو ظاہر کررہا ہے۔محنت کشوں کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ درحقیقت ان کی تنخواہوں میں کم از کم 40سے 50فیصد کٹوتی ہے،جبکہ 17500کم از کم تنخواہ محنت کشوں کو زندہ درگور کرنے کے لیے ہے،لیکن وہ بھی اکثریت کو نصیب نہیں ہے۔یہ بجٹ ایک دھوکا ہے اور اس کے بعد لاتعداد مزید منی بجٹ متوقع ہیں جس میں عوام پر مزیدمہنگائی،بیروزگاری،نجکاری اور غربت مسلط کی جائے گی۔
سماجی بربادی
اکنامک سروے کے تمام معاشی اشارے ملکی اقتصادی نمو میں گروٹ اور سکڑنے کی نشاندہی کررہے ہیں۔اکنامک سروے کے مطابق پاکستانی اقتصادیات کی شرح نمو جس کے لیے چھ اعشاریہ دو فیصد کی پیش گوئی کی گئی تھی، وہ تین اعشاریہ تین فیصد ہے۔فنانس منسٹری کے مطابق بجٹ کے اقدامات کی وجہ سے معیشت کی شرح نمو 2.4 فیصد تک گر جانے کا امکان ہے جبکہ افرط زر13فیصد تک ہوجائے گا۔ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق ابھی تک معیشت میں سست روی کی وجہ سے8سے10لاکھ لوگ بے روزگار ہوئے ہیں اور چالیس لاکھ لوگ غربت کی سطح سے نیچے چلے گئے ہیں جبکہ اگلے دو مالیاتی سالوں میں اس بات کا خطرہ ہے کہ 80لاکھ لوگ مزید غربت کی سطح سے نیچے چلے جائیں۔افراط زر میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اس وقت یہ 10فیصد کے قریب ہے۔آئی ایم ایف کی پالیسیاں اس میں مزید اضافہ کا باعث بنیں گئیں۔
قرضے کی معیشت
سٹیٹ بنک کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے پچھلے دس ماہ میں تین ہزار نو سوارب روپے کاقرضہ حاصل کیا ہے اس وقت حکومت کا قرضہ 28ٹریلین ہے۔ وفاقی حکومت کے قرضہ میں اس مالیاتی سال کے پہلے دس ماہ میں ریکارڈ ماہانہ 16فیصداضافہ ہوا ہے۔
آئی ایم ایف کے اعداد و شمار کے مطابق اگلے دو سالوں میں پاکستان کو 27 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے واپس کرنے ہیں۔سروے رپورٹ میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے دوران سود کی ادائیگی ملک کی کل آمدن کا 41 فیصد رہی جو گذشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران 33 فیصد تھی۔ یہ اِس عرصے کے دوران خطے میں سب سے زیادہ ادائیگی ہوگی۔اس میں اگلے سالوں میں مزید اضافہ ہوگا یہ وہ قرضے ہیں حکمران طبقہ کے اللوں تللوں اور ریاست کی ”ضرورتوں“پر خرچ ہوئے اب ان کی ادائیگی کے لیے ابھی آئی ایم ایف سے 6رب ڈالر اورورلڈ بنک سے بھی2سے3ارب ڈالر ملنے کی امید ہے جس سے قرضہ کاحجم اس سے کہیں زیادہ بڑھ جائے گا۔یہ عوام کی منشاء کے بغیر لیے گے قرضے ہیں لیکن ان کی ادائیگی کے عوام کو جہنم رسید کیا جارہا ہے۔ روپے کی قدر میں ہونے والی تیز تر گرواٹ جہاں بیرونی قرضوں کے حجم میں مسلسل اضافہ کا باعث بن رہی ہے اور دوسری طرف شرح سود میں ہونے والا اضا فہ نے داخلی قرضوں کی واپسی کو مزید مہنگا کر دیا ہے اور ایک ایسا گھن چکر ہے جس میں بحران مزید پھیلے گا اور ایک خوفناک صورتحال کو جنم دئے رہا ہے۔
