سرمایہ کے بحران میں پیل کے محنت کشوں کی جدوجہد

0
179

تحریر۔شہزادارشد

پیل فیکٹری کی انتظامیہ کا معمول ہے کہ وہ ہرسال سیزن کے موقع پر ورکز کو کام کے لیے بھرتی کرلیتے ہیں اور سیزن کے خاتمے پرایک بڑی تعداد میں محنت کشوں کو برطرف کردیا جاتاہے اس میں پچھلے سالوں میں بھرتی ہونے والے محنت کش بھی ہوتے ہیں۔اس سال بھی انتظامیہ کا یہی ارادہ تھا جب ایک ورکر نے یونین قیادت سے بات کی کہ کیا ان کو نوکری سے نکالا جارہا ہے تو یونین والوں نے اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا جس کے خلاف فیکٹری کے500سے زائد محنت کشوں نے احتجاج کیا اور فیروز پور روڈ کو بلاک کردیا لیکن بعد ازں انتظامیہ کی یقین دہانی اور تشدد کے معاملے کو حل کرنے کے وعدوں پر پیل کے محنت کشوں نے احتجاج ختم کردیا۔لیکن کچھ عرصے بعد جب وہ کام سے فارغ ہوکر عید کی چھٹیوں پر گھر جانے کے لیے بسوں میں بیٹھے ہوئے تھے تو 40محنت کشوں کو اجرت کے ساتھ نوکریوں سے برطرفیوں کا آرڈر مل گیا جس سے یقینی طور پر ان کی عید کی خوشیوں کا خاتمہ ہوگیا اور انہیں روزگار کی فکر لاحق ہوئی۔جب یہ محنت کش چھٹیوں کے بعد فیکٹری میں کام کرنے کے لیے آئے تو ان کے لیے فیکٹری کا دروازہ بند کردیا گیا جس کی وجہ سے دیگر محنت کش بھی غصے میں آگے اور انہوں نے فیکٹری کے گیٹ پر احتجاج کیا۔جس پر انتظامیہ نے علاقے کی پولیس کے تعاون سے قابو پایا اور محنت کشوں کویقین دلایا گیا کہ اس معاملہ کو حل کردیا جائے گا۔لیکن بعدازں ان پردہشت گردی کے مقدمات قائم کردئیے گے اور محنت کش جنہوں نے احتجاج کیا تھاجب وہ کام کرنے کے لیے فیکٹری میں آئے تو احتجاج کی ویڈیو دیکھ کران سے زبردستی استعفی لیے گے دیگر محنت کشوں سے استعفی پولیس کے چھاپوں اور دباؤ کے ذریعے لیا گیا اب تک 250سے زائد پیل کے محنت کشوں کو برطرف کیا جاچکا ہے۔انتظامیہ نے ہر ممکن کوشش کی کہ اس معاملے کو دبادیا جائے۔
اس ساری صورتحال میں پیل کی فیکٹری میں سالوں سے موجودہ ٹریڈ یونین قیادت کا کردار نہایت ہی گھناؤناہے۔اس کی قیادت فیکٹری میں ورکرز کو رکھنے اور برطرف کرنے کا ختیار رکھتی ہے اور انہوں نے پیل کے دونوں یونٹوں میں بدمعاشی قائم کررکھی ہے۔مالکان کی ایماء پر محنت کشوں کو کنٹرول کیا جاتا ہے اور ان کا شدید استحصال کیا جارہا ہے۔اس حوالے سے وہ کسی مخالفت کو برداشت نہیں کرتے اور سیاسی راہنماء اور ٹریڈ یونینسٹ شوکت چوہدری کے مطابق انتظامیہ ٹریڈ یونین سے ملی بھگت کے ساتھ ہر سال سیزن خاتمے پر محنت کشوں کوبرطرف کرتی ہے اور پچھلے سالوں میں انہوں نے یکلخت 500سے زائد محنت کشوں کو بھی برطرف کیا تھالیکن اس کے خلاف کوئی احتجاج نہیں ہوسکا۔
لیکن اس دفعہ 40محنت کشوں کی برطرفی نے وہ کردیا جو اس سے پہلے نہ ہوسکا۔محنت کشوں نے احتجاج کیا اور انہوں نے محسوس کیا کہ احتجاج کے ذریعے انتظامیہ کو جھکنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے تو انہوں پیل ورکرز ایکشن کمیٹی کو تشکیل دیا۔اس لیے جب اُن پر مقدمات قائم کیئے گے اور زبردستی استعفوں کا سلسلہ شروع ہوا تو انہوں متحدہ لیبر فیڈریشن سے رابطہ کیا جو اس وقت محنت کشوں کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے اور اُن کی برطرفی کے خلاف احتجاجات کو منظم کرنے کے علاوہ لیبرکورٹ اور دیگر طریقوں سے محنت کشوں پر مقدمات کے خاتمے اور ان کی بحالی کی جدوجہد میں پیل محنت کشوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
