آئی ایم ایف کا نیا پاکستان

0
186

تحریر:شہزاد ارشد
آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان 12مئی کومعاہدہ طے پاگیا ہے۔جس کے مطابق پاکستان کو اگلے39ماہ میں 6ارب ڈالرکاقرضہ مختلف اقساط میں دیا جائے گا۔اس 6ارب ڈالر کے ساتھ اب پاکستان کو ورلڈ بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک سے بھی دو سے تین ارب ڈالر کا قرضہ کم شرح سود پر ملنے کی امیدبھی ہے۔یہ معاہدہ اسد عمر کے استعفی اور اس کی جگہ آئی ایم ایف کے ہی تجویز کردہ مشیر خزانہ حفیظ شیخ کے درمیان طے پایا ہے جو عملاََ وزیر خزانہ ہیں اور اس عمل کی نگرانی کے لیے ”پاکستانی سپوت“ باقر رضا کو گورنر اسٹیٹ بنک مقررکیا گیا ہے جس نے پہلے ہی مصر میں عظیم معاشی تباہی کا اہم کردار ادا کیاہے۔اس معاہدے کی منظوری آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے دینی ہے جس کے بعد ہی قرضہ اور شرائط کی اصل صورتحال واضح ہوں گئیں۔لیکن اس کے لیے تمام شرائط پر عمل درآمد کی ضرورت ہے جو آئی ایم ایف نے تجویز کیں ہیں یعنی یہ معاہدے کی تکمیل کے لیے بہت سارے خطرات پوشیدہ ہیں۔
جدید نوآبادی:
یہ معاہدہ پچھلے کئی ماہ کے طویل مذاکرات کے بعد ممکن ہوسکا ہے جس میں تحریک انصاف کے پوسٹر بوائے وزیر خزانہ اسد عمر کی قربانی بھی ہوئی۔مذاکرات کے آخری مراحل میں وزارت خزانہ کے اعلیٰ احکام کوشریک نہیں کیا گیا اس کا مطلب واضح طور یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے تمام مطالبات کی منظوری اور درحقیقت یہ ایک سیل آوٹ پیکچ ہے۔لیکن جس طرح بند کمروں میں آئی ایم ایف نے یہ معاہدہ کیا ہے یہ شرمناک ہے اور جمہوری طرز عمل کے منافی ہے اورظاہر کرتا ہے کہ پاکستان عالمی مالیاتی اداروں کی جدیدنوآبادی ہے۔
قرضہ کی معیشت
آئی ایم ایف کے نئے اعداد و شمار کے مطابق اگلے دو سالوں میں پاکستان کو 27 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے واپس کرنے ہیں۔یہ اِس عرصے کے دوران خطے میں سب سے زیادہ ادائیگی ہوگی۔لیکن قرضوں کی واپسی کے علاوہ اگلے دو سالوں میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی ہوگا۔ جس کے لئے تقریباً 20 ارب ڈالر مزید درکار ہوں گے۔ اس کامطلب ہے اگلے دوسالوں میں پاکستان کو تقریباََ46سے 50ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی۔مجموعی قرضے ملکی جی ڈی پی کے 77فیصد ہیں۔یہ صورتحال خوفناک معاشی کیفیت کو ظاہر کررہی ہے۔
قومی معیشت کی خاطر قربانی:
حکمران طبقہ جب سادگی کا اعلان کرتا ہے تو درحقیقت یہ محنت کشوں اور شہری ودیہی غریبوں پر بڑے حملہ کی تیاری کررہا ہوتا ہے اور ا ب وزیراعظم عمران خان عوام سے مشکل حالات کا سامنا کرنے اور قربانی کا مطالبہ کررہے ہیں۔لیکن حقیقت میں یہ معاہدہ محنت کش عوام اور مڈل کلاس پر ایک بڑا حملہ ہے۔ لیکن اس نام نہاد جمہوریت میں عوام کی رائے کی کوئی ضرورت ہی نہیں محسوس کی گئی حالانکہ یہ معاہدے اگلے سالوں میں ان کی زندگیوں کا تعین کرئے گا۔
آئی ایم ایف کی شرائط
شرح سودجو پہلے ہی 10.75 فیصدہو گئی ہے،اس میں مزید اضافہ کیا جائے گا جس سے یہ شرح 14فیصد تک جاسکتی ہے۔
نیپرااور اوگرا کو خود مختیاربنایا جائے گا تاکہ حکومت کو بجلی و گیس کے نرخوں میں اضافے کی ذمہ دار نہیں ہو۔
گیس اور بجلی کو مزید مہنگا کیا جائے تاکہ اس کے خسارے پر قابو پایا جاسکے اور نجی کمپنیوں کو بڑے پیمانے پر ادائیگیاں کی جاسکیں۔ جس سے اگلے تین سالوں میں صارفین پر 340 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔
پٹرول بھی مزید مہنگا ہوگا اور عوام جو پہلے ہی ایک لیٹر پر 40روپے ٹیکس ادا کررہے ہیں ان کی جیب پر مزیڈ بوجھ ڈالا جائے گا۔
ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 20فیصد کمی کامطالبہ ہے جس سے ڈالر کی قیمت 170تک بڑھنے کا امکان ہے جبکہ ڈاکٹر قیصر بنگالی کے مطابق سال کے آخر تک ڈالر موجود صورتحال میں 200روپے تک پہنچ سکتا ہے اور اگلے اس وقت تک250تک جاسکتا ہے۔واضح رہے کہ پہلے ہی ڈالر کی قیمت میں ہوشربا اضافہ کی وجہ سے مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن کررکھی ہے۔یہ صورتحال ایک خوفناک منظر نامہ پیش کررہی ہے۔
روپے کی قدر کا تعین مارکیٹ کرے گی۔ اِس حوالے سے سٹیٹ بینک مداخلت نہیں کرے گا۔
سٹرکچرل اصلاحات یعنی نوکریوں کا خاتمہ اور نجکاری وغیرہ۔ اس وقت بڑے پیمانے پر نجکاری کا پروگرام ہے جس میں تمام ریاستی ملکیت میں موجود اداروں جیسے ہسپتالوں وغیرہ کی نجکاری بھی شامل ہے۔
حکومت نے آئی ایم ایف سے طے کیا ہے کہ بجٹ کا خسارہ کم کرکے جی ڈی پی کے0.6 فیصد تک لانا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ترقیاتی بجٹ، صحت و تعلیم کے بجٹ اور سبسڈیز میں مزید کٹوتیاں کی جائیں گی۔
مجموعی طور پہ آنے والے بجٹ میں 750 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے جارہے ہیں اور سابق وزیر خزانہ مفتاع اسماعیل کے مطابق ہدف کو حاصل کرنے کے لیے حکومت کو 800ارب کے ٹیکس لگانے پڑیں گئیں اور اگر مہنگائی کو مدنظر رکھا جائے تو حکومت کو 800ارب کی بجائے1000ارب کے ٹیکس لگانے ہوں گے۔
سماجی بدحالی
ایک حکومتی رپورٹ میں تخمینہ لگایا گیا ہے کہ تمام معاشی اشارے یہ بتا رہے ہیں کہ ملکی اقتصادی نمو گزشتہ آٹھ برس کی سب سے نچلی سطح پر پہنچ سکتی ہے۔نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کی جانب سے جمعرات کے روز جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی اقتصادیات کی شرح نمو جس کے لیے چھ اعشاریہ دو فیصد کی پیش گوئی کی گئی تھی، وہ تین اعشاریہ تین فیصد رہے گی۔آئی ایم ایف کے اقدامات سے معیشت کی شرح نمو 2.5 فیصد تک گر جانے کا امکان ہے۔ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق ابھی تک معیشت میں سست روی کی وجہ سے8سے10لاکھ لوگ بے روزگار ہوئے ہیں اور چالیس لاکھ لوگ غربت کی سطح سے نیچے چلے گئے ہیں جبکہ اگلے دو مالیاتی سالوں میں اس بات کا خطرہ ہے کہ 80لاکھ لوگ مزید غربت کی سطح سے نیچے چلے جائیں۔افراط زر میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اس وقت یہ 10فیصد کے قریب ہے۔آئی ایم ایف کی پالیسیاں اس میں مزید اضافہ کا باعث بنیں گئیں۔
نیولبرل
آئی ایم ایف کے پچھلے تمام بیل آوٹ پیکچ اور اس کا نیولبرل حل معیشت میں کوئی طویل اور دیر پا بہتری لانے سے قاصر رہا ہے اور موجود بیل آوٹ کا بھی یہی حال ہوگا البتہ اس سے بڑے پیمانے نجکاری،نوکریوں کا خاتمہ،غربت اور مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔آئی ایم ایف کا یہ مفروضہ ہے کہ اس کی پالیسیوں سے فوری طور پر شرح نمو متاثر ہوتی ہے لیکن جلد ہی اس میں بہتری پیدا ہوتی ہے کیونکہ سرمایہ داروں میں معیشت پر اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔ڈاکٹر اکمل حسین کے مطابق تجرباتی مواد اس کی نفی کرتا ہے اور تحقیقی رپورٹیں یہ واضح کرتی ہیں کہ یہ ایک غلط مفروضہ ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق جس میں 130ایسے ممالک کا مشاہدہ کیا گیا ہے جہاں آئی ایم ایف کے پروگرام پر عمل درآمد کیا گیا ہے ان تمام ممالک میں شرح نمو بری طرح متاثر ہوئی تھی۔