فوجی بجٹ میں کٹوتی
اس سال دفاعی بجٹ 1152ارب ہیں یعنی پچھلے سال کے مقابلہ میں اضافہ ہے لیکن یہ فوجی اخراجات کی حقیقی تصویر نہیں بیان کرتا,اس میں 327ارب کی فوجی پینشنیں، اسلحے کی خریداری، فوجی ترقیاتی منصوبوں اور دیگر اخراجات شامل نہیں ہیں۔ پچھلے سال دفاعی بجٹ کے لیے1100ارب مختص کیے گئے تھے لیکن اعدادوشمار کے مطابق اخراجات لگ بھگ 1700ارب روپے کے تھے اور اس سال یہ اخرجات1882ارب روپے ہوں گئیں۔
نیولبرل حل
آئی ایم ایف کے پچھلے تمام بیل آوٹ پیکچ اور اس کا نیولبرل حل معیشت میں کوئی طویل اور دیر پا بہتری لانے سے قاصر رہا ہے اور موجود بجٹ جو حقیقت میں آئی ایم ایف کا تیار کردہ ہے اس سے بڑے پیمانے نجکاری،نوکریوں کا خاتمہ،غربت اور مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔آئی ایم ایف کا یہ مفروضہ ہے کہ اس کی پالیسیوں سے فوری طور پر شرح نمو متاثر ہوتی ہے لیکن جلد ہی اس میں بہتری پیدا ہوتی ہے کیونکہ اس کی پالیسیوں سے سرمایہ داروں میں معیشت پر اعتماد میں پیدا ہوتا ہے۔ڈاکٹر اکمل حسین کے مطابق تجرباتی مواد اس کی نفی کرتا ہے اور تحقیقی رپورٹیں یہ واضح کرتی ہیں کہ یہ ایک غلط مفروضہ ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق جس میں 130ایسے ممالک کا مشاہدہ کیا گیا ہے جہاں آئی ایم ایف کے پروگرام پر عمل درآمد کیا گیا ہے

حکمران طبقے کے تضادات اور محنت طبقہ
حالیہ گرفتاریوں کی لہر کوصرف کسی سازش کے نکتہ نظر سے دیکھنے کی بجائے سرمایہ دارانہ بحران میں سمجھنے کی ضرورت ہے جو گہرا ہوتا جارہا ہے۔اس وجہ سے ریاست کی استبدادیت میں اضافہ ہورہا ہے وہ ہر مخالف آواز کو دبا کرایسا ماحول بنا ناچاہتے ہیں جس میں محنت کشوں،شہری ودیہی غریب،عورتوں،نوجوانوں پر مہنگائی،بے روزگاری اور نجکاری کا عذاب مسلط کیا جاسکے تاکہ عالمی و گماشتہ سرمایہ داروں کے لیے سازگار ماحول بنایا جاسکے۔اسی لیے اگر بڑے مقامی سرمایہ دار کو بجٹ پر کچھ اختلاف ہیں تو وزیر اعظم اُن سے ملنے کے تیار ہیں تاکہ اُن کے منافعے برقرار رہیں۔لحاظ اس وقت تما م بورژواء اپوزیشن اپنے مفادات کی جنگ لڑرہی ہے اور وہ اس مشکل سے فائدہ اُٹھا نا چاہتے ہیں اس لیے اگر عمران خان کی نااہل حکومت چلی بھی جائے تو ان کا حل بھی کوئی مختلف نہیں ہے۔
محنت کش،شہری ودیہی غریب،کسان اور مظلوم اقوام مل کر ہی اس جابر ریاست کے خلاف لڑسکتے ہیں۔موجود صورتحال میں حکمران طبقہ کے معاشی حملوں کے خلاف لڑائی کو جمہوری آزادیوں کی جدوجہد سے باہم منسلک کرنا ہوگا۔ینگ ڈاکٹرز،پیرا میڈیکس اور نرسز کی نجکاری کے خلاف جدوجہد شاندار ہے اس سے پہلے یوٹیلیٹی سٹور کے محنت کشوں نے حکمران طبقہ کے حملوں کا جرات سے مقابلہ کیا ہے۔ محنت کشوں کی جدوجہد ہی ریاست کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرسکتی ہے۔اس وقت محنت کش طبقہ کا اتحاد ہی آئی ایم ایف کے پروگرام اور اس عوام دشمن بجٹ کا مقابلہ اور عمران خان حکومت کا خاتمہ کرسکتاہے اور اس جدوجہد کو سرمایہ داری نظام کے خلاف جدوجہد میں بدلنا ہوگا۔
