انقلابی سوشلسٹ موومنٹ کی طرف سے ہسپتالوں کی نجکاری کے خلاف لیفلیٹ

0
86
   ایم ٹی آئی کا نفاذ روکا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہسپتالوں کی نجکاری نامنظور

تحریک انصاف کی حکومت ماضی کی حکومتوں کی طرح معاشی بحران کا تمام تربوجھ محنت کشوں،شہری ودیہی غریبوں اور لوئرمڈل کلاس پر ڈال رہی ہے تاکہ سرمایہ دار طبقے،امراء اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کو نوازا جاسکے۔اس لیے تحریک انصاف کی حکومت پوری شدت کے ساتھ نجکاری کا پروگرام لاگو کرنا چاہتی ہے۔
ایم ٹی آئی نجکاری کی ہی ایک شکل ہے اور اب یہ ہسپتال عوامی مفاد کی بجائے تجارتی بنیادوں پر چلائے جائیں گے۔اس سے جہاں ایک طرف محنت کشوں اور غریبوں کو حاصل مفت اور سستے علاج کی سہولت ختم ہوگئی ہے وہاں دوسری طرف ان اداروں میں کام کرنے والوں کی مستقل نوکریاں بھی ختم ہوجائیں گئی۔یہ سب آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت ہورہاہے جس کا مقصد بڑے سرمایہ دار کو فائدہ پہنچاناہے۔ دنیا بھر میں آئی ایم ایف کے پروگرام معیشت میں استحکام لانے کی بجائے اس کی مزید تباہی کا باعث ہی بنے ہیں اور وہاں ہمیشہ ایک پروگرام کے بعد دوسرے پروگرام کی ضرورت رہی ہے۔جس کا نتیجہ نجکاری،نوکریوں کا خاتمہ،تنخواہوں میں کمی اور مہنگائی کی صورت میں نکلا ہے۔
آج پاکستان کا معاشی بحران بہت شدید ہے جہاں ایک طرف لاکھوں نوکریاں اب تک ختم ہوچکی ہیں اور دوسری طرف کروڑوں لوگوں کے معیار زندگی میں شدید گرواٹ آئی ہے۔مسلم لیگ نواز یا پیپلزپارٹی کی نجکاری مخالفت ایک دھوکے کے علاوہ کچھ نہیں ہے کیونکہ جب یہ جماعتیں اقتدار میں تھیں تو یہ بھی نجکاری کو ہی حل کرطور پر پیش کرتی تھیں اوراب تحریک انصاف جو پہلے اپوزیشن میں نجکاری کی مخالفت کررہی تھی اب نجکاری کو قومی معیشت کے نام پر پیش کررہی ہے۔ان حالات میں اس نئے حملہ کا مقابلہ جدوجہد کا متقاضی ہے جو حکمران طبقہ کی سیاست سے آزاد ہو۔ہیلتھ سیکٹر کی ماضی میں شاندار جدوجہد کی روایت موجود ہے اس ہی جذبہ کے تحت جدوجہد سے حکومت کو جھکنے پر مجبور کیاجاسکتاہے۔اس لیے ہیلتھ سیکٹر میں گرینڈ ہیلتھ الائنس کا قیام خوش آئند قدم ہے کیونکہ مل کرہی حکمران طبقہ کے اس حملے کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔لیکن اس اتحاد کو مزید وسیع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دیگر اداروں کے محنت کشوں کے ساتھ مل کرنجکاری مخالف اتحاد تشکیل دیا جاسکے۔اس طرح ہی ہم ملک گیر سطح پر آئی ایم ایف کے حکم پر مسلط کردہ نجکاری کا مقابلہ کرسکتے ہیں جیسا کہ ماضی میں پی آئی اے،یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن اور خود ہیلتھ سیکٹر کی جدوجہد کی شاندار مثالیں موجود ہیں۔
ایم ٹی آئی کا نفاذ نامنظور،نجکاری کی ہر شکل کے خلاف جدوجہد منظم کی جائے۔
ہسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز،نرسز اورپیرامیڈیکل سٹاف پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جہاں جدوجہد کا لائحہ عمل جمہوری طور پر طے کیا جائے جس پر قیادت عمل درآمد کرئے۔
دیگر اداروں میں نجکاری کا سامنا کرنے والے محنت کشوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی جائے اور ان کے ساتھ مل نجکاری مخالف اتحاد تشکیل دیا جائے اور ان اداروں کے محنت کشوں سے اپنے مظاہروں اور جدوجہد میں شریک ہونے کی اپیل کی جائے۔
نوکریوں کے خاتمے کے خلاف جدوجہد کی جائے اورنکالے گئے تمام افراد کو بحال کیا جائے۔
ایڈہاک،کنٹریکٹ اورڈیلی ویجر پر کام کرنے والوں کو مستقل کیاجائے۔
نجکاری کی بجائے ہسپتالوں کا کنٹرول ڈاکٹرز،نرسز،پیرامیڈایکل اور دیگر سٹاف پر مشتمل کمیٹیوں کے حوالے کیا جائے اور ہیلتھ بجٹ میں اضافہ ان کمیٹیوں کی مشاورت سے کیا جائے تاکہ علاج کی بہتراور مفت سہولیات دستیاب ہوں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here