خود مختارریاست جموں کشمیر کی جدوجہد اور سوشلسٹ نقطہ نظر

0
290

ہندوستانی وزیرداخلہ امیت شاہ نے5اگست کو آرٹیکل370کے خاتمہ کا صدارتی آڈر راجیہ سبھا میں پیش کیا جس پر مختصر بحث کے بعد61کے مقابلے میں 125ووٹوں سے اور لوک سبھا میں 67کے مقابلے میں 367ووٹوں سے اسے منظور کرلیا گیا۔آرٹیکل 370کے مطابق کشمیر کی ریاست کے امور خارجہ، مواصلات اور دفاع کا اختیار مرکزکے پاس تھا جبکہ دیگر تمام معاملات کا اختیار ریاست کی قانون ساز اسمبلی کے پاس تھے۔ اس کے ساتھ ریاست کو اپنا آئین بنانے اور اپنا جھنڈا رکھنے کے اختیارتھااور ان آئینی شقوں میں ریاست یا مرکز دونوں ایک دوسرے کی مکمل رضامندی کے بغیر کوئی تبدیلی نہ کر نے کے پابند تھے۔لیکن آرٹیکل 370کے خاتمہ کے بعد اب ہندوستان کے زیراہتمام ریاست جموں کشمیر کو حاصل نیم خودمختاری کا خاتمہ ہوگیا اور یاست جموں و کشمیرکو دوحصوں میں تقسیم کرتے ہوئے انڈین ٹریٹریز کا درجہ دے دیا جس کے بعد جموں اور کشمیر پر مشتمل یونین ٹریڑی کی اپنی قانون ساز اسمبلی ہوگی اور مرکز ایک لیفٹیننٹ گورنرتعینات کرئے گاجبکہ لداخ کو براہ راست وفاق کے زیر انتظام دے دیا گیا ہے اور یہاں بھی ایک لیفٹیننٹ گورنرہوگا مگر لداخ کی قانون ساز اسمبلی نہیں ہوگی اس کے ساتھ ہی صدارتی حکم کے تحت اس دفعہ کی ایک شق 35A کا بھی خاتمہ ہو گیا ہے جس کے بعد ریاست کی شہریت کا قانون بھی ختم ہو گیایہ مہاراجہ کے عہد کا قانون تھا جیسے باشندہ ریاست کا قانون کہا جاتا ہے جس کے مطابق کوئی بھی غیر کشمیری کشمیر میں زمین کی ملکیت اور سرکاری ملازمت جیسی کوئی بھی مراعات حاصل نہیں کر سکتا۔یوں ریاست جموں کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو ختم کرتے ہوئے اسے ہندوستان کا حصہ بنا دیا گیا۔
آرٹیکل 370کے خاتمے سے کافی دن پہلے ہی ایمرجنسی کے حالات پیدا کردیئے گے تھے۔جس کی وجہ سے ریاست جموں کشمیر میں موجود تمام غیر ریاستی افراد،سیاحوں،طالب علموں اور محنت کشوں کو جبری طور پر نکال دیا گیا اور پہلے سے دنیا کے سب سے زیادہ ملٹر ئزڈ زون میں فوج کی تعینات میں مزید اضافہ کردیا گیا۔مقامی پولیس سے تمام اختیارات واپس لیتے ہوئے اُن کو غیر مسلح کردیا گیا جبکہ تمام تعلیمی اداروں کو بند کرکے ہاسٹلز کو خالی کروا لیا گیا۔انٹرنیٹ،موبائل فون حتیٰ کہ لینڈ لائین سروسز کو بھی بند کردیا گیا۔اس کے ساتھ انڈین نواز قیادت کو ہاوس اریسٹ جبکہ آزادی پسندوں کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ اب تک گرفتاریوں کی تعداد 500سے زائد ہوچکی ہے اور پچاس سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جس کی وجہ سے طرح طرح کی خبریں گردش کررہیں اور اس نے ہیجان کی کیفیت پیدا کردی تھی۔
یہ واضح طورپر مودی کی ہندوتوا کی پالیسی کے مطابق ہو رہا ہے اور مودی سرکار جنگی جنون اور بالادستی کو پروان چڑھا رہی ہے تاکہ ایک طرف ہندوستان میں کسی کو اختلاف اور مزاحمت کو ہندوستان دشمنی کے نام پر کچلا جاسکے اور دوسری طرف ان پالیسیوں کا مقصد ہندوستانی سرمایہ کو لوٹ مار کے کشمیر میں مواقع فراہم کرنا ہے۔ ہندوتوا ہندوستان کے سرمایہ کا نیا چہرہ ہے۔کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد دونوں طرف حکمران طبقہ نفرت اور جنگی جنون کوفروغ دئے رہاہے۔ایک طرف اس کو مودی سرکار کی فتح سے تعبیر کیا جارہا ہے تو دوسری طرف پاکستان کا حکمران طبقہ جیسے شدید معاشی بحران کا سامنا ہے یہ جنگی جنون کے فروغ میں ہی اپنی نجات دیکھتا ہے۔اس صورتحال نے دو ایٹمی قوتوں کو آمنے سامنے لاکھڑا کیا ہے۔اگر کوئی جنگ ہوتی ہے اس کا سب سے زیادہ نقصان عام عوام اور خاص کرکشمیریوں کو ہوگا جو پہلے ہی پچھلے 70سالوں دونوں ریاستوں کے عذاب اور تسلط کو بھگت رہے ہیں۔
