سوڈان میں ردانقلاب کا حملہ

0
53

خرطوم میں پیر 3جون کو ہونے والا قتلِ عام اس بات کا واضح اظہار ہے کہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی حکومتوں کے لیے بنیادی جمہوری حقوق بھی ناقابل برداشت ہیں۔11اپریل کے انقلاب جس نے عمرالبشار کی آمریت کا خاتمہ کیاتھا اورخاص کر فوجی ہیڈکواٹر کے باہر پانچ ماہ سے جاری دھرنے پر کریک ڈاؤن کیا گیا جس میں سوڈانی ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق اب تک افراد35(نئی اطلاعت کے مطابق 100افراد)ہلاک ہوئے ہیں جس میں ایک آٹھ سال کا بچہ بھی شامل ہے جبکہ116زخمی ہوئے ہیں۔
اس وحشیانہ حملے میں مظاہرین پر براہ راست فائرنگ،سٹن گرنیڈیس پھینکے گے اس کے علاوہ آنسو گیس کا بھی استعمال کیا گیا اور خاص کر نوجوانوں،عورتوں اور بچوں کو چابک مارے گے۔مظاہرین پر ال مسلم اور رائل کیئر ہسپتال میں بھی حملے ہوئے۔بہت سے افراد لاپتہ ہیں اور ایسی اطلاعت ہیں کہ دریا نیل میں بڑی تعداد میں لاشیں پھنکی گئیں ہیں جس کی وجہ سے خدشہ ہے اموات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جو ظاہر کی جارہی ہے۔
ریپڈ سپورٹ فورسز کے بدنام نیم فوجی دستوں کو دارلحکومت میں منگل والے دن تعینات کیا گیا جو دریا نیل پرموجود پلوں کی حفاظت کررہے جوجڑواں شہرعمودورکو ملاتے ہیں اور بکتر بند گاڑیاں شہر میں کے مختلف حصوں میں خوف پھیلا رہیں ہیں۔جنوبی سوڈان اور دارفورمیں نسل پرست جنگوں کے مجرموں کے پاس تما م وجوہات تھیں کہ وہ اس جمہوری انقلاب کو کچلتے جو ان کے وحشیانہ جرائم کو ظاہر کرسکتا ہے۔
سوڈان کا نیا آمرجنرل عبداللہ فتح البرحان عبوری فوجی کونسل کا سربراہ ہے اور اس کا نائب محمدحمدان ڈگالو ”ہیمیٹی“ہے۔اس نے اعلان کیا کہ عبوری فوجی کونسل نے اتحاد برائے آزادی اور تبدیلی کے ساتھ مذاکرات کو ختم کردیا ہے جو سوڈان کے انقلاب کی واحدنمائندہ تنظیم ہے۔حقیقت میں یہ کریک ڈاؤن ناگزیر تھا کیونکہ اتحاد برائے آزادی اور تبدیلی فوج کے سویلین حکومت میں کنٹرول اور شرکت کی مخالف تھی جس میں سویلین حکومت صرف ایک کٹھ پتلی ہوتی اور اس لیے بھی کہ عوام فوجی ہیڈکواٹر کے سامنے دھرنا ختم کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔اس کے علاوہ ایک اہم وجہ 28اور29مئی کی عام ہڑتال تھی جس نے جرنیلوں کو خوف ذدہ کردیا مگر ان کے اقتدار کو ختم نہ کرسکی،یہ ظاہر کرتی ہے کہ انقلابی صورتحال میں عام ہڑتالیں جن کا مقصد صرف احتجاج ہو ناکافی ہوتی ہیں۔
فوجی آمر البرحان نے اب دعوی کیا ہے کہ الیکشن نو ماہ میں ہوں گئیں جس کے لیے گفتگو علاقائی اور عالمی نگرانی میں ہوگی۔بلا شک وشبہ اس کے دماغ میں ریاض اور مصر کی انٹیلی جنس ہے اور اس کے خیال میں وحشیانہ جبر نے تحریک کی کمر توڑدی ہے۔اگر سوڈانی جرنیلوں کو مسلسل بڑی عوامی تحریک کے ذریعے نہیں روکا جاتا تو اگلے عرصے میں گرفتاریوں کی لہراور کارکنان پر تشدد ہوگااور حکومت وفادار اسلامی جماعتوں اور مسلح جتھوں کی طاقت بحال کرئے گی۔عبوری فوجی کونسل مصر طرز کے الیکشن کروانا چاہتی ہے اور اس صورتحال میں صرف ایک جفاکش عوامی تحریک کے تحت ہی آزادانہ الیکشن ممکن ہیں۔
خرطوم اور عمودور میں عوام نے کریک ڈاؤن کا جواب جلی ہوئی گاڑیوں سے مورچہ بنا کردیا۔اب سب کچھ اس پر منحصر ہے کہ کیا سوڈانی ٹریڈ یونینیں مکمل اور غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال کرتی ہیں اور اسے برقرار رکھ پاتی ہیں جن کا دفاع مسلح جتھے کریں اورکیا بہادر نوجوان اور خواتین سڑکوں اور مورچوں پر سپاہیوں تک پہنچتی ہیں اور انہیں آمریت کے خلاف بغاوت کے لیے جیت پاتی ہیں۔
سوڈانی پروفیشنل ایسوسی ایشن نے 3جون کوموجود حکومت کے خاتمے تک سیاسی عام ہڑتال اور سول نافرمانی کی اپیل کی ہے۔انہوں نے پیپلز آرمڈ فورسز اور پولیس سے اپیل کی ہے کہ وہ سوڈان کے عوام کا عبوری فوجی کونسل کے مسلح دستوں،شیڈو برگیڈز اور جنجویڈز سے دفاع کریں اورآمریت کے خاتمے کی عوامی خواہش کا ساتھ دیں تاکہ مکمل طور پرعبوری سویلین حکومت قائم ہوسکے(جنجویڈیز وہ مسلح دستے ہیں جودارفو رمیں بدترین جرائم کے مرتکب ہیں)۔
