کشمیر کی دہلیزپر انقلاب کی دستک

0
380

(رپورٹ(انقلابی سوشلسٹ
بھارتی حکومت کی طرف سے آرٹیکل 370اور35اے کے خاتمے،کرفیو اور کمیونیکشن پر پابندی کے خلاف نام نہاد آزاد کشمیر میں ایک انقلاب جنم لے رہا ہے۔26اگست کو جے کے پی این اے کی کال پر مظاہرے اور اُس کے بعد مسلسل نام نہاد آزاد کشمیر میں احتجاجات ہورہے ہیں جن میں واضح طور پر غیر ملکی افواج کے انخلاء اورنام نہاد آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر مشتمل آئین ساز اسمبلی کا مطالبہ کیا جارہا ہے اور اس مطالبہ کو عوام میں بڑی مقبولیت مل رہی ہے اور دوسری طرف گلگت بلتستان میں بھی ایک اتحاد قائم ہوا ہے جو ریاست جموں کشمیر کی بحالی اور خودمختاری کے مطالبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کررہا ہے۔ان احتجاجات کی ایک اہم بات اس دفعہ ان کی قیادت خودمختار ریاست جموں وکشمیر کی حامی پارٹیاں کررہی ہیں اورپاکستان سے الحاق کی پارٹیاں کہیں نظر نہیں آرہیں ہیں۔
پی این اے جو ترقی پسند و قوم پر ست تنظیموں کا اتحاد ہے اس نے کشمیر چھوڑدو تحریک اور مظفر آباد میں دھرنے اور جے کے ایل ایف نے 4اکتوبر کو سیزفائر لائین کو توڑنے کا اعلان کیا ہے اورپچھلے کچھ دنوں سے مقامی سطح پر کشمیر ی نوجوانوں نے سیزفائر لائین پر دھرنے بھی دیئے ہیں اور اس کو توڑنے کی کوشش بھی کی ہے جس کے نتیجے میں کشمیری نوجوان بھارتی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں شدید زخمی بھی ہوئے۔جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (سردار صغیر کے گروپ) نے7ستمبر کوتیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ تک آزادی مارچ اور دھرنے کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد سیزفائر لائین توڑنا نہیں تھا۔یہ دھرنا بنیادی طور پربھارتی مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و ستم کے خلاف اور اس پار کشمیریوں کی یکجہتی کے لئے تھا۔لیکن اس مارچ کے درج ذیل مطالبات بھی تھے۔
روزانہ کی بنیاد پر سیزفائر لائین پر ہونے والی ہلاکتوں کے خلاف فائر بندی کا مطالبہ
گھر اور املاک کے نقصان پر معاوضے کا مطالبہ
ابتدائی طبی امداد اور قریب ترین علاج کے لیے علاج کی سہولیات کے مطالبات وغیرہ شامل تھے۔
آزادی مارچ کے شروع ہونے سے پہلے حالانکہ اس پر مختلف اعتراضات سامنے آرہے تھے لیکن اس سے ایک دن پہلے تقریباََ تمام ہی قوم پرست اور ترقی پسند تنظیموں نے اس کی حمایت کردی اور ان کے کارکنان بھی اس مارچ میں شریک ہوگئے اور دوسری طرف جے کے ایل ایف نے بھی اسکی حمایت کااعلان کیا اور اس کو خوش آمدید کہنے کے لیے ہجیرہ کی طرف مارچ کا اعلان کردیا تاکہ آزادی مارچ کے ساتھ مشترکہ طور پرتیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ کی طرف جائیں۔لیکن آزادی مارچ اور کوٹلی سے آنے والے قافلے کو روک دیا گیا پولیس نے تشدد اور آنسو گیس کا اندھا دھند استعمال کیا اور کوٹلی شہر کے نزدیک دریائے پونچھ کے پل پر پولیس کی شیلنگ سے دو نوجوانوں کے دریا میں گرنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔اس کے علاوہ دواراندی کے مقام پر پنجاب پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ،فائرنگ اور لاٹھی چارج کے استعمال کی وجہ سے اب تک درجنوں کارکنان زخمی ہوئے ہیں جبکہ دوسوسے زائد کارکن گرفتار ہیں۔اس کے علاوہ بعض اطلاعات کے مطا بق دواراندی میں پولیس نے لوگوں کو گھروں سے نکال کر تشدد کا نشانہ بنایااور نوجوانوں اور بچوں کو زخمی حالت میں گرفتارکیا گیا۔
آزادی مارچ میں جتنی بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوئے یہ بدلتے ہوئے معروض کو ظاہر کررہے ہیں جہاں کشمیری لوگوں نے اپنے مستقبل کافیصلہ خود کرنے کا اعلان کردیا۔تیتری نوٹ کراسنگ پوائنٹ سے چند سو گز کے فاصلے پرمقامی لوگوں اور کارکنان کی بڑی تعداد نے آزادی مارچ کے استقبال کے لیے کیمپ لگا رکھے تھے۔پولیس کے تمام تر گھیراؤکے باوجود قیادت تیتری پوائنٹ پر پہنچنے پر کامیاب ہوگئی۔اس مارچ کو سوشل میڈیا پر نشر ہونے سے روکنے کے لیے ہجیرہ اور دیگر مقامات پر موبائل اور انٹرنیٹ سروس کو بندکردیاگیا۔قیادت کے تیتری پہنچنے کے بعد آزادی مارچ تمام تر رکاوٹیں توڑتے ہوئے تیتری پوائنٹ پہنچ گیا بلکہ اس میں مزید لوگ شامل ہورہے ہیں اور کل جب مارچ کے شرکاء پر تشدد کیا گیا تو اس کی نہ صرف تمام قوم پرست اور ترقی پسند پارٹیوں کی طرف سے مذمت کی گئی بلکہ مختلف علاقوں میں اس کے خلاف احتجاجات بھی ہوئے اور اب جے کے ایل ایف سے توقیر گیلانی اور پی این اے کی ساری قیادت دھرنے میں پہنچ چکی ہے۔آزادی مارچ اور دیگر احتجاجات میں پاکستان اور بھارت کے محنت کش طبقہ سے اظہار یکجہتی کی اپیلیں بھی کی گئیں۔پرامن مظاہرین پر ہونے والا تشدد ظاہر کرتا ہے کہ بھارتی ریاست کی طرح پاکستان کی ریاست کے اپنے مفادات ہیں اور اُن کے لیے ریاست جموں کشمیر کے عوام کی آزادی و خودمختاری کے جذبہ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ان حالات میں تمام ترقی پسند و قوم پرست جماعتوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ مشترکہ لائحہ عمل کا اعلان کریں اور محلے کی سطح اور کام کی جگہ پر کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جہاں مرکزی کمیٹی کے لیے مندوبین منتخب کیئے جائیں نیزریاست جموں کشمیر کی آزادی وخودمختاری کے لیے اور تحریک پر جبروتشددکے خلاف حکمت عملی ترتیب دی جائے اور ریاست جموں کشمیر کے علاوہ بھارت اور پاکستان کے محنت کش طبقہ سے عام ہڑتال کی اپیل کی جائے تاکہ خطے میں سرمایہ داری نظام کا خاتمے کیا جاسکے کیونکہ ریاست جموں کشمیر کی آزادی وخودمختاری کی جدوجہد سوشلسٹ کشمیر سے وابستہ ہے جو برصغیر کی سوشلسٹ فیڈریشن کا حصہ ہو۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here