ہندوتوا ہندوستانی سرمایہ دار طبقہ کا نیا چہرہ

0
162

تحریر:شہزاد ارشد
ہندوستان میں 17ویں لوک سبھا کے الیکشن نریندر مودی کی قیادت میں ہندو بنیاد پرست بھارتیہ جنتا پارٹی نے جیت لیے ہیں۔اس الیکشن میں 90کروڑ ووٹرز کو رائے دہی کا حق حاصل تھا جس میں سے67فیصد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا،یہ ہندوستان کی تاریخ میں ووٹنگ کی سب سے زیادہ شرح ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کے اتحاد قومی جمہوری اتحادنے الیکشن میں 353نشستوں پر کامیابی حاصل کی اس میں بی جے پی کی نشستیں 303ہیں یوں وہ بغیر اتحاد کے حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔1971 کے بعد ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہو گا کہ اتحادیوں کی بیساکھی کے بغیر کوئی جماعت مسلسل دوسری بار دہلی میں حکومت بنائے گی۔ کانگرس 52نشستیں ہی جیت پائی ہے اور یوں کانگر س کی قیادت میں اتحاد صرف92نشستوں پر ہی کامیابی حاصل کرسکا ہے۔ان انتخابات میں الیکشن کمیشن نے مودی کے دست راست کا کردار ادا کیا اور مودی کی نفرت پر مبنی تقریروں پر اسے کچھ نہ کہا گیا بلکہ بہت ساری اپوزیشن پارٹیاں انتخابات میں دھندلی کے الزامات بھی لگا رہی ہیں۔
لوک سبھا کے ارکین پر مقدمات
بھارت کے نو منتخب ارکان پارلیمنٹ میں سے تقریباََ 50 فیصد پر ریپ، قتل سمیت کئی مقدمات ہیں۔ایک کانگریسی رکن پر تو قتل، ڈکیتی سمیت 204 مقدمات ہیں۔543 اراکین میں سے کم از کم 233 پر فوجداری مقدمات درج ہیں۔کانگریس کے 52 اراکین پارلیمنٹ میں سے 29 پر مقدمات ہیں جبکہ مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے 303 ارکان میں سے 116 پر مقدمات ہیں۔بی جے پی کے ایک ممبر پر تو دہشت گردی کا مقدمہ ہے۔
سرمایہ دار طبقہ کی فتح
ہندوستانی سٹاک مارکیٹ میں مودی کے ممکنہ طور پر دوسری دفعہ جیتنے کی خبر پر بڑا اضافہ ہوا اور جب جمعرات کو یہ یقینی ہوگیا کہ مودی دوبارہ وزیراعظم بننے جارہا ہے تو سٹاک مارکیٹ انڈیکس میں تاریخی اضافہ دیکھنے کو ملا۔مودی کی الیکشن جیت پر بڑے سرمایہ داروں کی خوشی دیدنی ہے جن کو یقین ہے کہ مودی کی یہ جیت سرمایہ کاری کی حامی پالیسیوں کی رفتار میں شدت لائے گئی اور لیبر قوانین پر مزید حملے ہوں گے۔2024 تک ہندوستان آبادی میں چین کو پیچھے چھوڑنے کے لیے تیارہو گا، جہاں دنیا کے بعض سب سے زیادہ آبادی والے شہر ہوں گے اور جو دنیا کی پانچویں بڑی معیشت کے طور پر کام کررہا ہوگا۔ان حالات میں بڑھتی ہوئی تجارتی جنگ اور جیو پولیٹکس کو ہندوستانی سرمایہ دار اپنے لیے بڑھتے ہوئے موقعوں کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
کارپوریٹ انتخابات
یہ انتخابات ہندوستان کی تاریخ کے سب سے مہنگے انتخابات ہیں جس پرسات بلین ڈالر کے اخراجات ہوئے جو 2016میں ہونے والے امریکن انتخابات سے زیادہ ہیں جس میں صدارتی اور اس سال کانگرس کے انتخابات میں 6.5بلین کے اخرجات ہوئے تھے۔ان انتخابات میں استعمال ہونے والے سرمایہ میں بڑا حصہ کالے دھن کا ہے۔کارپوریٹ سیکٹر کی جانب سے سیاسی پارٹیوں کو دیے جانے والے فنڈ کا 92 فیصد صرف بھارتیہ جنتا پارٹی کو ملا۔بھارتیہ جنتا پارٹی کا 91 فیصد فنڈ کارپوریٹ سیکٹر سے وصول ہوا۔جس کی وجہ سے سوشل میڈیا پر اشتہارات کی مد میں بی جے پی نے کروڑہا روپے خرچ کیئے اور جبکہ کانگرس کے اس مد میں اخرجات کئی سو گنا کم تھے۔یہ سب ظاہر کررہے ہیں کے مودی سرکار کو حقیقت میں کہاں سے حمایت مل رہی ہے آج کانگر س کے برعکس بی جے پی بورژواء طبقہ کی روایتی جماعت ہے۔