اب یہ واضح ہے کہ ایک مکمل سماجی انقلاب ہی جو ریاستی ڈھانچے کو تباہ کردے اور سپاہیوں کواُس نظم و ضبط سے آزاد کروائے جس کی وجہ سے انہوں نے عام شہریوں پر گولیاں چلائیں،صرف اسی صورت میں سوڈان کے عوام بنیادی جمہوری حقوق حاصل کرسکتے ہیں جو سامراجی مراکز یورپ اور شمالی امریکہ میں ہیں۔
علاقائی ردانقلاب
شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ کی حکومتیں یہ سمجھتیں تھیں کہ انہوں نے عرب بہار کا خاتمہ کردیا ہے اور وہ عوام کی لوٹ مار کو برقرار رکھ سکتی ہیں وہ مراکش،الجزائر میں بڑے مظاہروں کے دوبارہ ابھرنے اور سوڈان میں انقلاب سے شدید خوف ذدہ ہیں۔
سعودی عرب اور مصرعلاقائی سطح پر ردانقلاب کے داعی اور سوڈان کی خون کی پیاسی فوج کے حامی ہیں،اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ انہوں سوڈانی افواج کو یمن میں نسل پرست جنگ کے لیے کرایہ پر حاصل کر رکھا ہے۔اس کے علاوہ یہ ریاستیں امریکہ کی بااعتماد اتحادی ہیں سعودی عرب نے تین بلین پونڈ دیے ہیں تاکہ سوڈان کو
کو مستحکم کیا جاسکے۔تاہم مئی،میکرون،مرکل اور حتیٰ کہ ٹرمپ عوامی سطح پر جتنا مرضی انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر اظہار افسوس کریں اور تشدد کے خاتمے کی اپیل کریں یہ صرف اپنے عوام کو مطمئن کرنے کے لیے ہے۔لیکن وہ علاقائی قصابوں کو منافع بخش اسلحہ کی ترسیل بند نہیں کریں گئے۔جیسا کہ روزویلٹ نے ایک بارلاطینی امریکہ کے آمر کے بارے میں کہا تھا کہ ”یہ شایدکتیا کا بچہ ہے لیکن یہ ہماری کتیا کا بچہ ہے“۔
سامراجی طاقتیں جن میں اب چین بھی شامل ہے جس نے اپنی لاکھوں کی تعداد میں ایغور عوام کوریوڑوں کی طرح حراستی کیمپوں میں بند کر رکھا ہے اور برما کے جرنیلوں کی حمایت کررہے ہیں جو روہنگیا کی نسل کشی کررہے ہیں اور روس،جوادلیب میں بدترین جبر کی حمایت کررہا ہے۔یقینی طور پر سامراجی ممالک کے آپس میں تضادات اور تنازعات ہیں لیکن یہ سب نوجوانوں،عورتوں اور محنت کشوں کے جذبہ حریت اور آزادی کے لیے جدوجہد کو کچلنے کے لیے متحدہ ہیں۔
سوڈانی عوام کو یورپ،شمالی امریکہ،افریقہ اور ایشیا کے سوشلسٹوں،ٹریڈ یونینسٹوں،عورتوں اور نوجوانوں کی تنظیم کی حمایت کی ضرورت ہے۔ہمیں سوڈانی حکومت اور اس کے اتحادیوں جس میں سعودی عرب بھی شامل ہے کو ملنے والی امداد کے روکنے کے لیے لڑائی کرنی ہوگی۔مئی میں اٹلی کے گودی کے مزدوروں نے جنیوا میں سعودی عرب کے لیے بحری جہاز میں اسلحہ بھرنے سے انکار کردیا تھا جنہیں یمن کے خلاف جنگ میں استعمال کرنا تھا،اسی طرح فرنچ گودی کے مزدوروں نے لی ہارو اورماریسس میں کیا تھا۔
سوشلسٹوں،لیبر پارٹیوں اور ٹریڈ یونین فیڈریشنوں کو ان شاندار مثالوں پر عمل کرتے ہوئے ہر حرب استعمال کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنی حکومتوں کو سعودی عرب کو کسی قسم کی امداد یا اسلحہ کی ترسیل کو روک سکیں۔کیونکہ سعودی عرب نے یمن پر خوفناک جنگ مسلط کررکھی ہے اور اس وجہ سے بھی کہ یہ سوڈانی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی ہوگا۔اس کے لیے ہمیں یونیوسٹیوں اور سکولوں میں اظہار یکجہتی کے لیے مظاہرے منظم کرنے چاہیں۔
دنیا بھر میں تیزی کے ساتھ انقلابی صورتحال اور انقلابات جنم لے رہے ہیں اور یہ انقلابات فرائض عائد کررہے ہیں اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کی ضرورت ہے۔ان حالات میں انقلابی پارٹیوں اور ایک انقلابی انٹرنیشنل کی ضرورت ہے۔جمہوریت،انقلاب،عورتوں اور مزدوروں کے حقوق،محنت کش طبقہ کے اقتدار پر قبضہ کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں،سوڈان جیسے ملک میں کامیابی کے لیے یہ مقاصد لزم وملزوم ہیں لیکن اس کے ساتھ اس انقلاب کو دیگر ممالک میں جاری انقلابی ابھاروں کے ساتھ یکجہتی اور اسے براعظم کی حدود سے آگے پھیلانے کی ضرورت ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here