پنجاب میں ٹیچنگ ہسپتالوں کی نجکاری صحت کی سہولیات پر ایک بڑا حملہ

0
57

تحریر:راشد علی
تحریک انصاف کی حکومت نے پنجاب میں گورنرآرڈینس کے ذریعے ٹیچنگ ہسپتالوں کونجی شعبے کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کردئیے ہیں۔میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوٹ آرڈینس کو پنجاب بھر میں نافذ کردیا گیا ہے اب ان ہسپتالوں کو نجی شعبے پر مشتمل بوڈر آف گورنر چلائے گا۔یہ حقیقت میں ان اداروں کی نجکاری ہے اور اب یہ ادارے عوامی مفاد کی بجائے تجارتی بنیادوں پر چلائے جائیں گئے۔اس سے نہ صرف محنت کشوں اور غریبوں کو حاصل مفت علاج کی سہولت ختم ہوگی ہے وہاں ان اداروں میں کام کرنے والوں کی مستقل نوکریاں ختم ہوجائیں گئیں اور ابھی900سے زائد کنٹریکٹ نوکریوں کو ختم کردیا گیا ہے جن ملازمین کی نوکریاں ختم کی گئیں ہیں ان میں ٹیکنالوجسٹس، فزیوٹھراپسٹ، اسپیچ تھراپسٹ، فارماسسٹس،آپریشن تھیٹر ٹیکنالوجسٹس شامل ہیں جبکہ ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنالوجسٹس اور دیگر الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کی نوکریوں کو بھی ختم کیا گیا ہے۔
تحریک انصاف کی اس حکومت کا مقصد ہی نجکاری،محنت کشوں کی نوکریوں کا خاتمہ اور ٹیکسوں کی بھرمار ہے تاکہ معیشت کو بڑے سرمایہ کے مفاد میں استوار کیا جائے۔اس لیے جب سے یہ حکومت آئی ہے ہر روز نجکاری،نوکریوں کے خاتمے کے زریعے لاکھوں لوگوں کو بے روزگار کرنے کے منصوبے بنائے جاتے ہیں اور یہ سب کچھ قومی معیشت کے نام پر ہورہا ہے۔اس لیے عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار کی جارہی ہے جن سے اُن کا جینادوبھرہوگیا ہے۔لیکن بڑے سرمایہ داروں کو نوازنے کے لیے ہر طرح کے اقدامات کیئے جارہے ہیں۔اس سلسلے میں بڑے سرمایہ داروں کو صدارتی آرڈینس کے ذریعے تین سوارب سے زائد کے واجبات معاف کردئیے گے تھے۔لیکن سوشل میڈیاپر کمپین نے ہی حکومت کو جھکنے پر مجبور کردیا ہے اور اس نے صدارتی آرڈینس واپس لے لیا۔اگر نجکاری کے خلاف جدوجہد منظم کی گئی ت حکومت کو اس فیصلہ کو بھی بدلنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔
اس سال کی ابتداء میں ہیومن رائٹس واچ نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس کے مطابق پنجاب بھر کی فیکٹریوں میں محنت کشوں نہایت ہی برے حالات میں کام کررہے ہیں اس لیے لیبر انسپکشن کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے اس کے باوجودتحریک انصاف کی پنجاب حکومت نے فیکٹریوں کی لیبر اور سوشل سیکورٹی انسپکشن کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کو کاروبار کو فروغ دینے کا احسن قدم بتایا جارہا ہے لیکن ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا مسلم لیگ نواز کے دور حکومت میں بھی پابندی لگائی گئی تھی لیکن بعدازں حادثات کے بڑھنے کے بعد اس سے پابندی ختم کردی گی تھی حقیقت میں اس پابندی کا مطلب فیکٹری مالکان کو فائد ہ پہنچانا ہے لیکن اس کا نتیجہ ہمیشہ محنت کشوں کی اموات کی صورت میں نکلتا ہے۔
نجکاری اور نوکریوں کے خاتمے کی صورت حال صرف صحت کے محکمے تک محدود نہیں ہے بلکہ بڑھتے ہوئے معاشی بحران میں حکومت ہرادارے کو بیچ دینا چاہتی ہے۔ابھی چند دن پہلے ہی پی آئی ائے سے ایک ہزار نوکریوں کو ختم کردیا گیا ہے۔اس طرح نجی میڈیا میں بڑے پیمانے پر نوکریوں کو ختم کیا جارہا ہے۔یہ صورتحال ظاہر کررہی ہے سرمایہ دار طبقہ اپنے بحران کا بوجھ محنت کشوں پر ڈالنا چاہتا ہے اور اگلے عرصہ میں اس عمل میں اضافہ ہوگا۔اس کے لیے ضروری ہے کہ وائی ڈی اے،پیرامیڈیکل سٹاف اور نرسس کی تنظیمیں جہاں نجکاری کی مخالفت کریں وہاں ان کو دیگر اداروں کی ٹریڈ یونیوں اور محنت کشوں کے ساتھ ملکر اس حملے کی مزاحمت کرنی چاہیے۔اس صورتحال میں لیفٹ کی تنظیموں کو ایک مشترکہ لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے۔اسی صورت میں حکمران طبقہ کے اس حملے کا مقابلہ کیا جاسکتاہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here