مودی کا نیولبرل ازم
ہندوستان میں90کی دہائی میں شروع ہونے والی نیولبرل پالیسی کے بعد سے بڑی تعداد میں ارب پتیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور ان کی دولت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔مودی سرکار کی تمام تر پالیسیاں ان کی خوشنودی پر مبنی ہیں۔اس سے ہندوستان میں امیر اور غریب کے درمیان فرق میں تیزی سے اضافہ ہواہے اور ہندوستان میں 80 فیصد لوگوں کی آمدنی لگ بھگ 3 ڈالر یومیہ ہے۔ مودی نے ہندوستان میں سالانہ دوکروڑ نوکریاں پیدا کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس وقت بے روزگاری پچھلی تین دہائیوں میں سب سے بلند ترین سطح پر ہے۔مگر پچھلے پانچ سالوں میں امبانی اور دیگر بڑے سرمایہ داروں کی دولت میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے انکو بڑے پیمانے پر ٹھیکے دیئے گے۔جبکہ مالیاتی اداروں اور بنکوں کو خوش کرنے کے لیے نوٹ بندی جیسا عوام دشمن اقدام بھی اٹھایا گیا۔جس میں سینکڑوں افراد گرمی میں قطاروں میں کھڑا رہنے کی وجہ سے ہلاک ہو ئے۔ معیشت میں موجودہ 86فیصد نوٹوں کو اچانک بند کر کے ہر شخص کو بینک اکاؤنٹ کھلوانے پر مجبور کیا گیا۔ اس کا مقصد بینکوں میں موجودہ سرمایہ میں اضافہ تھا۔ اس کے علاوہ جی ایس ٹی کے ایک نئے نظام کا نفاذ کیا گیا جس سے چھوٹے کاروباروں کو شدید نقصان پہنچا لیکن بڑے سرمایہ داروں کے منافعوں میں وسیع اضافہ ہوا۔

مزدورتحریک پر حملے۔ مودی کے پانچ سالہ دور اقتدار میں نیولبرل پالیسیوں میں شدت آئی اور بڑے پیمانے پر ٹریڈ یونینوں پر حملے ہوئے،مستقل ملازمت کو حاصل قانونی تحفظ کو ختم کردیا حالانکہ اس سے پہلے بھی لاکھوں لوگوں کو ایسا کوئی تحفظ حاصل نہیں تھا اور وہ انتہائی کم اجرت پر کام کررہے ہیں اور کم ازکم اجرت میں بھی افراط زر کے مطابق اضافہ نہیں کیا گیا اور 8گھنٹے کے اوقات کار کو بھی ختم کردیا گیا ہے۔مودی سرکار کے ان حملوں کے خلاف ملک بھر بڑے پیمانے پر احتجاجات ہوئے،اس سال کے آغاز میں ہندوستان کے مزدور طبقہ نے ان پالیسیوں کے خلاف دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی ہڑتال کی جس میں بڑی تعداد 20کروڑ سے زیادہ مزدور شریک ہوئے،اس کے علاوہ پچھلے سال کے آخر میں کسانوں نے مکتی مورچہ کی قیادت میں دلی میں مارچ کیا جیسے بڑے پیمانے پر نوجوان،خواتین اور مزدور تنظیموں کی طرف سے حمایت ملی۔
پاکستان دشمنی
اس صورتحال میں مودی نے اپنی کمپین کی بنیادہندو نیشنل ازم اور پاکستان دشمنی پر رکھی ہے اور خود کو اس نے ہندوستان کے چوکیدار کے روپ میں پیش کیا۔انتخابی مہم کے دوران بی جے پی کے تمام رہنماؤں بشمول نریندر مودی، پارٹی صدر امیت شاہ اور دیگر وزرا ء پاکستان کے علاقے بالاکوٹ پر فضائی حملوں کا کریڈٹ لیتے دکھائی دئیے۔ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں نیم فوجی دستے پر ہونے والے خودکش حملے کا خوب فائدہ اٹھایا گیا۔ مودی کا پاکستان کے خلاف یہ نعرہ ’گھر میں گھس کر ماریں گے‘ کہ ذریعے جنگی جنون کو بڑھاؤ دیا گیا۔ مودی نے ہندوستانی عوام کو پیغام دیا کہ ان کی حکومت میں ملک کی سلامتی محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ بالاکوٹ پر فضائی حملے کے بعد مودی کی مقبولیت میں اچانک بے پناہ اضافہ ہو گیا تھا۔
ہندوتوا
