پی ٹی ایم کے پرامن مظاہرین پر ریاست کا حملہ

0
445

پچھلے چند ہفتوں میں پی ٹی ایم کے خلاف جھوٹ اور نفرت انگیزی پر مبنی کمپین کے بعد آج صبح سیکورٹی فورسز کی طرف سے پرامن مظاہرین پر حملہ کیا جس میں چھ مظاہرین شہید ہوئے اور مختلف رپورٹس کے مطابق25سے 45تک زخمی ہیں۔علی وزیر سمیت8دیگر افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔انقلابی سوشلسٹ موومنٹ اس ریاستی دہشت گردی کی شدید مخالفت کرتی ہے اور ہم پی ٹی ایم کی پرامن تحریک اور جمہوری مطالبات کی حمایت کرتے ہیں۔
شمالی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز کی طرف سے مقامی خاتون سے بدسلوکی کے بعد دھرنا جاری تھا۔اتوار کو صبح علی وزیر اور محسن داوڑ کی قیادت میں ایک قافلہ دھرنے میں شرکت کے لیے جارہا تھا اور سوشل میڈیا پر آنے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کیسے سیکورٹی اہلکار انہیں دھرنے میں شرکت سے روک رہے تھے اور مظاہرین غیر مسلح تھے۔کوئی بھی سوشلسٹ بلکہ ایک سچ جمہوریت پسند ایک لمحہ کے لیے بھی ریاست کے جھوٹے پروپگنڈے پر یقین نہیں کرسکتا کہ انہون نے فوجی چیک پوسٹ پر حملہ کیا ہے۔یہ ویڈیو واضح کررہی ہے کہ مظاہرین مکمل طور پر نہتے تھے اور آئی ایس پی آر کا بیان درست نہیں ہے لیکن یہ صورتحال کو گھمبیر ضرور بنا رہا ہے۔

انیس اپریل کو وزیراعظم عمران خان نے پی ٹی ایم پر جھوٹا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنے مطالبات غلط انداز میں پیش کررہے ہیں،اس کے دوہفتے بعد جنرل آصف غفور نے کہا تھا کہ”پی ٹی ایم غلط ہاتھوں میں کھیل رہی ہے“اور اس کے حمایتیوں کو دھمکاتے ہوئے کہ ”اب اس کا وقت ختم ہوچکا ہے“۔اس صورتحال میں پاکستان کے آزاد میڈیا کا کردار بھی کھل کر سامنے آگیا جومکمل طور پر ریاست کا مواقف ہی پیش کررہا ہے اور پی ٹی ایم کو ایک دہشت گرد اور مجرم تنظیم کے طور پر پیش کررہا ہے۔اس نے ہمیشہ پی ٹی ایم کے خلاف منفی پروپگنڈا اور نفرت پھیلائی ہے تاکہ اس تحریک پر حملہ کیا جاسکے جو اس وقت جاری بھی ہے۔منظور پشتین درست کہتا ہے کہ پچھلے عرصہ میں جس طرح پی ٹی ایم کے خلاف سوشل میڈیا کمپین کی گئی اس کا مقصد آج ہونے والے حملے کا جواز پیش کرنا تھا۔
ہم پی ٹی ایم اور اس کے مطالبات جیسے قبائیلی علاقوں سے مائنز کا خاتمہ،چیک پوسٹ کے ظالمانہ نظام کا خاتمہ،ماروائے عدالت قتل عام کا خاتمہ،گمشدہ افراد کی رہائی اور غیر قانونی گرفتاریوں کے خاتمے کی غیر مشروط حمایت کرتے ہیں۔عوامی ورکرز پارٹی اور دیگر لیفٹ گروپس اور سماجی تنظیموں کی طرف اس اقدام کی مخالفت کی حمایت کرتے ہیں اور عوامی ورکرز پارٹی کے مطالبات جیسے فوجی کی قبائیلی علاقوں سے واپسی،موجود کرفیو کا فوری طور پر خاتمہ اور پی ٹی ایم کے ورکرز کو بہترین صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں اور علی وزیر اور دیگر تمام پی ٹی ایم کے کارکنان کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
اس کے علاوہ مقامی لوگوں پر مشتمل ایک کمیشن بنایا جائے جو ریاست سے مکمل طور پر آزاد ہو،وہ اس صورتحال کی تحقیق کرئے اور اس کی رپورٹ بغیر کسی روک ٹوک کے میڈیا پر شائع کیا جائے۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ موجود حالات کی سنگینی میں پی ٹی ایم کی قیادت عوامی ورکرز پارٹی،لیفٹ کے دیگر گروپس،ٹریڈ یونینزطلباء تنظیموں اور سماجی تحریکوں کے ساتھ ملاقات کرئے تاکہ جمہوری حقوق پر حملوں،ریاست کی استبدادیت اور اس کے ساتھ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل کے بعد محنت کشوں اور شہری ودیہی غریب پر جو حملے کرنے جارہی ہے اس کے خلاف مشترکہ جدوجہد کی جاسکے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here