اس صورتحال نے نئی جدوجہد کے امکان کو پیدا کیا ہے جو جہاں ایک ہندوستان کے غصبانہ تسلط اور قتل وغار ت کے خلاف ہوگی بلکہ ابھی سے نظر آرہا ہے کہ اس دفعہ پاکستانی ریاست کے تسلط اور نام نہا آزاد کشمیر اور گلگت و بلتستان کے بلادکار کے خلاف جو ردعمل ہے وہ بھی مجتمع ہوکر ایک تحریک کی صورت میں سامنے آسکتاہے ان حالات میں ہی ایک ایسی تحریک جنم لے سکتی ہے جو خودمختار ریاست جموں کشمیر کی تحریک بن سکتی ہے جو ریاست جموں کشمیر کی تمام اقوام کو تحریک آزادی میں اکھٹا کرسکتی ہے۔اس حوالے دو باتیں بہت اہم ہی اول اس تحریک کی بنیادیں سیکولر ہونی چاہیں اوردوم اسے کسی ریاست،امریکہ یا چین کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے۔کیونکہ ان تمام طاقتوں کے اپنے مفادات ہیں اور اس کے نتائج کشمیر کے حل کے نام پر اُن کے ساتھ کھلواڑ ہی ہوسکتا ہے۔ کشمیر میں جنم لینے والی تحریک اور اُس کی قیادت کو ہندوستان اور پاکستان میں محنت کش عوام سے طبقاتی یکجہتی کی اپیل کرنی چاہیے۔
اقوام متحدہ بھی حقیقت میں ایک سامراجی ادارہ ہے جو سامراجی مفادات کے تابع ہے اور کشمیری قوم بہت اچھی طرح جانتی ہے کہ کس طرح اقوام متحدہ پچھلے72سالوں سے کشمیر کے مسئلہ کو حل کرنے اور وہاں ریفرنڈیم کی بجائے ہندوستان اور پاکستان کے قبضے کو جواز بخشا ہے۔
ہندوستان میں ہر طرف ہندوتوا نہیں ہے جیسا کہ پاکستانی میڈیا میں پیش کیا جارہا ہے بلکہ ہندوستان میں طلباء،عورتیں اور مزدوروں کی تنظیمیں بی جے پی حکومت کی ان پالیسیوں کی مخالفت کر رہی ہیں۔لیکن اس مواقع پر انڈین لیفٹ بجائے اس کے کہ کشمیر کی حق خوداردایت کی حمایت کرتا اور انڈین افواج کی کشمیر سے واپسی کا مطالبہ کرتا وہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کی مخالفت صرف اس وجہ سے کررہا ہے کہ اس سے انڈیاکاآئین اور سیکولرازم خطرے میں پڑگیا ہے لیکن یہ ہندوستان کے قبضے کی مخالف کی بجائے کشمیر کو ہندوستان کا اٹوٹ انگ کہہ کراس کے قبضے کی حمایت کررہا ہے اور ویسے بھی آرٹیکل 370کے ہوتے ہوئے ہی کشمیری قوم پر دہائیوں سے ہندوستانی فوج بدترین مظالم کررہی ہے۔
ان حالات میں ریاست جموں کشمیر میں گورنرراج اور کرفیو نافذ ہے اور جبر اور خوف کے ذریعے ہر کسی قسم کی جمہوری جدوجہد سے روکا جارہا ہے لیکن اس صورتحال کے باوجود کشمیر میں احتجاج ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں نوجوان شہید بھی ہوئے اگلے عرصے میں ان احتجاجات میں اضافہ ہوسکتا ہے ان حالات میں ہندوستانی فوج اس تحریک کو کچلنے کے لیے ہر طرح کے حربے استعمال کرسکتی ہے اور پچھلے عرصے میں ہم دیکھ چکے ہیں کہ انڈین فوج کسی طرح تحریک کو کچلنے کی لیے گرفتاریاں،تشدد،قتل عام اور خواتین کی عصمت دری کرتی رہی ہے۔ان حالات کے لیے تحریک کو تیار رہنا چاہیے اور تحریک کے دفاع کے لیے خود کو مسلح کرئے تاکہ فوجی بربریت اور تشدد کے خلاف تحریک کا دفاع کیا جا سکے۔
ریاست جموں کشمیر سے غیرملکی افواج اور نیم فوجی دستے واپس جائیں۔
ریاست جموں کشمیر کے تما م علاقوں میں سیاسی قیدیوں اور مظاہرین کو رہا کیا جائے۔
ریاست جموں کشمیر میں جمہوری حقوق پر عائد تمام پابندیوں کو ختم کیا جائے۔
ریاست جموں اور کشمیر کی1947کی پوزیشن بحال کی جائے اور تمام اکائیوں میں علاقائی اور کام کی جگہ پر کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جن کے تحت آئین ساز اسمبلی کے انتخاب کروایا جائے اور یہ اسمبلی ریاست جموں کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ خطے کی اقوام کی خواہش کے مطابق کرے۔
سوشلسٹ کشمیر کی جدوجہد سوشلسٹ جنوبی ایشیاء کی جدوجہد حصہ ہے۔اس تمام مظلوم اقوام اور محنت کش طبقہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کے ساتھ یکجہتی کریں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here