تنخواہ دار طبقہ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی

0
305

تحریر:طریف رند
میرے ایک انتہائی محترم دوست جو کہ دو چار سال پہلے ایس ایس ٹی ٹیچر لگے ہیں اور گاؤں کے نیم کھنڈر سکول میں ڈیوٹی کرتے ہیں، بڑے پریشان حالت میں مجھ سے ملے اور مقامی پرچون والے سے (جن سے وہ سال بھر راشن ادھار کرتے ہیں) اپنی منہ ماری کی داستان بیان کررہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ وہ دو سال کے زائد عرصے سے اس دکاندار سے مہینہ بھر سودا سلف لیتے ہیں اور مہینے کے آغاز پر جب تنخواہ ملتی ہے تو ان کا ادھار چُکا دیتے ہیں اور پھر اسی طرح اگلے مہینے گھر کے ضرورت کی چیزیں ادھار پہ لے آتے ہیں۔
تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے بتایاکہ؛ انکی تنخواہ 29000 روپے ہے۔ بہت محتاط طریقے سے گھر کا راشن لینے کے باوجود ہر مہینے بیس سے بائیس ہزار روپے تک پرچون والے کے بن جاتے ہیں جس میں سے ہر مہینہ 20,000 روپے دکاندار کو دے آتا ہوں اور باقی کے 9000 روپے گھر کے روزانہ کے اخراجات و بچوں کی جیب خرچی کیلئے رکھ لیتا ہوں۔ مشکل سے ہی سہی مگر گزربسر ہوجاتا تھا۔
مگر، اس بار جب تنخواہ لیکر میں دکاندار کے پاس پہنچا (جس میں سے عمران خان صاحب نے دوہزار روپے پتا نہیں کس مد میں کاٹے تھے) تو سیٹھ صاحب نے مجھے اس مہینہ کا بِل 34,000 چونتیس ہزار روپے تھمایا اور گزشتہ بقایاجات کا 55,000 پچپن ہزار روپے کا بِل بھی الگ سے پکڑا دیا۔ میں تو جو جو چیزیں گزشتہ مہینوں میں لاتا رہا ہوں اسی مقدار میں اس مہینے بھی لایا تھا، میرے پاس کاپی میں لکھے ہوئے بھی ہیں مگر اس نے بِل بڑھا چڑھا کر بنایا ہے اور کہتا ہے کہ اشیاء کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں۔ اس کے ساتھ بقایاجات پر بھی ہماری بحث اور بڑی منہ ماری ہوئی ہے۔ ایسے تھوڑی نا ہوتا ہے۔۔۔ ہم گزارا کیسے کرینگے؟”
(وہ لڑجھگڑ کر پھر سے 20,000 ہی دے آیا تھا اور باقی سب بقایاجات کے حساب میں شامل ہو گیا تھا)۔
وہ بہت پریشان حالی میں اپنی مجبوری بیان کرتا رہا۔ روز روز دکاندار سے لڑجھگڑ کر رمضان کے مہینے میں بھی راشن لاتا رہا ہے اور مہینہ کی 20 تاریخ پر اسکا تنخواہ ختم ہو گیا ہے یعنی مہینہ پورا ہونے کو ابھی دس دن باقی ہیں اور ان کا بجٹ آؤٹ ہو چکا ہے۔ 29,000 روپے کا بِل سیٹھ سے وصول کر کہ آیا ہے۔ کُل ملا کر ان کا بِل 98,000 تھا جو وہ لیکر آیا تھا اور تنخواہ ملنے کو دس دن ابھی بھی باقی ہیں جوکہ آئے بھی تو 29,000 ہی آئیگی۔
ایک تو اشیاء خورد و نوش مہنگا ہونے سے ان کی مشکلات بڑھتی جا رہی تھی اور دوسرا وہ ہر مہینے جو دو دو تین تین ہزار روپے کے بقایاجات چھوڑتا تھا دو سال کے عرصے کے اس قرض نے اسے ڈوبا دیا ہے۔
یہ ایک عام تنخواہ دار سرکاری ملازم کی حالتِ زار ہے جس پر کوئی بھی توجہ نہیں دیتا۔ حکومت کس کی ہوگی، نمائندہ کیسا ہوگا، معیشت کی کیا صورتحال ہے، ڈالر کا اُتار چڑھاؤ کیسا ہے، کرنسی کس حال میں ہے، مہنگائی کتنی بڑھ رہی ہے۔۔۔ ایسے تمام بحثوں کو اکثر ثانوی درجے پر رکھ کر یا غیر ضروری گردان کر ہمیشہ رد کر دیا جاتا ہے اور سطحی شوشان پر رائے زنی ہوتی رہتی ہے۔ مگر اسکی مار سر پہ ایسے ہی پڑتی رہتی ہے۔
متذکرہ بالا شخص کی حالت زار پر غور کیا جائے تو اس میں بڑے اسباق موجود ہیں جوکہ کسی بھی سنجیدہ فرد کو سمجھنے و سیکھنے کیلئے کافی ہیں۔ بظاہر تو ان محترم استاد کی تنخواہ اپنی جگہ قائم ہے مگر اسے بڑھتی ہوئی ہو شربا مہنگائی سے موازنہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ اس کی تنخواہ کم از کم چالیس فیصد تک کم ہو چکی ہے۔ جہاں وہ بائیس ہزار روپے پر گزارا کیا کرتا تھا اب تیس سے پینتیس ہزار روپے تک اسکے گھر کا چولابمشکل چلتا ہے۔ باقی بچوں کی تعلیم دیگر گھریلو ضروریات و ایمرجنسی کی صورت میں تو بھیک مانگنے کی نوبت آن پڑیگی۔ اپنی سروس پورا کرتے کرتے ریٹائرمنٹ تک پہنچتے وہ قرض میں اتنا ڈوبا ہوگا کہ ریٹائرمنٹ فنڈز کو قرضوں کی ادائیگی میں دینے کے باوجود وہ اور اس کے بچے قرضوں سے کبھی آزاد نہ ہو پائیں گے۔
یہی بنیادی وجوہات ہیں کہ اساتذہ کی اکثریت سکولوں میں ڈیوٹی سرانجام دینے کے بجائے متبادل روزگار کے پیچھے لگ جاتے ہیں اور سکول ویران پڑے رہتے ہیں۔ حکمران تمام تر آگہی رکھنے کے باوجود ان مسائل پر سنجیدہ پالیسی بنانے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ ہرسال کا بجٹ ٹھیکوں اور غیر پیداواری سرگرمیوں کی نظر ہوجاتا ہے مگر مہنگائی کی مناسبت سے نہ تنخواہوں میں اضافہ ہوتا ہے اور نہ ہی نئے روزگار پیدا کرنے کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات نظر آتے ہیں۔
ایسی کسمپرسی کی حالت میں عوام کے پاس دو ہی راستے بچتے ہیں کہ یا تو وہ خودکشی کرلیں (یا فاقہ کشی ان کو خود مار دے) یا پھر بغاوت کا راستہ اپنا لیں اور اقتدار و اختیار کو اپنے کنٹرول میں لیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here