مطالبات:
عالمی مالیاتی اداروں کے قرضے ادا کرنے سے انکار کیا جائے اور آئی ایم یف کے پروگرام کو مسترد کردیا جائے۔یہ معیشت کی متوازن ترقی کے لیے بنیادی شرط ہے لیکن یہ کام سرمایہ داری نظام پر یقین رکھنے والی حکومت نہیں کرسکتی،اس کے لیے محنت کشوں کی تنظیموں پر مبنی حکومت ہونی چاہیے جو موجود تباہ کن صورتحال میں محنت کش عوام کے اجتماعی مفاد کا دفاع کرئے۔
کم از کم تنخواہ 50000کی جائے تاکہ محنت کش اپنے خاندان کے ساتھ زندہ رہ سکیں اور تنخواہ کو افراط زر سے منسلک کیا جائے۔
ہسپتالوں سمیت تمام سرکاری اداروں کی نج کاری فوری طور پر منسوخ کی جائے اور ماضی میں بیچے گئے تمام اداروں کو واپس لیتے ہوئے محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دیئے جائیں۔
نوکریوں کے خاتمے کی بجائے اوقات کار کم کیے جائیں اور نئی نوکریاں دی جائیں۔
سرمایہ داروں،امراء،بڑے زمینداروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں پر ویلتھ ٹیکس لگا کر تعلیم اور صحت کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے نیز صحت کے نئے مراکز اور تعلیمی ادارے تعمیر کیے جائیں۔
جی۔ایس۔ٹی سمیت تمام بالواسطہ ٹیکسوں کا مکمل خاتمہ اور بلا واسطہ ٹیکسوں کے فوری نفاذ کے ساتھ سرمایہ داروں کو حاصل ٹیکسوں میں ہر طرح کی چھوٹ کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔
زراعت میں بڑے پیمانے پر سبسڈی دی جائے اور بڑے زمینداروں اور ریاستی اداروں سے زمین لے کر مزارعوں اور دیہی مزدور وں کی دی جائے۔
بڑے پیمانے پر ترقیاتی بجٹ میں اضافہ کیا جائے تاکہ سماجی سہولیات میں اضافہ کیا جاسکے اور محنت کشوں اور شہری و دیہی غریبوں کے مفت گھر تعمیرکیئے جاسکیں۔
بجلی پیدا کرنے والی تمام کمپنیوں کو قومی تحویل میں لے کر محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دیا جائے۔
فوجی بجٹ میں اضافہ کی بجائے اس میں کٹوتی کی جائے۔
جنگ اور جنگی جنون کو فروغ دینے کی بجائے خطے میں عوام کے درمیان رابطوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
ریاستی کنٹرول میں صنعت لگائی جائے اور اس کو محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دئے کر علاقائی تجارت کو فروغ دیا جائے اور اس پر ہر قسم کی پابندیوں کو ختم کیا جائے۔

ان تمام ممالک کی معیشتیں برباد ہوئیں ہیں اور یہی پاکستان کے ساتھ ہورہا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here