عوامی مزاحمت کے زیراہتمام عوام دشمن بجٹ کے خلاف 12جون کو شام 5بجے پنجاب اسمبلی کے سامنےاحتجاجی مظاہرہ

0
54

پاکستان کے حکمران طبقات اس دفعہ جو بجٹ پیش کررہے ہیں۔یہ مکمل طور پر عوام دشمن بجٹ ہے بظاہر یہ کہا جارہا ہے کہ ہمیں سادگی اپنانی ہوگی اور اس کے لیے فوج نے بھی بجٹ میں کٹوتی کا اعلان کیا ہے جبکہ وزیر اعظم عمران خان تو بھنسیں بیچ کرسادگی کی نئی مثالیں قائم کررہے ہیں۔لیکن حقیقت میں یہ ایک دھوکا ہےتاکہ عوام کو سادگی کا جھانسہ دئے کر ان پر مہنگائی،بے روزگاری اور نجکاری کا حملہ کیا جارہا ہے اور موجود بجٹ کا بنیادی مقصد محنت کشوں پر حملہ تاکہ سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچایا جاسکے۔اس کی ایک واضح مثال عمر ایوب کا یہ کہناہے کہ ہم اگلے سال تک سرکولر ڈیٹ ختم کردیں گئیں تو اِس کا مقصد نجی بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کواربوں روپے کا فائدہ پہنچانا ہے۔لیکن یہ ان کمپنیوں سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں کہ ہم مہنگے داموں بجلی کیوں خریدیں اور کیوں نہ نئی قیمت طے کی جائے اگر وہ ایسا نہ کریں تو ان کمپنیوں کو ریاستی تحویل میں لے لیا جاے لیکن بتایا یہ جاتا ہے کہ اس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد مجروع ہوگا یعنی سرمایہ داروں کا اعتماد محنت کشوں اور غریب عوام کی لوٹ مار سے ہی قائم ہوتا ہے
۔یہ قومی اداروں کی نجکاری کررہے ہیں خاص کر ہسپتالوں کی اور اس کے علاوہ صحت کارڈ،اس کا مقصد حکومت صحت کے شعبے کو مکمل طور پرمارکیٹ کے حوالے کرنا چاہتے ہیں تاکہ سرمایہ داراور بڑے ڈاکٹرزاس سے اربوں روپے کما سکیں۔
جبکہ ایچ ای سی کے بجٹ میں 50سے60فیصد کٹوتی کررہے ہیں اس کا مطلب فیسوں میں اضافہ،سکلرشپس کا خاتمہ اور یقینی طور پر بہت ساری نوکریوں کا خاتمہ ہوگا۔اس کے علاوہ یہ عوام پر 750ارب کے ٹیکس لگا رہے ہیں۔یہ صورتحال ظاہر کررہی ہے کہ حکمران طبقہ نظام کے بحران کا بوجھ عام لوگوں پر ڈالنا چاہتے ہیں جو پہلے ہی سرمایہ دارانہ نظام کے بحران کی وجہ سے اذیت میں مبتلا ہیں۔
تحریک انصاف کی حکومت کے تبدیلی کے تمام نعرے اور وعدے بے نقاب ہو چکے ہیں۔موجودہ حکومت اپنے سامراجی آقاؤں کے حکم پر عمل کر تے ہوئے اس بجٹ کے ذریعے عوام سے جینے کا حق بھی چھین رہی ہے۔ ایسے حالات میں جب ہم سے جینے کا بنیادی حق تک چھینا جارہا ہے، ہمارے بچوں کا مستقبل برباد کیا جارہا ہے تو ہمارے پاس ایک ہی راستہ بچتا ہے کہ ہم محنت کش عوام، مزدور، کسان، طالب علم، نوجوان اور عورتیں منظم ہوں اور عالمی مالیاتی اداروں اور اس کی گماشتہ حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں تاکہ عوامی مزاحمت کے ذریعے حکمرانوں کے عوام دشمن ایجنڈے کو شکست دی جاسکے۔
مطالبات:
عالمی مالیاتی اداروں کے قرضے ادا کرنے سے انکار کیا جائے اور آئی ایم یف کے پروگرام کو مسترد کردیا جائے۔
کم از کم تنخواہ 50000کی جائے تاکہ محنت کش اپنے خاندان کے ساتھ زندہ رہ سکیں اور تنخواہ کو افراط زر سے منسلک کیا جائے۔
ہسپتالوں سمیت تمام سرکاری اداروں کی نج کاری فوری طور پر منسوخ کی جائے۔ اور ماضی میں بیچے گئے تمام اداروں کو واپس لیتے ہوئے محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دیئے جائیں۔
نوکریوں کے خاتمے کی بجائے اوقات کار کم کیے جائیں اور نئی نوکریاں دی جائیں۔
سرمایہ داروں،امراء،بڑے زمینداروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں پر ویلتھ ٹیکس لگا کر تعلیم اور صحت کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے نیز صحت کے نئے مراکز اور تعلیمی ادارے تعمیر کیے جائیں۔
جی۔ایس۔ٹی سمیت تمام بالواسطہ ٹیکسوں کا مکمل خاتمہ اور بلا واسطہ ٹیکسوں کے فوری نفاذ کے ساتھ سرمایہ داروں کو حاصل ٹیکسوں میں ہر طرح کی چھوٹ کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔
زراعت میں بڑے پیمانے پر سبسڈی دی جائے اور بڑے زمینداروں اور ریاستی اداروں سے زمین لے کر مزارعوں اور دیہی مزدور وں کی دی جائے۔
بڑے پیمانے پر ترقیاتی بجٹ میں اضافہ کیا جائے تاکہ سماجی سہولیات میں اضافہ کیا جاسکے اور محنت کشوں اور شہری و دیہی غریبوں کے مفت گھر تعمیرکیئے جاسکیں۔
بجلی پیدا کرنے والی تمام کمپنیوں کو قومی تحویل میں لے کر محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دیا جائے۔
فوجی بجٹ میں کٹوتی کی جائے۔
جنگ اور جنگی جنون کو فروغ دینے کی بجائے خطے میں عوام کے درمیان رابطوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
ریاستی کنٹرول میں صنعت لگائی جائے اور اس کو محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دئے کر علاقائی تجارت کو فروغ دیا جائے اور اس پر ہر قسم کی پابندیوں کو ختم کیا جائے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here