عمران خان کا سعودی عرب کادورہ

0
106

تحریرحسن ناصر

19 ستمبر کو عمران خان سعودی عرب کے دورہ پر گئے۔ اس دورہ سے پہلے اس سال فروری میں سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ اور دفاعی وزیر محمد بن سلمان نے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ پاکستان کے بد سے بدتر ہوتے ہوئے معاشی بحران اور دنیا میں کشمیر کے مسئلہ پر گھٹتی ہوئی سفارتی حمایت کے دوران عمران خان کی حکومت معاشی امداد کی آس لگائے بیٹھی ہے۔ سعودی حکومت کا بھی پاکستان سے  پرانا تعلق ہے اور وہ پاکستان کی فوجی امداد پر ایک عرصہ سے انحصار کررہی ہے۔ عمران خان اور سعودی بادشاہت کے جاری کردہ بیانات میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ سعودی شاہی گھرانہ اور پاکستان کا باہنی رشتہ ہی خطہ میں استحکام کی ضمانت ہے۔ اس مضمون میں ہم یہ سوال پیش کرنے کی جسارت کر رہے ہیں کہ آخریہ کس کا استحکام ہے؟

سعودی عرب – عرب بہار کا غارت گر

دسمبر 2010 میں نوجوان محمد بو عزیزی نے خود کو آگ لگائی تھی۔ اس کا عمل اور اس کے نتیجہ میں واقع ہونے والی موت میونسپل افسران کی جانب سے کی جانے والی ہراسانی اور ذلت کا رد عمل تھی۔ اس رد عمل نے مشرق وسطی میں بےشمار جمہوری بغاوتوں کو جنم دیا۔ انقلابی جوش کے دور کا آغاز ہوا اور عرب عوام کی جمہوری و سماجی تبدیلی کے لیے امیدیں بلند ہوئیں۔ اس کے ساتھ ہی دنیا بھر میں جمہوری جدوجہد کی بھی حوصلہ افزائی ہوئی۔

صرف فرانس، برطانیہ، روس اور امریکہ جیسی سامراجی قوتیں ہی اس انقلابی جوش سے خوفزدہ نہ تھیں۔ جن کو یہ خوف لاحق تھا کہ حریف ممالک میں ہونے والی کامیاب جدوجہد ان کی عالمی طاقت کو ٹھیس پہنچا سکتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ خوفناک پہلو ان کے لیے یہ تھا کہ آزاد سماجی انقلابات برپا ہو سکتے ہیں۔ یہ ایک اہم وجہ تھی کہ لبیا، شام اور عراق میں مداخلت کی گئی، جس کے نتیجے میں لاتعداد افراد جان بحق ہوئے اور جو زندہ رہ گئے ان میں سے بھی بےشمار لوگ آج تک مصائب جھیل رہے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سامراجی قوتوں کی مداخلت کی وجہ جمہوریت ہرگز نہ تھی۔ اس کی سب سے بڑی مثال ہم مصر میں دیکھ سکتے ہیں کہ جہاں جولائی 2013 میں جنرل عبد الفتح ایسی نے بغاوت کی۔ اس کے بعد سے جنرل سیسی مصر کے بادشاہ ہیں اور مصری تاریخ کے سب سے زیادہ ظالمانہ آمروں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ جنرل سیسی کے حامی امریکی وائٹ ہاؤس سے لے کر جرمن پارلیمان تک پائے جاتے ہیں۔ اہرام مصر کے بجائے جنرل سیسی نے نئے قیدخانے تعمیر کروائے ہیں کہ جہاں 40000 سے زائد افراد کو قید کیا جا سکتا ہے۔

