سنگت جیئند بلوچ کی بازیابی ایک اہم فتح

0
99

سنگت جیئند بلوچ کی بازیابی ایک خوش کا موقع ہے ہم جیئند بلوچ کی واپسی پر اُن کو اور بی ایس او کی قیادت کو مبارک باد دیتے ہیں۔سنگت جیئند بلوچ کی جبراََ گمشدگی کے بعد جس طرح کوئٹہ،دیگر شہروں اور عالمی سطح پر مظاہرے ہوئے یہ مظاہرے ایک بلوچ طالب علم کے لیے تھے لیکن اس کی ایک اہم وجہ وہ ہزاروں گمشدہ ہیں جن میں سے زیادہ تر کا مقدر مسخ شدہ تھا اور دیگر جو ابھی گمشدہ ہیں یہ وہ خوفناک صورتحال ہے اس میں بی ایس او کی قیادت نے جرات مند جدوجہد کی جس کی وجہ جینئد بلوچ آج بازیاب ہوئے ہیں۔اس گمشدگی کے خلاف جدوجہد کی قیمت بی ایس او کی قیادت نے خود اپنی گمشدگی،تشدد اور تلخ لمحات کی صورت میں ادا کی لیکن وہ اس کے باوجود کھڑے رہے۔
سنگت جیئند بلوچ کی بازیابی پاکستان اور دنیا بھر میں اُن کے لیے آواز اُٹھنے والوں کے لیے خوشی کی خبر ہے۔جیئند بلوچ کی بازیابی ریاست کی شکست ہے اور مسنگ پرسن کی تحریک کے لیے ایک اہم فتح ہے۔یہ کمپین ظاہر کرتی ہے کہ یکجہتی کتنی اہم ہے اور جدوجہد و حوصلہ سے ریاست کو جھکنے پر مجبور کیا جاسکتاہے۔ یہی وہ بات ہے جس سے ریاست خوفزدہ ہے۔جیئند بلوچ کی بازیابی تحریک کے لیے ایک نیا حوصلہ ہے اور ہمیں اس حوصلہ کو مسنگ پرسن کی تحریک کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
سنگت جیئند بلوچ اور بعدازں اُن کی جبراََ گمشدگی کے خلاف آواز اُٹھنے والوں کو جس طرح گمشدہ کیا گیا۔یہ اس ریاست کے اصل چہرہ واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔یہ ایک غیر جمہوری ریاست ہے جو بنیادی جمہوری حقوق دینے کے لیے بھی تیار نہیں ہے اور عمران خان اوراُن کی حکومت اُن تمام جرائم کی ذامہ ادر ہے جو یہ ریاست کررہی ہے لیکن صرف عمران خان کی حکومت ہی نہیں بلکہ وہ تمام جو جو عمران خان کی حکومت کی حمایت کررہے ہیں اور ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں چاہیے آج وہ حکومت میں نہ ہوں اور خود کو جمہوریت کے چمپین کے طور پر پیش کررہے ہوں۔
مسنگ پرسن کی تحریک پاکستان کے مظلوم اقوام کی تحریک ہے یہ تحریک اور خود بلوچ جدوجہد بھی سامراج اور ریاست سے ٹکراؤ میں آتی ہے۔اس لیے تحریک کو کسی سامراج یا سامراجی ادارے سے کوئی خوش فہمی نہیں ہونی چاہیے۔سامراج اور اُس کے پٹھو ممالک صرف بلوچ جدوجہد کے لیے تباہی اور بربادی ہی لاسکتے ہیں۔بلوچ قوم کی جدوجہد اس خطے کی دیگر مظلوم اقوام اور محنت کش طبقہ سے جڑی ہوئی ہے۔ اس جدوجہد کو پاکستان کی تمام مظلوم اقوام اور محنت کش طبقہ کی جدوجہد بنانا ہوگی تب ہی ہم اس نظام کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور اپنی جدوجہد کو کامیاب بنا سکتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here