آئی ایم ایف سے ڈیل اور مہنگائی،بیروزگاری اور نجکاری کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

0
232

(رپورٹ(انقلابی سوشلسٹ
عوامی مزاحمت،لیفٹ کی پارٹیوں،گروپس اور ٹریڈ یونیوں کا آئی ایم ایف کی ڈیل اور حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف اتحاد ہے۔آج 28مئی بروز منگل عوامی مزاحمت کے زیراہتمام 2بجے سے کر5بجے تک آئی ایم ایف سے ڈیل اور مہنگائی،بیروزگاری اور نجکاری کے خلاف لاہور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں سینکروں کی تعداد میں مظاہرین نے شرکت کی۔مظاہرین میں بڑی تعداد میں محنت کش،طلباء،خواتین اور ترقی پسند سیاسی ورکرز شریک ہوئے۔مظاہرین نے آئی ایم ایف سے ڈیل نامنظور،سامراجی قرضے ضبط کرو،نجکاری نامنظور،بجلی وگیس کی قیمتوں میں اضافہ نہ منظور،مہنگائی حکومت نامنظور،تعلیم اور صحت کے بجٹ میں اضافہ کرو،ہسپتالوں کی نجکاری نامنظور،ظلم بھی رہے اور امن بھی ہو، شمالی وزیرستان میں ریاستی دہشت گردی نامنظور،علی وزیر و دیگر سیاسی قیدیوں کو رہا کرو،بجلی گیس پیٹرول مہنگا۔۔غریب کہاں جائے؟بالواسطہ ٹیکس کو ختم کیا جائے،کم از کم اجرت 50000کرو،دفاعی اخرجات کم کرو،مفت تعلیم،علاجاور رہائش حق ہمارا۔احتجاج میں شریک لوگ حکومت کی آئی ایم ایف سے ڈیل کے حوالے سے نعرہ بازی کرتے رہے۔
پکھے رہ گئے میں تے توں۔۔۔۔۔۔۔۔لٹ کے لے گیا آئی ایم
آٹا مہنگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہائے ہائے
چینی مہنگی۔۔۔۔۔۔۔۔ہائے ہائے
تیل مہنگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہائے ہائے
دال وی مہنگی۔۔۔۔۔۔۔۔ہائے ہائے
دوائی مہنگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہائے ہائے
گیس مہنگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہائے ہائے
بجلی مہنگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہائے ہائے
احتجاجی مظاہرے کے دوران عمران خان کی تصویر کے سامنے بجلی کے بل بھی جلائے گے۔عمران خان کی تصویر پر لکھا تھا کہ آو بل جلائیں۔اس موقع پر عوامی مزاحمت نے اپنا لیفلیٹ بھی لوگوں میں تقسیم کیا،جس میں واضح کیا گیا تھا کہ اس ڈیل سے پاکستان نے نوآبادی کا روپ دھار لیا ہے اورآئی ایم ایف اور حکومت یہ چاہتی ہے کہ اس بحران کی قیمت محنت کش،شہری ودیہی غریب اور لوئر مڈل و مڈل کلاس ادا کرئے۔جبکہ اس ساری صورتحال فائدہ بڑے سرمایہ داروں،سٹاک بروکروں،نجی کمپنیوں،ایکسپوٹرز اور امیپوٹرز کو پہنچایا جارہا ہے۔جس سے عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوگی ہے اور اس مہنگائی میں اس کے لیے اپنے بچوں کا پیٹ پالنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔اس لیے آئی ایم ایف سے ڈیل مسترد کی جائے اور اشرافیہ پر ٹیکس لگا کر عام عوام کو ریلیف دی جائے۔
اس موقع پر ریلوئے محنت کش یونین کے صدیق بیگ،پی ٹی یوٹی ایف کی نصرت بشیر،مزدور کسان پارٹی کے شبیر حسین،عوامی ورکرز پارٹی کی عابدہ حسین،انقلابی سوشلسٹ موومنٹ کے شہزاد ارشد،مزدور راہنما مزمل ورک،روادری تحریک کے سیمسن سلامت اورسٹیٹ لائف سے قانتہ شاہدہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف سے حکومت کی ڈیل کو مسترد کرتے ہیں، اس ڈیل کا مقصدبڑے سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچنا ہے۔جب ڈالر مہنگا ہوتا ہے تو کرنسی ایکسچینج کے مالکان اور بڑے سرمایہ دار فائدہ اُٹھاتے ہیں،ملکی معیشت کے نام پر بڑے سرمایہ داروں کو ٹیکسوں میں چھوٹ دی جاتی ہے جب سٹاک مارکیٹ میں کمی ہوتی ہے تو مشیر خزانہ فوراََ بھاگ کر ان کے پاس جاتا ہے اور سٹاک مارکیٹ میں اربوں روپے ڈالے جاتے ہیں تاکہ سٹاک بروکرز کو ڈوبنے ست بچایا جاسکے۔جب عمر ایوب کہتا ہے کہ ہم اگلے سال تک سرکولر ڈیٹ ختم کردیں گئیں تو اِس کا مقصد نجی بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانا ہے۔لیکن یہ ان کمپنیوں سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں کہ ہم مہنگے داموں بجلی کیوں خریدیں اور کیوں نہ نئی قیمت طے کی جائے اگر وہ ایسا نہ کریں تو ان کمپنیوں کو قومی ملکیت میں لے لیا جائے۔ہمیں مہنگی بجلی،گیس اور پیٹرول منظور نہیں ہے۔ہم قومی اداروں کی نجکاری نہیں ہونے دیں گئیں خاص کر ہسپتالوں کی،یہ حکومت صحت کے شعبے کو مکمل طور پرمارکیٹ کے حوالے کرنا چاہتے ہیں تاکہ سرمایہ داراس سے اربوں روپے کما سکیں۔ بالواسطہ ٹیکس کوختم کیا جائے اور امراء اور کارپوریٹ سیکٹر پر ٹیکس لگا کر عوام کو مفت اور معیاری نظام تعلیم اور صحت کی سہولیات دی جائیں۔ ایک طرف ہم عوام پر 750ارب کے ٹیکس لگا رہے ہیں اور دوسری طرف فوجی بجٹ میں 600ارب کا آضافہ کیا گیا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ ان حالات میں فوجی بجٹ میں کٹوتی کی جائے۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ عوام دشمن ڈیل ہے اور اس کی وجہ سے مہنگائی بڑھے گئی اور مزید
لوگ غربت کی سطح کے نیچے جارہے ہیں۔ہم اس ڈیل اور عوام دش حکومت کو نہیں مانتے اور حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف تحریک چلائیں گئیں۔اس کے علاوہ مقررین نے شمالی وزیرستان میں پی ٹی ایم کے پر امن کارکنان پر فائرنگ کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اس معاملہ کی انکوائری علاقے کے نمائندوں اور عام لوگوں پر مشتمل کمیٹی کرئے۔اس کے علاوہ علی وزیر اور دیگر سیاسی کارکنان کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔آخر میں شازیہ خان نے کہا کہ یہ آئی ایم ایف سے ڈیل کے حوالے سے ہمارا پہلا احتجاج تھا۔یہ سلسلہ یہاں رکے گا نہیں ہم اس سلسلے کو جاری رکھیں گئیں اور مہنگائی،بے روزگاری اور نجکاری کے خلاف بڑی تحریک تعمیر کریں گئیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here