مصر میں انقلاب کی ہار، تیونس میں انقلاب کے جمود، شام، لبیا اور عراق میں خانہ جنگی اور مزید رد انقلابی خانہ جنگی، اور یمن میں ہونے والی خونی جنگ کے نتیجہ میں عرب بہار ایک خونی ٹھنڈ کے موسم میں تبدیل ہو گئی۔ یہ پہلے سے طے شدہ نہیں تھا کہ ایسا ہوگا۔ تحریکوں میں سیاسی پختگی کی عدم موجودگی نے یقیناً ایک اہم کردار ادا کیا۔ مگر سب سے بڑا مسئلہ خطہ میں عرب ریاستوں،ترکی، ایران اور اسرائیل جیسی حریف قوتوں کا نسبتاً بہتر استحکام تھا۔ انہی قوتوں کے عزائم اور کاوشوں کے نتیجہ میں تمام جمہوری انقلابات کا گلہ گھونٹ دیا گیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے ان رد انقلابی اور مذہبی جنونی ملیشیا کا استعمال کیا جو آپس میں گتھم گتھا تھے مگر انقلاب کی راہ میں رکاوٹ بننے کی خاطر ایک پیج پر تھے۔

ان عوامل کے بہت گہرے اثرات سامنے آئے، نہ صرف خطہ میں بلکہ عالمی سطح پر بھی۔ جہاں 2010 کے انقلابات کے آغاز نے دنیا بھر کی نوجوانوں اور محنت کشوں کی تحریکوں کو ایک نئی جان بخشی تھی، رد انقلابی قوتوں کی جیت کے نتیجہ میں دنیا بھر میں پھیلی ان تحریکوں کو بھی بڑھتے ہوئے انتشار اور مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ افریقہ، یورپ اور شمالی امریکہ میں نوجوانوں نے اپنی سڑکوں پر نکل کر وہ نعرے لگائے جنہوں نے قاہرہ اور دمشق کی سرزمینوں پر جنم لیا تھا۔ عرب بہار کی مات اور ساتھ ہی یورپ میں کٹوتیوں کے خلاف کھڑی ہونے تحریکوں کی ہار کے بعد ردعمل پسند سیاست کے لیے نیا میدان بچھایا گیا۔

اس کا ایک فوری نتیجہ نئی آمریتوں کا قیام اور پرانی آمریتوں کو استحکام ملا۔ لاکھوں افراد اپنی جان سے گئے اور کروڑوں کی تعداد میں لوگوں کو کبھی خطہ کے اندر اور کبھی باہر جان بچانے کی خاطر ہجرت کرنی پڑی۔ جہاں ایک طرف عرب خطہ میں آمروں نے مخلتف فرقہ وارانہ گروہوں کو پروان چڑھایا، وہیں یورپ اور امریکہ نے اپنے خطوں میں نسل پرست تحریکوں کی پرورش کی۔ رد انقلاب کی قبیح حقیقت داعش جو خود کو اسلامک اسٹیٹ بھی کہتی ہے نے کھول کر رکھ دی تھی جب اس نے کھلا اعلان کیا کہ وہ اسلاموفوبیا کا ان ممالک میں خیرمقدم کرتی ہے کہ جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں۔ خطہ میں موجود دیگر قوتیں اس حد تک کھل کر سچ نہیں بول رہی تھیں مگر یہی قوتیں درحقیقت اس صورتحال کے لیے ذمہ دار تھیں۔

سب سے بدترین لیکن حیران کن نہیں کہ ایرانی، سعودی اور ترکی ملیشیا اور سپاہیوں کے بوٹوں تلے اور روسی و امریکی بمباریوں کے تحت عرب بہار کا کچلا جانا ہی وہ وجہ بنا جس کی بنیاد پر جنگوں پر اکسانے کا ایک نیا مرحلہ عالمی سطح پر امریکہ، روس اور چین کے درمیان شروع ہوا۔ ترکی، سعودی عرب اور ایران کے مابین بڑھتے ہوئے تضادات بھی اس کی نشاندھی کرتے ہیں۔

آمروں کے محافظ

پاکستان کے ریاستی اداروں اور آصف علی زرداری، نواز شریف اور حالیہ وزیراعظم عمران خان نے عرب بہار کو کچلنے میں ایک اہم، البتہ غیر فعال، کردار ادا کیا ہے۔ عرصہ دراز سے سعودی بادشاہت، پاکستانی فوج اور دونوں ممالک کے حکمران طبقہ نے ایک ایسا اتحاد قائم کر رکھا ہے کہ جو ایک دوسرے کی حکومتوں کے تحت ہونے والے جبر و استحصال کو تقویت بخشتا ہے۔ یہ اتحاد سعودی بادشاہت کے عرب بہار کے دوران استحکام کے لیے نہایت اہمیت کا حامل تھا۔ اس کے علاوہ پاکستانی فوجی دستوں کی سعودی سرزمین پر موجودگی کا مقصد سعودی فورسز کی ٹریننگ بھی تھا۔ یہ وہی سعودی فورسز ہیں جو 2014 سے یمن میں مداخلت کر رہی ہیں اور اب تک ایک لاکھ سے زائد جانیں لے چکی ہیں۔

