پنجاب یونیورسٹی میں جمعیت کی غنڈہ گردی کے خلاف طلباء کی امن ریلی

0
84

(رپورٹ( انقلابی سوشلسٹ
بلوچ کونسل کے چیئرمین عامر بلوچ اور ان کے ساتھیوں پراسلامی جمعیت طلبہ کے تشدد کے خلاف پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس فیڈریشن کی طرف سے امن ریلی نکالی گئی جس میں بڑی تعداد میں طلباء شریک ہوئے۔اس ریلی کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس میں صرف بلوچ طلباء ہی نہیں بلکہ بڑی تعداد میں پشتون، پنجابی، سرائیکی، گلگت بلتستان کے طلباء بھی شریک ہوئے۔ یہ طلباء کا جمعیت کی غنڈہ گردی اور خوف کے ماحول کے خلاف ایک شاندار اجتماع تھا۔اس موقع پر جمعیت کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی اور انتظامیہ سے جمعیت کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔لیکن انتظامیہ جمعیت کی غنڈہ گردی کے باوجود اس کا تحفظ کرتی ہے اس نے اس پرامن ریلی کے شرکاء کے ساتھ بدتمیزی کی اوران کا راستہ روکا تاکہ امن ریلی کو منتشر کیا جاسکے۔اس موقع پر پولیس بڑی تعداد میں موجود تھی جیسے یہ طلباء کوئی حملہ کرنا چاہ رہے ہوں۔
یہ جمعیت کی طرف سے پنجاب یونیورسٹی میں غنڈہ گردی کا کوئی پہلا موقع نہیں ہے بلکہ پچھلے کچھ سالوں میں جمعیت کی طرف سے بلوچ،پشتون اور پنجابی طلباء پر حملوں میں اضافہ ہواہے اس کی وجہ بنیادی طور پر طلباء کونسلوں کا جمعیت کے مقابلہ میں پنجاب یونیورسٹی میں متبادل کے طور پر سامنے آنا ہے اور ان کونسلوں کی موجودگی ایک طرح سے اُن کی نظریاتی بالادستی کو بھی شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔امن ریلی بھی اس کا اظہار تھا جس میں ایک ہزار سے زائد طلباء نے بلوچ طلباء پر حملے نیز انتظامیہ اور جمعیت کی طرف سے پنجاب یونیورسٹی کو قیدخانہ بنانے کے خلاف پرزور احتجاج کیا۔یہ صورتحال جمعیت اور انتظامیہ کو شدید خوف میں مبتلا کررہی ہے۔خاص کر اس لیے بھی کے مختلف اقوام کی کونسلوں نے پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس فیڈریشن نام سے ایک اتحاد قائم کیا ہے۔ یہ اتحاد پنجاب یونیورسٹی میں جمعیت کے پچھلے تین دہائیوں سے قائم قبضے کے لیے ایک خطرہ ہے۔
پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس فیڈریشن کو انتظامیہ کے مفادات کو سمجھنا ہوگا کہ کیسے انہوں جمعیت کے ذریعے پنجاب یونیورسٹی کو ایک قیدخانہ بنا رکھا ہے جس کی مخصوص نظریاتی حدود متعین کردی گئیں ہیں،علمی وفکری گفتگو اور کلچرل اظہار پر پابندیاں ہیں اور اسی طرح طلباء کے پاس تفریح کے کوئی مواقع نہیں ہیں۔یہ صورتحال طالبات کے لیے مزید گھٹن ذدہ ہے، لڑکے اور لڑکی کا اکھٹے بیٹھنا جمعیت کی بالادستی کے لیے خطرہ بن جاتااورجو ان حدود سے باہر جاتاہے وہ غدار اور معتوب ٹھہرتاہے۔ اس طرح انتظامیہ کو طلباء کنٹرول کرنے میں آسانی رہتی ہے اور طلباء اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں کمی،بڑھتی ہوئی مہنگائی اور جبر کے خلاف منظم نہیں ہوپاتے اور طلباء یونین پر عائد پابندی بھی برقرار رہتی ہے۔اس لیے پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس فیڈریشن کو ایک واضح پروگرام کے تحت سامنے آنا چاہیے جس میں جمعیت کی غنڈہ گردی کے خلاف جدوجہد کو طلباء یونین کی بحالی نیز اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں کٹویتوں،فیسوں میں اضافہ،ٹرانسپورٹ اور ہاسٹلوں کے معیار کے حوالے سے جدوجہد منظم کی جائے۔اس لیے طلباء کو انتظامیہ یا حکومت سے امید رکھنے کی بجائے خود کو ڈیپارٹمنٹ اور ہاسٹل کی سطح پر جمہوری کمیٹیوں میں منظم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہاں طلباء کی بڑی تعداد جمہوری طور پر اپنے مسائل پر گفتگو اور اس کاحل مرتب کرسکیں تاکہ انتظامیہ کے خلاف جدوجہد اورجمعیت کے تشدد کا مقابلہ کرسکیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here