خودمختارریاست جموں کشمیر کے لیے ابھرتی ہوئی نئ تحریک

0
436

(انقلابی سوشلسٹ(رپورٹ
یہ جموں کشمیر پیپلز الائنس سوشلسٹ اور قوم پرست تنظیموں پر مشتمل ایک نیا اتحاد ہے اس کا قیام انڈیا کی طرف سے آرٹیکل370اور35Aکے خاتمے ا ور ریاست جموں کشمیر کی تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال،ریاست میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کے خلاف اور خودمختار کشمیر کے قیام کے لیے ہے۔اس اتحادکے زیراہتمام جموں کشمیرچھوڑ دو تحریک کا آغاز پاکستان کے زیرانتظام کشمیر سے ہواہے۔اس سلسلے میں روالپنڈی سمیت پاکستانی زیرانتظام کشمیر کے تمام اضلاع میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔یہ ایک نئی تحریک کی ابتداء ہے اور اس میں عوامی شمولیت کی ابتدائی جھلکیاں بہت متاثر کن ہیں۔اس میں ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین شریک ہوئے۔مختلف شہروں میں مظاہرین نے پلے کارڈ اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر گلگت بلتستان سمیت ریاست کے تمام حصوں میں اسٹیٹ سبجیکٹ کو بحال کرو،کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرو، تمام سیاسی اسیران کو رہا کرو،ریاست جموں کشمیر کی تقسیم نامنظور اور غیر ملکی افواج واپس جاو جیسے نعرے درج تھے۔
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں یہ ایک طاقتور تحریک کی ابتداء ہے جس میں مظاہرین نے بھارت اور پاکستان کے بیانیہ کو مسترد کردیا ہے اور انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ریاست جموں کشمیر کے مقدر کا فیصلہ یہاں کے عوام ہی کرسکتے ہیں۔اس تحریک میں شامل لوگوں کاحوصلہ بہت بلند ہے اور وہ انہوں اعلان کیا ہے کہ وہ نہ کسی کا اٹوٹ انگ ہیں اور نہ ہی کسی کی شہ رگ ہیں بلکہ وہ تمام معاملات کا فیصلہ خود کرنا چاہتے ہیں۔ان مظاہروں میں قومی حق خودارادیت کے نعرے بہت واضح تھے۔
اتنی بڑی تعداد میں کشمیری عوام کی موبلائزیشن کے باوجود پاکستانی میڈیا نے ان احتجاجات اور تحریک کو بالکل نظرانداز کردیا ہے۔یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کے حکمران طبقہ کے لیے کشمیر ان کے مفادات کے حصول کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور وہ ہمیشہ کی طرح کشمیر کے عوام کو استعمال کرکے صرف دھوکا دیں گئیں اس لیے خومختار ریاست جموں کشمیر کا نعرہ اور تحریک اُن کے مفادات پر ضرب لگاتی ہے اور وہ ایسی ہر تحریک کی آواز کو دبانا چاہتے ہیں جو حقیقت میں کشمیر کو آزاد کرواسکتی ہے۔سب سے اہم بات اس تحریک میں شامل سیاسی کارکنان اور عوام کو جہاں پاکستان اور بھارت کے حکمرانوں سے کوئی امید نہیں ہے وہاں وہ بھارت اور پاکستان کے محنت کش طبقہ سے یکجہتی کی اپیل کررہے ہیں۔یہ اس تحریک کی ایک اہم خصوصیت ہے جو اس قومی آزادی کی تحریک کو جہاں بھارت اور پاکستان کے محنت کش طبقہ سے جوڑتی ہے جن کا اپنامفاد بھی ریاست جموں کشمیر کی آزادی میں پنہاں ہے جو اُن کی آزادی کے لیے ضروری ہے۔وہاں یہ تحریک خطے میں سامراج کے مفادات سے بھی ٹکراؤ میں آتی ہے۔یہ صورتحال اس تحریک اور اس کی قیادت کے لیے لازمی بنادیتی ہے کہ وہ کشمیر کی قومی آزادی کی تحریک کوسرمایہ داری کے خاتمے اور ساوتھ ایشیاء کی سوشلسٹ فیڈریشن سے وابستہ کرئے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here