بحرین میں سر اٹھانے والی بغاوت کو کچلنے میں پاکستانی فوجی دستوں نے ایک شاہی محافظ کا کردار ادا کیا تھا جس کی بنیاد پر آمریت کو نہ صرف اندرونی انقلابات کو کچلنے کی حوصلہ افزائی کی بلکہ اسکے خطہ میں مداخلتوں کے سلسلے کو بھی بڑھاوا دیا۔ حالانکہ پاکستان کی قومی اسمبلی نے 2014 میں یمن میں براہ راست پاکستانی فوجی مداخلت سے انکار کر دیا تھا، مگر جو دستے سعودی سرزمین پر پہلے سے موجود ہیں، وہ یقیناً سعودی-یمنی بارڈر، سعودی سرزمین اور سب سے بڑھ کر سعودی آمروں کے محلوں کو تحفظ فراہم کرنے پر مامور ہیں۔

اس کے علاوہ، سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف سعودی عرب کی قیادت میں بنائے گئے دہشت گردی کے خلاف اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ ہیں۔ اگر اس اتحاد کا کوئی حقیقت کی عکاسی کرتا ہوا نام ہوتا تو وہ ‘فوجی اتحاد برائے آمریت’ ہے۔ اس اتحاد کا حقیقی مقصد مسلح دستوں یا خطہ کے حریفوں کا مقابلہ کرنا ہے جو سعودی بادشاہت کے لیے خطرہ ہوں۔ اصل مقصد سعودی بادشاہت اور اس کے پالے ہوئے مذہبی جنونی گروہوں کی پوزیشن کا دفاع ہے۔

ہر قسم کی جنگ و جارحیت کی مخالف لازمی ہے، خواہ وہ جنگ خطہ میں موجود قوتوں کی جانب سے ہو یا ان کے مابین۔ خطہ میں جنگ کے نتائج کی وہ شدت ہوگی کہ 2013 سے ہونے والے رد انقلابات ان نتائج کے سامنے ایسے معلوم ہوں گے جیسے ہاتھی کے سامنے چوہا۔ ہماری حمایت محمد بن سلمان، اردوگان، روحانی،نیتنیاہو، اسد اور ال ایسی میں سے کسی کے ساتھ نہیں ہوسکتی۔ سچ تو یہ ہے کہ کوئی بھی سوشلسٹ ایک یا دوسرے بھیڑئیے کا ساتھ نہیں دے سکتا۔ ان جابرانہ آمریتوں نے اگر ایک بات ثابت کی ہے تو وہ یہ کہ وہ اس تمام خطہ کو ایک ذبہ خانہ بنانے کے لیے تیار ہیں۔ وہ مذہبی تقاریر کے ذریعے اپنے عزائم چھپا لیتے ہیں مگر درحقیقت وہ صرف حکمران طبقہ اور اکثر صرف حکمران خاندان کے مفادات کا دفاع کر رہے ہوتے ہیں۔

آزادی کی ضامن، عالمی طبقاتی یکجتی

اس میدان جنگ میں کہ جس پر خطہ کی قوتیں اپنی جیت کا خواب سجائے بیٹھی ہیں، اس میدان میں کوئی نجات نہیں البتہ سینکڑوں کے لیے ہلاکتیں ہیں، نہ صرف سپاہیوں کی بلکہ بچوں، بوڑھوں، مردوں اور عورتوں کی بھی۔ ہر محنت کش سیاسی کارکن کو قوم پرست اور فرقہ وارانہ پروپگنڈہ کی مخالفت کرنی چاہیے۔ ہر جنگی جنون کی مخالفت ان جمہوری و سماجی آرزوؤں کی بنیاد پر ہونی چاہیے کہ جنہوں نے عرب بہار کو جنم دیا تھا۔ ہمارا حدف یہ ہونا چاہیۓ کہ ہم ایسی مہموں کو آگے بڑھائیں کہ جو نوجوانوں اور محنت کشوں کی تحریکوں کی پوزیشن کو اس حد تک مضبوط بنائیں کہ عوامی جدوجہد اور سیاسی ہڑتالوں کے ذریعے جنگ کو روکا جا سکے۔