نریندر مودی ایک سخت گیر ہندو قوم پرست رہنما ہیں اور وہ ڈنکے کی چوٹ پر ہندوتوا کا پرچار کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں کمبھ کے میلے میں فخریہ انداز سے سنگم پر آشنان لیا تھا جو شاید اس سے پہلے کسی وزیراعظم نے نہیں کیا تھا۔گذشتہ ہفتہ انہوں نے مقدس غار میں مراقبہ بھی کیا تھا۔بھوپال سے بی جے پی کی ٹکٹ پر انتخابات جیتنے والی پرگیا سنگھ ٹھاکر نے 1948میں مہاتما گاندھی کو قتل کرنے والے نتھورام گوڈسے کو محب وطن قرار دیا ہے۔ گوڈسے شروع سے ہی ہندوتوا کے نظریات میں ایک اہم مقام رکھتا ہے اور ماضی میں بی جے پی کے متعدد راہنما اس کی تعریف کرچکے ہیں۔ پرگیا ٹھاکر کی باتوں کو یونین منسٹر اننت کمار اور لوک سبھا کے رکن نلین کمار کتیل نے بھی سراہا ہے۔گجرات فسادات کے دوران مودی کا متنازعہ کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ان کے دور حکومت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر حملوں میں اضافہ ہوا اور وہ تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال میں خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ مودی اپنے شدت پسندانہ ہندوتوا نظریے کے اظہار سے کبھی نہیں چوکتے اور انہوں نے نفرت کو اپنی سیاست کی بنیاد بنایا ہے۔ہندوتوا کا نظریہ حقیقت میں سرمایہ داری کے بحران،استحصال اور لوٹ مار سے پیدا ہونے والی غربت اور بیروزگاری کو مسلمانوں اور دلتوں پر ڈالتا ہے تاکہ نظام کے خلاف جدوجہد کی بجائے مذہبی بنیادوں پر تقسیم ہو اور تشدد فروغ پائے۔اس صورتحال میں ہندوستانی سماج میں بڑی تیزی کے ساتھ فاشسٹ رجحانات بڑھ رہے ہیں جنہوں نے ہندوستانی سیکولر ازم کا حقیقت میں خاتمہ کردیا ہے اگلے عرصہ میں اگر بحران میں اضافہ ہوتا ہے تو انڈیا میں ایک فاشسٹ حکومت کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔بھارتیہ جنتاپارٹی کی حکومت نیم فاشسٹ رجحانات رکھتی ہے جو ہندوستانی سماج کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔
میڈیا کی حمایت
مودی کی جیت کی ایک اور اہم وجہ تقریباََ تمام ہی بڑے میڈیا ہاوسس کی طرف سے مودی کی حمایت اور جہاں اس حوالے سے بی جے پی کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے حکومت نے تمام غیر جمہوری ہتکھنڈوں کو استعمال کیا ہے اور میڈیا کی آزادی پر قدغنیں لگائیں گئیں اور حکومت پر تنقید کرنے والے کچھ معروف صحافیوں کو قتل بھی کیا گیا۔اس طرح انہوں نے ایک ایسی فضاء بنائی جہاں حکومت کی کارکردگی پر سوال کی بجائے مودی کی پرستیش کی گئی کہ وہ ہی ایک ہے جو ہندوستان کا تحفظ اور اسے ایک عظیم طاقت بنا سکتے ہے۔
خاندانی سیاست
راہول گاندھی کی قیادت میں کانگرس کو بدرترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے حالانکہ اس کے ووٹ بنک میں پچھلے سال کے مقابلے میں کچھ اضافہ ہواہے۔لیکن بنیادی طور پر ان الیکشنوں میں ہندوستانی عوام نے خاندانی سیاست کو مسترد کیا ہے اور کانگرس جو آزادی کے بعد سے طویل عرصہ تک حکمران رہی سوائے مختصر دورانیہ میں جب اقتدار دیگر اتحاد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔لیکن یہ تمام تر عرصہ ہندوستان کے عوام کو خوشحالی اور بہتر معیار زندگی نہیں دئے پایا جس کا وعدہ کانگرس نے نہروین سوشلزم کے تحت کیا تھا۔بلکہ کانگرس کا ایک عہد ایک خاندان کی بالادستی میں بدل گیا تھا۔نیز90کی دہائی میں ہندوستان میں نیولبرل پالیسیوں کی داغ بیل بھی کانگرس نے ڈالی جس پر مودی آج شدت کے ساتھ عمل پیراہ ہے۔ہندوستان کے عوام اچھی طرح جانتے ہیں کہ کانگرس ان کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی نہیں لاسکتی اور خاص کر پچھلے عرصے میں کانگرس ہندوستان کے بورژواء کی روایتی پارٹی کا درجہ بھی کھو چکی ہے۔

