خیبر پختونخواہ میں سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری کے خلاف ہڑتال

0
53

(رپورٹ (انقلابی سوشلسٹ

گرینڈہیلتھ الائنس خیبر پختونخواہ کی سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری کے خلاف ہڑتال کو آج دوہفتے سے زائد ہوگے ہیں۔اس وقت ینگ ڈاکٹرز،نرسز،پیرامیڈیکل سٹاف سمیت صحت کے شعبے کے تمام ورکرز تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی نجکاری کے حملے کے خلاف ڈٹ گئے ہیں۔ہڑتال کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر احتجاجی جلسے اور ریلیاں ہورہی ہیں۔حکومت کی تمام تر گرفتاریوں،دھمکیوں اور تشددکے باوجود گرینڈ ہیلتھ الائنس نے ہڑتال کو نجکاری کا فیصلہ واپس لینے تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
گرینڈہیلتھ الائنس کی ہڑتال کا آغاز 27ستمبر سے ہوا جب لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاورمیں ایک پرامن میٹنگ پرتحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی ایماء پر پولیس نے شدید تشدد کیا جس سے صحت کے محکمے کے کئی ورکرز شدید زخمی ہوئے،پولیس کے اس تشدد کی ویڈیوزاورتصویریں سوشل میڈیا پر آئیں جس پر حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔اس وحشیانہ تشدد اور جبر کے خلاف خیبر پختونخواہ کے تمام ہسپتالوں میں آوٹ ڈور سروسز بند کردیں گئیں اور تادم تحریر یہ بند ہیں۔لیکن بے ہیمانہ تشدد اور گرفتایوں کے باوجود آج کے دن تک ڈاکٹرز اور محکمہ صحت کا عملہ ایمرجنسی میں کام کررہا ہے۔
اس سب کے باوجود محکمہ صحت کے53ورکرز پر مقدمات قائم کیئے گے اور17ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کے ورکرز گرفتار ہیں اس میں گرینڈہیلتھ الائنس کی قیادت شامل ہے لیکن اس کے باوجود گرینڈہیلتھ الائنس کے تحت ہڑتال اور جدوجہد جاری ہے۔ان حالات میں پولیس کی بھاری نفری ہسپتالوں میں تعینات ہے تاکہ محکمہ صحت کے ورکرز میں خوف وہراس پھیلایا کران کو جدوجہد سے روکا جاسکے۔
تحریک انصاف کے پچھلے دور حکومت میں ٹیچنگ ہسپتالوں میں اصلاحات کے نام پر ایم ٹی آئی کو نافذ کیاگیا تھا اور اب اس عمل کو ضلع وتحصیل کی سطح پر نافذکیا جارہا ہے۔اس کا مقصدہسپتالوں کو تجارتی بنیادوں پر چلانا ہے اس سے ایک طرف جہاں محنت کشوں اور غریبوں کو حاصل مفت اور سستا علاج ختم ہوجائے گا وہاں دوسری طرف ہیلتھ کے محکمے میں کام کرنے والوں کی مستقل نوکریاں ختم ہوجائیں گئیں یہ سب آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت ہورہا ہے جس کا مقصد بڑے سرمایہ دار کو فائدہ پہنچانا ہے۔یہ حقیقت میں نجکاری کا منصوبہ ہے جس کے تحت ہسپتالوں کوگورننگ باڈی چلے گئی۔جو ہسپتال میں مفت علاج کی بجائے منافع کی بنیاد پر چلیں گئیں اور مفت علاچ کی سہولت ختم ہوجائے گی۔ہسپتالوں میں پہلے ہی مریضوں کے نجی معائنے شروع ہوچکے ہیں جس میں مریضوں سے بھاری فیسیں وصول کی جارہی ہیں۔
انقلابی سوشلسٹ موومنٹ مفت وسستے علاج کے خاتمے اور نجکاری کے اس حملے کی شدید مذامت کرتی ہے اور ہم خیبر پختونخواہ کے محکمہ صحت کے ورکرز کی جدوجہد کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔لیکن اس کے ساتھ یہ سمجھتے ہیں حکمران طبقہ اپنے پیدا کردا بحران کا بوجھ محنت کشوں اور غریبوں پر ڈالنا چاہتا ہے تاکہ بڑے سرمایہ داروں کو زیادہ سے زیادہ نوازا جاسکے اور نجکاری کا تعلق بھی اسی حکمت عملی سے ہے اور اس لیے جہاں ایک طرف خیبر پختونخواہ میں گرینڈ الائنس کو ہسپتالوں کی سطح پر ہڑتالی کمیٹیاں تشکیل دینی چاہیں وہاں دیگر اداروں کے محنت کشوں کے ساتھ مل کر نجکاری کے خلاف جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اس وقت گرینڈ ہیلتھ الائنس پنجاب بھی ایم ٹی آئی ایکٹ کے تحت سرکاری ہسپتالوں کی نجکاری کی خلاف احتجاج کررہے ہیں اور واپڈا کے محنت کش بھی نجکاری کے خلاف احتجاجات کر رہے ہیں۔اسی طرح دیگر شعبے کے محنت کش بھی نجکاری اور دیگر ایشواز پر احتجاج کررہے ہیں۔ضرورت اس امرکی ہے ان تمام تحریکوں کے درمیان کے رابطہ کے لیے ورکرز کانفرنس کا انعقاد کیا جائے۔یہ کانفرنس ہڑتالی کمیٹیوں اور دیگر محنت کشوں کے ڈیلیگٹس پر مشتمل ہو،جو نجکاری، ڈاؤن سائزنگ اور اجرتوں میں کمی کے خلاف ایک ملک گیر عام ہڑتال کی اپیل کرئے۔یہی واحد حال ہے جس سے سرمایہ دار طبقہ کے حملے کا جواب دیا جاسکتا ہے بلکہ اس جدوجہد کو سرمایہ داری کے خلاف جدوجہد میں بدلاجاسکتا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here