آج کے حالات میں یہ سب نہ صرف ممکن بلکہ مقبول بھی نہیں نظر آتا۔ مگر 2007 میں بھی یہ ممکن اور مقبول نہیں لگ رہا تھا کہ عرب بہار کا آغاز ہو جائے گا۔ اگر ہم ایک واضح حکمت عملی کے تحت سب سے بہترین محنت کش طبقہ کے سیاسی کارکنان، غریب شہریوں اور ریڈیکل دانشوروں اور ان کے عرب بہار کے تجربات کو اکھٹا کریں تاکہ خطہ میں ایک حقیقی انقلابی سوشلسٹ پارٹی بنائی جا سکے تو ہم کل کی شکست کو آج کی جیت میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ یہ لوگ مشرقِ وسطیٰ کے لیے وہ کردار ادا کر سکتے ہیں جو 1905 کے انقلاب کے دوران روس میں بولشیویکوں نے ادا کیا تھا۔ لہذٰا اس وقت ہم آہنگی اور وضاحت لانے کi ضرورت ہے جو کہ نہ صرف بے ساختہ سیاسی عمل کے لیے شرط ہیں بلکہ اس قوت کے لیے بھی ضروری ہیں کہ جس کے ذریعے ہم ہار کے بعد ایک نئے سرے سے متحرک ہوتے ہیں۔

پاکستان کے لیے بھی ایسی سیاسی وضاحت نہایت اہم ہے۔ سعودی سرزمین پر پاکستانی افواج کے دستوں کی موجودگی خطہ میں ہر جمہوری تحریک اور ہر جمہوری و سماجی انقلاب کے دل میں کانٹا ہے۔ یہ افواج سعودی بادشاہت اور شہزادوں کو تحفظ کا احساس دلاتی ہیں اور یہی وہ احساسِ تحفظ ہے جس کی بنا پر وہ خطہ میں جنگ کے لیے خود کو قابل محسوس کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے جو جلد عالمی سطح پر پھیلے سکتی اور جس کے شعلوں سے پاکستان بھی محفوظ نہ رہ پائے گا۔ عمران خان کی بھارت کے ساتھ جنگ کی مخالفت اور ساتھ ہی بیرون ملک بیٹھے جنگ سازوں کی حمایت ایک بار پھر سرمایہ دارانہ  قومی ریاستوں کے دور میں عالمی سیاست کے غیر معقول کردار کو عیاں کر رہی ہے۔ تاریخ نے ہمیں دکھایا ہے کہ کس طرح کسی بھی سرمایہ دارانہ ریاست نے جب جنگ کی تیاری کی ہے تو کبھی امن نہیں آیا بلکہ جنگ ہی ہوئی ہے۔

اگر آج عمران خان محمد بن سلمان کو کشمیریوں کے نام پر شکریہ ادا کر رہے ہیں تو یہ زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ سعودی آمریت نے جب سے اقتدار پر قبضہ کیا ہے تب سے لے کر آج تک ہر جمہوری تحریک کا گلا گھونٹا ہے۔ سعودی ریاست کبھی بھی کشمیریوں کی آزادانہ ریاست کے آج کے جمہوری مطالبہ کی حمایت نہیں کرے گی۔ پاکستان میں بسنے والے محنت کشوں اور نوجوانوں پر اب تک یہ واضح ہو جانا چاہیے کہ جب عمران خان نیا پاکستان کی بات کرتے ہیں تو وہ در حقیقت پرانے سعود کی جانب ہاتھ بڑھا رہے ہوتے ہیں۔ اس رویہ کے ذریعہ نہ ترقی اور نہ ہی آزادی حاصل کی جا سکتی ہے، نہ مشرقِ وسطیٰ کے لوگوں کے لیے اور نہ ہی برصغیر میں بسنے والوں کے لیے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here