لیفٹ فرنٹ کی ناکامی
اس ساری صورتحال میں لیفٹ فرنٹ متبادل بننے اور متبادل معاشی و سیاسی پروگرام دینے کی بجائے کانگرس کا دم چھلا بن گیا ان کا مواقف ہے کہ بی جے پی سے ہندوستانی سیکولرازم خطرے میں ہے حالانکہ کانگرس کے سیکولرازم کا ریکارڈ بھی پچھلے عرصہ میں مسلسل بدتر ہوا ہے اور وہ اس نے ہی ہندوستان میں نیولبرل ازم کی شروعات کی ہے۔ لیکن اس کا دفاع سب سے مقدم ہے اس لیے وہ کانگرس کی حمایت کررہے ہیں۔ان کی اس پالیسی سے بی جے پی کو کوئی دشواری نہیں ہوئی بلکہ وہ مسلسل ترقی کررہی ہے اور اس کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔اس حکمت عملی سے لیفٹ بی جے پی کو توشکست نہیں دئے پایا البتہ لیفٹ جو 2005کے انتخابات میں ہندوستان کی سیاست تیسری اہم طاقت بن کرابھرا تھا آج پانچ نشستوں تک محدود ہوگیا ہے ا ور ان میں سے 3یا 4نشستیں تامل ناڈو میں ڈی ایم کے کے ساتھ اتحاد کی وجہ سے ہی ممکن ہوئیں۔بنگال جہاں کیمونسٹ طویل عرصہ حکمران رہے وہاں ان کی سرمایہ کاری کی حامی پالیسیوں،کسانوں سے زبردستی زمین حاصل کرنے کی کوششوں اور کرپشن کی وجہ سے جہاں ان کو ترنمول کانگرس کے ہاتھوں چند سال پہلے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا وہاں اب ان کی سماجی بنیادبی جے پی کی طرف چلی گئی بلکہ بنگال میں کامیاب ہونے والا بی جے پی کاایک ایم پی لیفٹ فرنٹ کا سابقہ ریاستی ایم پی بھی تھا۔ایسی بھی خبریں ہیں کہ بہت سارے علاقوں میں کیمونسٹ پارٹی کے ڈھانچے ترنمول کانگرس کے مقابلے میں بی جے پی کی حمایت کرتے رہے ہیں۔لیفٹ فرنٹ جس نے پچھلے الیکشن میں بنگال میں 29.9فیصد ووٹ حاصل کیئے تھے اس دفعہ صرف7.1فیصد ووٹ ہی حاصل کرپایا ہے جبکہ بی جے پی جس نے پچھلی بار17فیصد ووٹ حاصل کیئے تھے۔اس بارانہیں 40.3فیصد ووٹ ملے۔اس کی جو اہم وجہ سامنے آئی ہے وہ کیمونسٹ پارٹیوں نے ترنمول کانگرس کے حملوں کے خلاف پچھلے پانچ سالوں میں اپنی سماجی بنیاد کا کوئی دفاع نہیں کیا اور انہوں نے بی جے پی کو ایک متبادل کے طور پر چن لیا،اسی طرح کیرالہ میں بھی کمونسٹوں کو شکست ہوئی جہاں کیمونسٹ پارٹی اقتدار میں ہے۔ان حالات کے باوجود سی پی آئی ایم کی طرف سے جو بیان آیا ہے وہ نہایت مایوس کن ہے اور جس میں ان کے لیے سیکولرازم بورژواء جمہوریت کا دفاع اور ریاست کی بالادستی ہی سب سے اہم مسئلہ ہے۔
محنت کش طبقہ کی پارٹی
کنیہاکمار اور دیگر نسبتاََ ریڈیکل لوگوں کی الیکشن میں شکست یہ واضح کرتی ہے کہ اصلاح پسند پارٹیوں اور پروگرام پر تبدیلی ممکن نہیں ہے اور ہندوستانی نوجوانوں جو بی جے پی کے نیولبرل ازم اور فاشسٹ رجحانات کے خلاف برسرپیکار ہیں ان کو اصلاح پسندی سے ناطہ توڑنا ہوگا اور انقلابی بنیادوں پر مزدور تحریک،کسانوں کو منظم کرنا اور محنت کش طبقہ کی انقلابی پارٹی تعمیر کرنی ہوگی۔اس کے ساتھ ان کو لیفٹ فرنٹ،ٹریڈیونینوں اور سماجی تحریکوں کے ساتھ متحدہ محاذ بنانا ہوگا جو کانگرس اور کسی بورژواء پارٹی کی سیاسی حمایت نہ کرئے اور مودی کی حکومت کے خلاف جدوجہد کو سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جدوجہد میں بدل دئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here