آڑٹیکل370کے خلاف اور خود مختار کشمیر کے لیے لاہور میں مظاہرہ

0
421

رپورٹ(انقلابی سوشلسٹ )جموں کشمیر لبریشن فرنٹ لاہور اور جموں کشمیر سٹوڈنٹ کونسل لاہور کے زیراہتمام6اگست بروز منگل پریس کلب کے سامنے آرٹیکل 370کے خاتمہ کے خلاف اور خود مختار کشمیرکے حق میں مظاہرہ ہوا۔اس مظاہرے کی اپیل جے کے ایل ایف کی مرکزی قیادت نے دی۔لاہور پریس کلب پر اس وقت دنیا بھر کی طرح مختلف تنظیمیں انڈیا کی بربریت کے خلاف اور کشمیریوں کے حق میں مظاہرہ کررہیں تھیں۔لیکن جموں کشمیر لبریشن فرنٹ اور جموں کشمیر سٹوڈنٹ کونسل کا مظاہرہ حقیقی مطالبات اور مسائل کو سامنے لایا جس کا اس وقت ریاست کشمیر کو سامنا ہے۔اس موقع پر انڈیا کی کشمیر میں بربریت اور آرٹیکل370کے خاتمے کے خلاف شدید نعرے بازی بازی کی گئی۔اس ریلی میں لاہور سے بھی ترقی پسند کارکنان اور طلباء نے شرکت کی۔اس مواقع پر مظاہرین نے مودی کا پتلہ بھی جلایا۔
اس مواقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہیں مقررین نے کہا کہہ کشمیر دنیا کا سب ملٹرائزڈ زون ہے اور ہندوستان کی طرف سے مزید فوج کو بھیجنے کا مقصد کشمیر ی قوم کے جذبہ حریت کو کچلانا ہے لیکن جہاں انڈیااس کو پہلے کچلنے میں ناکام رہا اب بھی اس میں ناکام رہے گا اور بی جے پی کی ہندوتوا کی پالیسی کامیاب نہیں ہوگی کشمیر کا فیصلہ کشمیر ی قوم ہی کرسکتی ہے۔البتہ موجود صورتحال دو ایٹمی قوتوں کو جنگ کے دھانے پر لے آئی ہے اور انڈیا اور پاکستان کا حکمران طبقہ جنگ جنون اور ماحول کو پروان چڑھا رہا ہے۔تاکہ سرمایہ دارانہ بحران کا بوجھ اس خطے کے عوام پر ڈال سکے۔اس لیے ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ انڈیا اور پاکستان ریاست کشمیر سے اپنی افواج کو واپس بلائیں اور اپنی قسمت کے فیصلے کا حق ریاست جموں کشمیر کے عوام کو دیا جائے۔مظاہرین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان گلگت بلتستان اور ازاد کشمیر کو میلا کر ایک ازاد اور خودمختار ریاست قائم کرے اور سب سے پہلے اسکو تسلیم کرے تاکہ ریاست کا کیس ریاست انٹرنیشنل فورم پر لے جائیں مظاہرین نے کہا 1948 میں کیئے گے کراچی معائدہ جیسے زخم اج ریاستی عوام کیلئے ناسور بن گے جس کے تحت گلگت بلتستان کو رہاست سے الگ کر کے وہاں باشندہ ریاست کی دھجیاں بکھیری گی اس سے دستبردار ہو تاکہ کشمیر ی قوم اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرسکیں۔مظاہرے کے آخر میں مظاہرین ڈاکٹر توقیر کی مشہور نظم گاکرمظاہے کو ختم کیا۔
*یہ رسیاں تو کھول دو ، یہ طوق اب اتار دو
ہم آدمی نہیں ہیں کیا ؟ ہمیں بھی اختیار دو
ہمیں بھی اختیار دو کہ ہم بھی گفتگو کریں
ہمارے اپنے جشن ہوں ، ہم اپنی ہاو ھو کریں
ہمارے ہاتھ، پیر ، آنکھ، کان، سر نہیں ہیں کیا؟
ہمارے شوق اور یقیں، ہمارے ڈر نہیں ہیں کیا؟
ہمارے روز و شب رہین- اذن_ غیر کس لیے ؟
تمھارا کچھ لیا نہیں تو ہم سے بیر کس لیے ؟
ہوس اگر کھلی رہی تو پیار مرتا جائے گا
تمھارا جبر اس فضا میں زہر بھرتا جائے گا
تمھارے حق میں جو بھی کوئی دلیل ہے فضول ہے
زمین مالکوں کی ہے ، مسلمہ اصول ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here