یہی پاکستان کی صورتحال ہے ایک بار پھر قومی معیشت کے نام پر عوام سے قربانی کا مطالبہ کیا جارہے لیکن اس سے محنت کش عوام کے لیے کچھ بہتر نہیں ہونے والا البتہ ہائیر ایجوکیشن میں 50فیصد کٹوتی کی جارہی ہے،ہسپتالوں کی نجکاری کی جارہی ہے اورترقیاتی اخرجات تقریباََ ختم کیئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے معیشت میں جمود،مہنگائی اور بے روزگاری کا ایک طوفان سرپر منڈلا رہا ہے۔حکمران طبقہ یہ چاہتا ہے کہ اس بحران کی قیمت محنت کش طبقہ،شہری ودیہی غریب،کسان اور مڈل کلاس ادا کرئے جو حکمران طبقہ کا پیدا کردہ ہے۔
کیا کیا جائے؟
اس وقت تما م بورژواء اپوزیشن اپنے مفادات کی جنگ لڑرہی ہے اور وہ اس مشکل سے فائدہ اُٹھا کر سمجھوتہ کرنا چاہتے صرف محنت کش،شہری ودیہی غریب،کسان اور مظلوم اقوام مل کر ہی اس جابر ریاست کے خلاف لڑسکتے ہیں۔موجود صورتحال میں حکمران طبقہ کے معاشی حملوں کے خلاف لڑائی کو جمہوری آزادیوں کی جدوجہد سے باہم منسلک کرنا ہوگا۔ینگ ڈاکٹرز،پیرا میڈیکس اور نرسز کی نجکاری کے خلاف جدوجہد شاندار ہے اس سے پہلے یوٹیلیٹی سٹور کے محنت کشوں نے حکمران طبقہ کے حملوں کا جرات سے مقابلہ کیا ہے۔ محنت کشوں کی جدوجہد ہی ریاست کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کرسکتی ہے۔اس وقت محنت کش طبقہ کا اتحاد ہی آئی ایم ایف کے پروگرام کا مقابلہ اور عمران خان حکومت کا خاتمہ کرسکتاہے اور اس جدوجہد کو سرمایہ داری نظام کے خلاف جدوجہد میں بدلنا ہوگا۔
مطالبات:
کم از کم تنخواہ اتنی ہو کہ محنت کشوں کو معیاری زندگی میسر ہو۔
تنخواہ کو افراط زر سے منسلک کیا جائے۔افراط زر میں ہونے والے ہر ایک فیصد اضافہ کے ساتھ تنخواہوں میں بھی ایک فیصد اضافہ کیا جائے۔
نجکاری کی بجائے ریاستی ملکیت میں موجود اداروں کو محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دیا جائے اور جو ادارے نج کاری کے بعد بند ہیں ان کو ریاستی تحویل میں لے کر محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دیا جائے۔جن اداروں کی منجمنٹ نجی شعبہ کو دی گئی ہے ان کو بھی واپس ریاستی تحویل میں لے کر ان کو محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دیا جائے نیزتمام اداروں کی نجکاری ختم کی جائے۔
نوکریوں کے خاتمے کی بجائے کام کے گھنٹے کم کیئے جائیں۔
سرمایہ داروں،امراء،بڑے زمینداروں اور ملٹی نیشنل پر ویلتھ ٹیکس لگا کر تعلیم اور صحت کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے نیز صحت کے نئے مراکز اور تعلیمی ادارے تعمیر کیئے جائیں۔
سرمایہ داروں کو حاصل ٹیکسوں میں چھوٹ کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔
زراعت میں بڑے پیمانے پر سبسڈی دی جائے اور بڑے زمینداروں سے زمین کے کر مزارعوں اور دیہی مزدور وں کی دی جائیں۔
بڑے پیمانے پر ترقیاتی بجٹ میں اضافہ کیا تاکہ سماجی سہولیات میں اضافہ کیا جاسکے اور محنت کشوں اور شہری و دیہی غریبوں کے مفت گھر تعمیرکیئے جاسکیں۔
بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو قومی تحویل میں لے کر محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دیا جائے۔
عالمی مالیاتی اداروں کے قرضے ادا کرنے سے انکار کیا جائے اور آئی ایم یف کے پروگرام کو مسترد کردیا جائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here