ٹریڈ یونین راہنما شوکت چوہدری کے مطابق پیل کے محنت کش جدوجہد کی نئی روایت کو جنم دئے رہے ہیں ہمیں ان کی جدوجہد میں ہر ممکن مدد کرنی چاہیے،لاہور میں یہ جدوجہد محنت کشوں کے لیے ایک نئی امید بن رہی ہے اور کاہنہ اور گرد ونوح کے علاقے میں جہاں فیکٹریاں حقیقت میں بیگار کیمپ ہیں وہاں پر محنت کشوں میں اس جدوجہد سے حوصلہ پیدا ہورہا ہے اور اس سے علاقہ میں یہ جدوجہد محنت کشوں کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
پیل کے محنت کش جو ایک طرف تمام تر مقدمات اور چھاپوں کے باوجو د ڈٹے ہوئے ہیں وہاں مختلف احتجاجوں کے بعد ان کے حوصلے میں اضافہ ہورہاہے اور انتظامیہ اور ٹریڈ یونین کی قیادت کی تمام تر دھمکیوں کے باوجود وہ ڈٹ گئے ہیں۔اس کا واضح اظہار جمعہ بروز 26جولائی کو لاہور پریس کلب پر پیل کے محنت کشوں کا احتجاج تھا۔اس موقع پر محنت کشوں کا جذبہ دیدنی تھا وہ بحالی تک ہر ممکن جدوجہد کے لیے تیار تھے۔اس احتجاج کی اہم بات جہاں اس میں پیل کے برطرف محنت کش موجود تھے وہاں متحدہ لیبر فیڈریشن کے علاوہ ریلوے ورکرز یونین،مزدور محاذاور راوی آٹوز کے محنت کش بھی موجود تھے اور انہوں نے نہ صرف پیل کے محنت کشوں سے اظہار یکجہتی کی بلکہ ان کو مکمل تعاون کا یقین دلایا کہ وہ اُن کی ہر جدوجہد میں اُن کے ساتھ کھڑے ہوں گئیں۔احتجاج کے آخر میں مقررین نے تقریریں کرتے ہوئے کہا ہم کہ پیل کے محنت کشوں کی بحالی کی جدوجہد میں اُن کے ساتھ ہیں اور اگر ان کو بحال نہ کیا گیا توہم احتجاجات کو جاری رکھیں گئیں جس میں پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاج کے علاوہ ملک گیر سطح پر احتجاج کیا جائے گا۔
پیل کے محنت کش کی جدوجہدنے ایک ایسے عہد میں جنم لیا ہے جہاں سرمایہ ہر طرف محنت کشوں پر حملہ آور ہے اور وہ چاہتا ہے کہ محنت کش اس بحران کی قیمت ادا کریں جس کو پیدا کرنے میں اُن کا کوئی کردار نہیں ہے۔اس لیے بحران،فروخت اور منافع میں کمی کے نام پر محنت کشوں کو نوکریوں سے برطرف کیا جارہاہے اور دوسری طرف تالا بندی کے ذریعے اُن سے روزگار چھینا جارہا ہے۔ان حالات میں پیل کے محنت کشوں کی جدوجہد بہت اہم ہے اور سرمایہ کے حملہ کے خلاف ایسی منظم جدوجہد سے مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔انقلابی سوشلسٹ موومنٹ لیفٹ کی تنظیموں،ٹریڈیونینوں،سماجی اور طلباء کی تنظیموں کو پیل کی جدوجہد میں اُن کے ساتھ کھڑا ہونا کی اپیل کرتی ہے۔ہم اس جدوجہد کو جتنا پھیلائیں گئیں اتنا ہی اس کی کامیابی کے امکانات ہیں اور اس سے دیگر صنعتوں میں بھی محنت کش حوصلہ پاسکتے ہیں کہ انتظامیہ، پاکٹ یونین اور ریاستی اداروں کے خلاف جدوجہد ممکن ہے اور انہیں جھکنے پر مجبورکیا جاسکتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here